உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اب ایک ساتھ کرپائیں گے دو ڈگری کورس کی پڑھائی، UGC چیئرمین نے کہا- یونیورسٹی کی مرضی پر منحصر کرے گا اس طرح کا کورس کرنا

    بیک وقت دو کورسس کرنے سے متعلق یو جی سی جلد جاری کرے گی گائیڈلائنس۔

    بیک وقت دو کورسس کرنے سے متعلق یو جی سی جلد جاری کرے گی گائیڈلائنس۔

    اس اقدام سے طلبہ کا وقت بچ جائے گا۔ وہ ایک ہی وقت میں دو مختلف یونیورسٹیوں سے دو مختلف کورسز پڑھ سکیں گے۔ یہ اقدام تمام کورسز کی سطح پر لاگو ہوگا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: طلباء اب بیک وقت دو ڈگری کورسز کر سکیں گے۔ یہ کورس یا تو صبح اور شام کی شفٹوں میں ہو سکتے ہیں یا ایک فزیکل موڈ میں ہو سکتا ہے اور دوسرا آن لائن موڈ میں ہو سکتا ہے۔ دونوں کورسز کی تعلیم آن لائن طریقے سے بھی کی جا سکتی ہے۔ ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ فزیکل موڈ میں ہی دو کورسز میں داخلہ لے کر طلبہ کے سامنے حاضری کا کوئی مسئلہ نہ ہو۔ تاہم ایسا کورس کرانا یا نہ کرنا یونیورسٹیوں کی مرضی پر ہوگا۔ اس حوالے سے آئندہ ایک دو روز میں گائیڈ لائن جاری کر دی جائے گی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      NCPCR: این سی پی سی آر 11 اپریل سے 31 مئی تک منائے گا پریکشا پرو 4.0 پروگرام، کیاہےخاص؟

      یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) کے چیئرمین ایم جگدیش کمار نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایک ہی یونیورسٹی یا یہاں تک کہ مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء دو ڈگری کورس کر سکتے ہیں۔ نئی قومی تعلیمی پالیسی (National Education Policy, NEP) میں دو ڈگری کورسز متعارف کرانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ اس میں طلباء کو داخلے اور خارجی راستے فراہم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Classes with News18: جانیے ہندوستانی عدالتی نظام کیسے کرتا ہے کام؟ ججوں کی تقرری کیسے؟

      سبھی کورسوں کے لیول پر ہوگی یہ پہل لاگو
      اس اقدام سے طلبہ کا وقت بچ جائے گا۔ وہ ایک ہی وقت میں دو مختلف یونیورسٹیوں سے دو مختلف کورسز پڑھ سکیں گے۔ یہ اقدام تمام کورسز کی سطح پر لاگو ہوگا۔ یعنی بیچلر، ماسٹرز اور سرٹیفکیٹ جیسے کورسز بھی اس میں شامل ہوں گے۔ بتادیں کہ UGC نے حال ہی میں NEP کی سفارشات کی تعمیل کرتے ہوئے مرکزی یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے مشترکہ داخلہ امتحان منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جسے CUET (کامن یونیورسٹی انٹرنس ٹیسٹ) کا نام دیا گیا ہے۔ اس کے تحت تمام مرکزی یونیورسٹیوں میں داخلہ دیا جائے گا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: