உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    1لاکھ کی لاگت سے شروع کریں یہ کاروبار، ہر مہینے ہوگی 8 لاکھ تک کی کمائی، حکومت کرے گی مدد

    کیونکہ اس کی ڈیمانڈ سال بھر رہتی ہے اس لئے اس کی کھیتی ہمیشہ منافع بخش ہی ثابت ہوتی ہے۔

    کیونکہ اس کی ڈیمانڈ سال بھر رہتی ہے اس لئے اس کی کھیتی ہمیشہ منافع بخش ہی ثابت ہوتی ہے۔

    یوپی کے ایک کسان درگا پرساد جو کھیرے کی کاشت کرکے لاکھوں میں کما رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کھیتی باڑی میں منافع کمانے کے لیے انہوں نے اپنے کھیتوں میں کھیرے بوئے ہیں اور صرف 4 ماہ میں 8 لاکھ روپے کما لیے ہیں۔ اس نے اپنے کھیتوں میں ہالینڈ کے کھیرے بوئے تھے۔

    • Share this:
      نئی دہلی:کیا آپ اپنے بورنگ کام سے تنگ ہیں؟ اور اگر آپ اپنا کاروبار شروع کرنے کا سوچ رہے ہیں تو آپ کے پاس بہت اچھا موقع ہے۔ جی ہاں… اگر آپ اپنا کاروبار شروع کرنا چاہتے ہیں (How to start own business) مزید پیسے کمانے کے لیے۔ تو آج ہم آپ کو ایک زبردست بزنس آئیڈیا(Business Idea)کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ جہاں آپ کم رقم خرچ کرکے (Business at small level investment)بڑی رقم کما (How to earn money)سکتے ہیں۔

      اس کے لئے سب سے اچھا آئیڈیا ہے کھیرے کی کھیتی(Cucumber Farming)۔ اس سے آپ کو کم وقت میں زیادہ پیسے کمانے کا موقع (Earning Money) مل جائے گا ۔

      کھیرے کی پیداوار شروع کر کے کمائیں لاکھوں روپیے
      بتادیں کہ اس فصل کا ٹائم سائیکل 60 سے 80 دنوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔ ویسے کھیرا گرمیوں کے موسم میں اگایا جاتا ہے۔ لیکن بارش کے موسم میں کھیرے کی فصل زیادہ ہوتی ہے۔ کھیرے کو ہر قسم کی زمین میں کاشت کیا جا سکتا ہے۔ کھیرے کی کاشت کے لیے زمین کا پی ایچ۔ 5.5 سے 6.8 اچھا سمجھا جاتا ہے۔ کھیرے کی کاشت دریاؤں اور تالابوں کے کناروں پر بھی کی جا سکتی ہے۔ تو آئیے جانتے ہیں کھیرے کی کاشت کا کاروبار کیسے کریں؟

      حکومت سے سبسڈی لے کر شروع کریں کاروبار
      یوپی کے ایک کسان درگا پرساد جو کھیرے کی کاشت کرکے لاکھوں میں کما رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کھیتی باڑی میں منافع کمانے کے لیے انہوں نے اپنے کھیتوں میں کھیرے بوئے ہیں اور صرف 4 ماہ میں 8 لاکھ روپے کما لیے ہیں۔ اس نے اپنے کھیتوں میں ہالینڈ کے کھیرے بوئے تھے۔ درگا پرساد کے مطابق، وہ پہلے کسان ہیں جنہوں نے ہالینڈ سے اس قسم کے ککڑی کے بیج بوئے۔

      اس میں خاص بات یہ ہے کہ اس نوع کے کھیرے میں کوئی بیج نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ سے بڑے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں کھیرے کی بہت مانگ ہے۔ درگا پرساد بتاتے ہیں کہ اس نے باغبانی محکمہ سے 18 لاکھ روپے کی سبسڈی سے فارم میں ہی سیڈ نیٹ ہاؤس بنایا تھا۔ سبسڈی لینے کے بعد بھی مجھے اپنے طور پر 6 لاکھ روپے خرچ کرنے پڑے۔ اس کے علاوہ اسے نیدرلینڈ سے 72 ہزار روپے کا بیج ملا ہے۔ بیج بونے کے 4 ماہ بعد اس نے 8 لاکھ روپے کی کھیرے بیچے۔

      کیوں ڈیمانڈ میں ہے یہ کاروبار
      اس کھیرے کی خاصیت یہ ہے کہ اس کی قیمت عام کھیرے کے مقابلے دو گنی تک ہوتی ہے۔ جہاں دیسی کھیرا 20 روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے وہیں نیدرلینڈ کے بیچ وال ایہ کھیرا 40 سے 45 روپے فی کلو فروخت ہورہا ہے۔ حالانکہ، سبھی طرح کے کھیروں کی سال بھر ڈیمانڈ رہتی ہے۔ مارکیٹنگ کے لئے آپ سوشل میڈیا کا سہارا لے سکتے ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: