உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Study in America: زندگی کے لیے قوت ارادی ضروری، کورس ورک کے ساتھ بہتر تعلقات بھی امریکی زندگی کا اہم حصہ

    بہتر تعلقات امریکی زندگی کااہم حصہ ہے۔

    بہتر تعلقات امریکی زندگی کااہم حصہ ہے۔

    کسی امریکی یونیورسٹی کے گریجویٹ کورس کا تعلق صرف کورس ورک اور تحقیق سے نہیں ہوتا ، بلکہ نئے تجربات اورخود کو دریافت کرنے سے بھی ہوتا ہے ۔

    • Share this:
      سِڈتھا تھم

      امریکہ میں حاصل کی جانے والی تعلیمی ڈگری کو اکثر بہتر کریئر کے امکانات اور ملازمت کی سلامتی سے منسلک کیا جاتا ہے لیکن اس کے دوران سیکھنے کے جو انمول تجربے ہوتے ہیں) جن کا تعلق صرف ہمارے کورس کے مواد سے نہیں ہوتا ہے بلکہ ہماری زندگی سے بھی ہوتا ہے( ہم انہیں فراموش کرنے کا رجحان اختیار کر لیتے ہیں۔ میں نے ہمیشہ اس بات پر یقین کیا ہے کہ اپنے خاندان اور دوستوں سے کنارہ کش ہو کر دنیا بھر کے لوگوں کے درمیان رہنے کے لیے اپنی پہلی پرواز میں ہزاروں میل کے سفر کا مقصد محض تعلیمی سرگرمیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ میں نے چھ یونیورسٹیوں میں درخواست دی تھی، ان میں سے پانچ میں میرا انتخاب ہوگیا اور بالآخر میں نے ۲۰۱۲ءکے موسم خزاں میں یونیورسٹی آف سنسناٹی(یو سی) سے کیمیکل انجنیئرنگ میں ماسٹرڈگری لینے کا کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔

      ’’گریجویشن کی زندگی‘‘ کے تعلق سے میرے ذہن میں ایک مبہم خیال تھا مگر سنسناٹی پہنچنے اور ساتھی گریجویٹ طلبہ سے بات چیت کرنے پرمجھے اس کی حقیقت معلوم ہوئی ۔ میرے بعض ساتھی گریجویٹ طلبہ نے کہا کہ اس کا تعلق کورس ورک اور تحقیق سے ہے جبکہ بعض نے کہا کہ اس کاتعلق ادب کے پڑھنے سے اور آپ کے مقالہ لکھنے سے ہے جو آپ کی نیند اڑانے کے لیے کافی ہے ۔ لوگوں کے ایک مختلف گروہ نے کہا کہ یہ طالب علمی کے دوران ملازمت کی تلاش ہے جس کے لیے خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت زیادہ ہوگی۔

      رد عمل کے تعلق سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ ذاتی تجربات پر مبنی تھے اور سب ایک دوسرے سے مختلف تھے۔ اس سے مجھے احساس ہوا کہ میرے تجربات ان سب سے بہت منفرد ہو سکتے ہیں۔ اکثرخود سے میرا سوال ہوا کرتا’’جب میں یہاں سے واپس لوٹوں گا تو اپنی ڈگری کے علاوہ اورکیا لے کر جاؤں گا؟‘‘گریجویشن کی زندگی کے دوران یہ سوال خود کے بارے میں جاننے کے لیے میرا رہنما اصول رہا ۔ میں نے کالج کی زندگی کا بھی بغور مشاہدہ کیا جس سے طلبہ گزرا کرتے تھے۔ میں خود سے پوچھا کرتا ’’گریجویشن کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں ہر اس چیز کا تجربہ کیسے کر سکتا ہوں جو وہ کیا کرتے تھے اور ان چیزوں کے تعلق سے میں پوچھا کرتا تھا جنہیں میں اپنی کالج کی زندگی کے دوران نہیں کر پایا تھا؟‘‘

