உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایک ہی مرتبہ 50 ہزار روپے سے شروع کریں یہ کاروبار، 1 لاکھ سے زیادہ ہوگی کمائی، حکومت کرے گی مدد

    ڈرم اسٹک کا قریب قریب ہر حصہ کھانے لائق ہوتا ہے۔

    ڈرم اسٹک کا قریب قریب ہر حصہ کھانے لائق ہوتا ہے۔

    ایک ایکڑ میں قریب 1،200 پودے لگائے جاسکتے ہیں۔ ایک ایکڑ میں ڈرم اسٹک کا پودا لگانے کا خرچ قریب 50 سے 60ہزار روپے آئے گا۔ سہجن کی صرف پتیاں بیچ کر آپ سالانہ 60 ہزار روپے تک کما سکتے ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: اگر آپ بھی نوکری کی وجہ سے پریشان ہیں اور کوئی نیا بزنس شروع کرنے کی سوچ رہے ہیں تو ہم آپ کو بتا رہے ہیں ایک ایسے بزنس کے بارے میں (Business Idea) جس کو آسانی سے شروع کرکے آپ اچھی کمائی کرسکتے ہیں۔ آج کل سہجن کی کھیتی (drumstick farming) پر لوگوں کا فوکس تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ سہجن کی کھیتی کسانوں کے لئے اب اور فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔ اس کے لئے آپ کو زیادہ بڑی زمین کا حصہ نہیں چاہیے۔

      اس کی کھیتی کرنے کے 10 مہینے بعد ایک ایکڑ میں کسان 1 لاکھ روپے کما سکتے ہیں۔ سہجن ایک میڈیسنل پلانٹ ہے۔ کم لاگت میں تیار ہونے والی اس فصل کی خاصیت یہ ہے کہ اس کی ایک بار بوائی کے بعد چار سال تک بوائی نہیں کرنی پڑی ہے۔ ہم آپ کو آج سہجن کی کھیتی کے بارے میں بتارہے ہیں۔

      سہجن (ڈرم اسٹک)کی کھیتی۔ سہجن ایک میڈیسنل پلانٹ بھی ہے۔ ایسے پودوں کی کھیتی کے ساتھ اس کی مارکیٹنگ اور ایکسپورٹ بھی کرنا آسان ہوگیا ہے۔ بھارت ہی نہیں پوری دنیا میں صحیح طریقے سے اُگائی گئی میڈیسنل کراپ کی کافی ڈیمانڈ رہتی ہے۔

      سہجن کو انگریزی میں ڈرم اسٹک (Drumstick) بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا سائنسی نام مورینگا اولیفیرا ہے۔ اس کی کھیتی میں پانی کی بہت زیادہ ضرورت نہیں ہوتی اور دیکھ بھال بھی کم کرنا پڑتا ہے۔ سہجن کی کھیتی کافی آسان ہوتی ہے اور آپ بڑے پیمانے پر نہیں کرنا چاہتے تو اپنی عام فصل کے ساتھ بھی اس کی کھیتی کرسکتے ہیں۔ یہ گرم علاقوں میں آسانی سے پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کو زیادہ پانی کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ سرد علاقوں میں اس کی کھیتی بہت منافع بخش نہیں ہوپاتی، کیونکہ اس کا پھول کھلنے کے لئے 25 سے 30 ڈگری درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے۔

      یہ خشک یا چکنی مٹی میں اچھی طرح بڑھتا ہے۔ پہلے سال کے بعد سال میں دو بار پیداوار ہوتی ہے اور عام طور پر ایک پیڑ 10 سالوں تک اچھا پیداوار کرتا ہے۔ اس کی اہم قسمیں ہیں۔ کوئمبتور 2، روہت1، پی کے ایم 1، اور پی کے ایم2۔

      ڈرم اسٹک کا قریب قریب ہر حصہ کھانے لائق ہوتا ہے۔ اس کی پتیوں کو بھی آپ سلاد کے طو رپر استعمال کرسکتے ہیں۔ اس کے پتے، پھول اور پھل سبھی کافی غذائیت والے ہوتے ہیں۔ اس میں ادویاتی خصوصیات بھی ہوتی ہیں۔ اس کے بیج سے تیل بھی نکالا جاتا ہے۔ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ڈرم اسٹک کے استعمال سے 300 سے زیادہ بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے۔

      عالمی سطح پر بڑھ رہی ہے مانگ
      سالوں سے ڈرم اسٹک کا استعمال علاج اور انسانی جسم کو فائدہ پہنچانے والی خصوصیات کی وجہ سے کیا جاتا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے اس کی عالمی سطح پر مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔ اس کے پیداوار اور ایکسپورٹ کو بڑھاوا دینے کے لئے زرعی اور پروسسینگ فوڈ پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (اے پی ڈا) پرائیوٹ یونٹوں کو مدد کررہا ہے۔ جو ضروری سہولیات تیار کررہے ہیں۔ اسی کے نتیجے میں کچھ دنوں پہلے ہی دو ٹن آرگینک سہجن کے پاوڈر کا ایکسپورٹ امریکہ کو ہوائی کے ذریعے کیا گیا۔

      جانیں، کتنی ہوگی کمائی؟
      گورکھپور کے کسان اویناش کمار کے مطابق، ایک ایکڑ میں قریب 1،200 پودے لگائے جاسکتے ہیں۔ ایک ایکڑ میں ڈرم اسٹک کا پودا لگانے کا خرچ قریب 50 سے 60ہزار روپے آئے گا۔ سہجن کی صرف پتیاں بیچ کر آپ سالانہ 60 ہزار روپے تک کما سکتے ہیں۔ وہیں، سہجن کا پروڈکشن کرنے پر آپ سالانہ 1 لاکھ روپے سے زیادہ کی کمائی کرسکتے ہیں۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: