ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

لکھنؤ : بچوں کو کتابوں کے بجائے سازوسامان کے ذریعہ فراہم کی جارہی ہے تعلیم، پڑھیں تفصیل

ریسرچ اسکالر انامیکا مانتی ہیں کہ صرف بچوں کو کتابیں رٹا دینے ان کے ہاتھوں میں ربر اور پنسلیں دینے سے تعلیم کی فراہمی کے فرائض پورے نہیں پہنچائیں گے

  • Share this:
لکھنؤ : بچوں کو کتابوں کے بجائے سازوسامان کے ذریعہ فراہم کی جارہی ہے تعلیم، پڑھیں تفصیل
صرف بچوں کو کتابیں رٹا دینے ان کے ہاتھوں میں ربر اور پنسلیں دینے سے تعلیم کی فراہمی کے فرائض پورے نہیں پہو پائیں گے

لکھنؤ:اچھی اور بہتر تعلیم کی فراہمی کے لئے وسائل زیادہ ضروری ہیں یا تعلیم کی فراہمی کے نئے طریقہء کار اور حکمت عملی۔یہ اہم سوال ہے ۔اور اس کا جواب بھی مختلف سطحوں پر مختلف ہوتاہے۔جہاں وسائل کا فقدان ہو وہاں نئے تجربات کیسے ممکن ہوسکتے ہیں اور نئے تجربے اور نئے طریقے اپنائے بغیر تعلیمی میدان میں انقلاب کیسے برپا کیاجاسکتاہے ۔تعلیمی میدان میں اہم کاام کرنے والی نیشنل فیوچر ڈسکوری کی تحقیق کے مطابق ہمارے ملک کے بیشتر علاقوں میں جو قدیم تعلیمی نظام رواں دواں ہے اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اہم تحقیقات سے یہ حوائق سامنے آئے ہیں کہ سیلف لئرننگ سسٹم کو اپنانے کے بعد جو نتائج سامنے آئے ہیں ۔وہ نہایت روشن اور حوصلہ افزا ہیں۔ لہٰذا ہمارے ملک میں اس تعلیمی طریقہء کار کو اپنائے جانے کی ضرورت ہے۔


کہا جاتا ہے کہ اگر بنیاد مضبوط ہو تو عمارت مستحکم ہوتی ہے ۔اور بنیاد اسی وقت مضبوط ہوسکتی ہے جب بچوں میں خود اعتمادی پیدا کردی جائے۔لکھنؤ کے گومتی نگر میں نیشنل فیوچر ڈسکوری سے منسلک تعلیمی ریسرچ اسکالر نے یہ تجربے شروع کردئے ہیں ان تجربات کی روشنی میں بچوں کو کتابوں کے ذریعے نہیں بلکہ سازوسامان اور تعلیم سے جڑی اشیا کے ذریعے علم فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور یہ طریقہء کار بلا وجہ نہیں بلکہ اہم تحقیقات کے بعد کئے جارہے ہیں۔ریسرچ اسکالر انامیکا مانتی ہیں کہ صرف بچوں کو کتابیں رٹا دینے ان کے ہاتھوں میں ربر اور پنسلیں دینے سے تعلیم کی فراہمی کے فرائض پورے نہیں پہو پائیں گے موجودہ عہد کے تقاضوں اور اہم نکات کو سمجھتے ہوئے وہ تعلیمی طریقہء کار اپنانے ہون گے جن کو اپنا کر دوسرے ممالک کے لوگوں نے بچوں کی نفسیات کے مطابق انکی ابتدائی بنیادیں مضبوط کی ہیں۔


صرف بچوں کو کتابیں رٹا دینے ان کے ہاتھوں میں ربر اور پنسلیں دینے سے تعلیم کی فراہمی کے فرائض پورے نہیں پہو پائیں گے
صرف بچوں کو کتابیں رٹا دینے ان کے ہاتھوں میں ربر اور پنسلیں دینے سے تعلیم کی فراہمی کے فرائض پورے نہیں پہو پائیں گے


انامیکا نے یہ تجربہ شروع کردیا ہے اور عملی طور پر سامنے آنے والے نتائج سے وہ مطمئن بھی نظر آتی ہیں حالانکہ انامیکا یہ بھی مانتی ہیں کہ ملک کے موجودہ سماجی نظام میں یہ طریقہء کار اپنانے میں لوگوں کو ذرا دیر لگے گی تاہم بڑے شہروں سے مثبت رجحانات کے اشارے ملنے لگے ہیں اور لکھنئو میں بھی یہ تجربہ اطمینان بخش رہا ہے ۔بچوں کے نفسیات پر ریسرچ کررہی اسکالر پریت کور کہتی ہیں کہ بچوں کو کھیل کھیل میں جو تعلیم دیدی جاتی ہے وہ بہت کارگر ثابت ہوتی ہے ان پر کوئی دباؤ ڈالےبغیر ج وکچھ سکھایا جاتا ہے اسے بچے جلدی قبول کرتے ہیں اور وہ چیزیں ان کے ذہن میں جلد نقش بھی ہوجاتی ہیں۔ہمارے سماج میں پہلے سے چل رہے تعلیمی نظام میں کہیں نہ کہیں اس کمی کا احساس ہوا ہے کہ بچوں کے نفسیات کو مکمل طور پر سمجھے بغیر ہی ان پر کتابوں اور کاپیوں کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے جس سے بچوں کے ذہنوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔لہٰذا سیلف لئرننگ پروسز کو بڑے پیمانے پر اپنائے جانے کی ضرورت ہے۔

 بنیاد اسی وقت مضبوط ہوسکتی ہے جب بچوں میں خود اعتمادی پیدا کردی جائے۔
بنیاد اسی وقت مضبوط ہوسکتی ہے جب بچوں میں خود اعتمادی پیدا کردی جائے۔


ماہرین تعلیم یہ بھی مانتے ہیں کہ ہندوستان میں تعلیم فراہمی کے کئی طریقے اس لئے کارگر نہیں ہوپاتے کہ یہاں کی غریبی اور بے انتہا عدم توجہی جدید تعلیمی طریقوں کو قبول نہیں کرپاتی ۔اس کے لئے ابتدائی سطح پر تےعلیم کے ساتھ ساتھ لوگوں کو بیدار کرنے ان کی ذہنسازی کرنے کے لئے تشہیری مہمیں اور اسی انداز کے دیگر پروگرام چلانے کی ضرورت ہے۔
First published: Feb 09, 2020 07:18 PM IST