      ان سوالات کے جواب تلاش کرنے کا سب سے آسان طریقہ کیمپس کی زندگی میں شامل ہونا تھا۔ میں انڈین اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن کا صدررہ چکا ہوں، دو بار گریجویٹ اسٹوڈنٹ باڈی کا نائب صدررہا ہوں، یوسی صدر کی سرچ کمیٹی کا حصہ رہا ہوں، ہائپر لوپ یوسی کے لیے بزنس لیڈ اور یوسی کے لیے بین الاقوامی سفیر رہ چکا ہوں۔ اس کے علاوہ میں نے ’ٹیڈ ایکس یو سی‘ اور ’ٹیڈ ایکس سنسناٹی‘ میں بھی حصہ لیا ہے۔

      کیمپس میں گزرے میرےا وقات اور پیشہ ورانہ اور تعلیمی مواقع اور ثقافتی تنوع کی مختلف اقسام نے مجھے ایک شخص کے طور پر ترقی کرنے میں میری مدد کی۔ کیمپس کی سرگرمیوں میں میری شمولیت نے تنوع اور شمولیت کے ساتھ ساتھ مساوات کے بارے میں سیکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ نسلی طور پرہم نسل ملک میں ہی رہنے والے بین الاقوامی طلبہ کے لیے اس تنوع اور شمولیت کی قدر ایک نامانوس تصور ہے۔

      امریکہ میں جس طرح کا ثقافتی تنوع پایا جاتا ہے وہ کہیں اور نہیں ملتا ۔ یوسی کے نسلی بیداری پروگرام (آر اے پی پی) کے ساتھ میری شمولیت ایک چشم کشا تجربہ تھا جس نے امریکہ میں زندگی کو سمجھنے اور دیگر مقامات کے لوگوں کے تئیں میری سمجھ میں بہت تعاون کیا ۔ میں نے سیکھا ’’مختلف تقریبات میں تنوع کو اہمیت دی جارہی ہے اورشمولیت کا خیال رکھا جارہا ہے۔‘‘

      یوسی کے نسلی بیداری پروگرام کے دوستوں کے ذریعے، مجھے ’ٹیڈ ایکس سنسناٹی‘ کا تین سال تک رضاکار بننے کا موقع ملا۔ بھارت میں پرورش پانے والے بچے کے طور پر میری ہمیشہ سے خواہش ٹیڈ ایکس تقریب کو براہ راست دیکھنے کی رہی ہے کیونکہ اس وقت میرے شہر میں اس کا بڑے پیمانے پر اہتمام نہیں ہوتا تھا ۔ اس دوران میں کیمپس میں پہلی بار ’ہائپر لوپ ٹیم‘ کا بھی حصہ رہا اور مجھے طلبہ کی ٹیم کے بارے میں ٹیڈ ایکس مذاکرات کا موقع ملا تھا۔ ۸۰۰ سے زائد افراد کے سامنے بات کرنا اعصاب شکن تھا لیکن مجھے اسٹیج پر کھڑے ہونے کے خوف پر قابو پانا تھا۔ میں ہمیشہ محسوس کیا کرتا تھا کہ بات چیت میں حصہ لینا میرے لیے ایک دور کا خواب تھا لیکن اب حالات یہ ہیں کہ اب تک میں نے چار مذاکرات کی قیادت کی ذمہ داری سنبھال لی ہے ۔

      اس سفر میں میرے لیے کئی یادگار چیزیں رہیں جن میں ’ہیلووین‘ کے لیے میرے پہلے کوسپلے (ڈریسنگ اپ) اور فلموں میں سنے گئے مشہور’ گرل اسکاؤٹ کوکیز‘ کھانے سے لے کر ان مقامات کا دورہ تک شامل ہیں جہاں میری کچھ پسندیدہ فلموں کی شوٹنگ ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ وہ کھانے بھی شامل ہیں جسے خلاباز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر کھاتے ہیں۔ وہ چیزیں جن کا میں نے خواب بھی نہیں دیکھا تھا ان چیزوں کو انجام دینے کا بھی مجھے شرف حاصل ہوا جن میں عالمی بینک میں بات کرنے سے لے کر ہاورڈ شولٹز اور ایلون مسک کے ساتھ چلنے تک کے واقعے شامل ہیں۔

      تاہم ان ناقابل یقین تجربات اور کامیابیوں کی طرف سفر ہمیشہ آسان نہیں تھا۔ بعض اوقات وقت بچانے کی خاطر میں کیمپس میں میز کے نیچے سوجایا کرتا ۔ پکا ہوا کھانا میرے لیے عیش و آرام کی چیز تھی۔ مجھے اکثر
      کافی، مونگ پھلی بٹراور سیب پر گزارا کرنا پڑتا ۔ میں ہمیشہ اپنے دوستوں اور اپنے کنبے کے لیے وقت بھی نہیں نکال پاتا تھا ۔ میں قریب قریب آٹھ برس تک اپنے گھر واپس نہیں آپایا۔ میرا خاندان، میرے دوست اور میں جس شہر میں پلا بڑھا، وہ سب اب مجھے بہت مختلف نظر آتے ہیں۔

      گریجویٹ اسکول میں پانچ برس گزارنے، دو گریجویٹ ڈگریاں لینے اور پھر ماسٹر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (ایم بی اے) کی ڈگری حاصل کرنے کے دوران مجھے احساس ہوا کہ میرے دوستوں نے مجھے جو بتایا تھا وہ درست تو تھا مگر جزوی طور پر۔ میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ امریکہ میں ایک بین الاقوامی طالب علم کی زندگی میں بہت ساری چیزیں رونما ہوتی ہیں۔ آپ اس سے جو بھی چاہتے ہیں، وہ واقعی حاصل کر سکتے ہیں۔ آپ جتنا زیادہ دیں گے، اتنا ہی زیادہ پائیں گے۔

      میں نے ۲۰۱۲ءمیں یہاں ایک طالب علم کے طور پر اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا اور ۲۰۱۷ءمیں گریجویشن مکمل کر لیا تھا ۔ میں اس وقت سے یونیورسٹی میں خدمات انجام دے رہا ہوں۔ میں بنیادی طور پر اب یونیورسٹی پاور پلانٹ میں بطور انرجی انجینئر کام کرتا ہوں ۔ اس کے علاوہ گاہ گاہ تدریسی خدمات بھی انجام دیتا ہوں ۔ مجھے سنسناٹی میں منتقل ہوئے قریب قریب ایک دہائی کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس دوران میں نے پہلے ایک طالب علم اور پھر اب ایک ملازم کے طور پر کیمپس سے باہر کے مقابلے کیمپس کے اندر زیادہ وقت گزارا ہے۔ یہ یونیورسٹی میری زندگی کا ایک اہم حصہ ہے اور گھر سے دور ایک گھر بھی ۔ یہاں کے لوگوں کے ساتھ اس جگہ نے مجھے بہت کچھ سکھایا ہے اور خود کو دوبارہ دریافت کرنے میں میری مدد کی ہے۔ گذشتہ دس سال میری زندگی میں اب تک کے سب سے مشکل ترین سال رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ سب سے زیادہ دلچسپ بھی رہے ہیں۔

      لہٰذاجب آپ امریکہ منتقل ہو رہے ہوں تو چیزوں کے بارے میں جانیں۔ موقع کا فائدہ اٹھائیں اور اس سے زیادہ سے زیادہ حاصل کریں۔ میں نےخود بھی ایسا ہی کیا ہے۔ امریکہ میں میری طالب علمی کی زندگی نے مجھے ایسی جگہوں تک جانے کا موقع فراہم کیا، جن کے بارے میں میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ جا پاؤں گا۔اس نے مجھے وہ کام کرنے کا اختیار دیا جس کے بارے میں بھی میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کر پاؤں گا۔ اس دوران مجھے پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن اس کا مجھے کوئی افسوس نہیں ہے۔ میں نے سنسناٹی یونیورسٹی میں اپنی تعلیمی زندگی کا آغاز ایک بین الاقوامی طالب علم کے طور پر کیااور اب میر ا عزم ہے کہ میری باقی زندگی سنسناٹی کے ساتھ ہی منسلک رہے۔

      سِڈ تھاتھم سنسناٹی یونیورسٹی میں انرجی انجینئر اور معاون ایسوسی ایٹ پروفیسرہیں۔
      https://bit.ly/3ElVYe0
      بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ ، نئی دہلی
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: