உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Jobs in Telangana: تلنگانہ میں 80 ہزار نئی نوکریوں کا اعلان، لیکن پہلے سے وعدہ شدہ اردو کی 558 ملازمتیں ہنوز خالی!

    مظاہرین نے اردو اساتذہ کی خالی آسامیوں پر بھرتیوں کا مطالبہ کیاہے

    مظاہرین نے اردو اساتذہ کی خالی آسامیوں پر بھرتیوں کا مطالبہ کیاہے

    تلنگانہ حکومت کی جانب سے سال 24-2023 سے انگریزی میڈیم اسکولز کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اس پر محمد معز الدین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اردو کی یہ 500 سے زائد آسامیاں یا تو ختم کردی جائیں گی یا پھر اسے غیر اردو داں امید وار حاصل کرلیں گے۔

    • Share this:
    تلنگانہ بجٹ اجلاس 23-2022 کے دوران آج پیر 14 مارچ 2022 کو قانون ساز اسمبلی کے سامنے تقریباً 80 سے زائد نوجوانوں نے احتجاج کیا ہے۔ اسی دوران ان میں سے کئی نوجوانوں کو تلنگانہ پولیس نے حراست میں لے کر انھیں شہر کی کئی پولیس تھانوں میں محصور رکھا ہے۔ جس میں بیگم بزار پولیس اسٹیشن، عابڈز پولیس اسٹیشن اور رام گوپال پیٹ (سکندرآباد) پولیس اسٹیشن شامل ہیں۔ ان احتجاج کرنے والوں میں خواتین کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔ احتجاج کے دوران ایک خاتون کے گود میں بچہ بھی دیکھا گیا۔

    یہ احتجاج سال 2017 میں اساتذہ کی بھرتیوں سے متعلق امتحان ٹی آرٹی 2017 یعنی Teacher Recruitment Test 2017 کے ضمن میں کیا گیا ہے۔ مظاہرین نے اردو اساتذہ کی خالی آسامیوں پر بھرتیوں کا مطالبہ کیاہے، لیکن پولیس نے انھیں احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی  اور کئی ایک مظاہرین کو حراست میں لیکر انہیں پولیس اسٹیشن منتقل کردیاگیا۔ اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ اکتوبر 2017 میں ٹیچر ریکروٹمنٹ ٹیسٹ کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا تھا اور مارچ 2018 میں اردو میڈیم اساتذہ کی تقرری کے لیے امتحان منعقدہوا تھا۔

    آخر کیا ہے معاملہ؟

    نیوز 18 اردو ڈاٹ کام مورخہ 17 ستمبر 2019 میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق تلنگانہ میں اردو اساتذہ کی خالی آسامیوں پربھرتیوں کے لیے میٹنگ کے انعقاد کا اعلان کیا گیا تھا۔ تلنگانہ کی وزیرتعلیم سبیتا اندرا ریڈی نے اسمبلی میں مجلس اتحادالمسلمین کے ارکان اسمبلی کوثر محی الدین اور محمد معظم خان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے یہ بات کہی تھی۔ سبیتا اندراریڈی نے کہا تھا کہ 2017 میں 8729 اساتذہ کی خالی آسامیوں کو تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سرویس کمیشن (Telangana State Public Service Commission) کے ذریعہ پُر کیا گیا اور حکومت نے اردو میڈیم کی 900 خالی آسامیوں کو پُر کرنے کا فیصلہ کیا جس میں سے صرف 336 آسامیوں پر ہی امیدوار اہل قرار دیئے گئے۔

    سابق میں تلنگانہ اسٹیٹ اُردوٹرینڈ ٹیچرس اسوسی ایشن کے نمائندے مجلس اتحادالمسلمین کے فلورلیڈراکبرالدین اویسی سے نمائندگی کرچکے ہیں۔
    سابق میں تلنگانہ اسٹیٹ اُردوٹرینڈ ٹیچرس اسوسی ایشن کے نمائندے مجلس اتحادالمسلمین کے فلورلیڈراکبرالدین اویسی سے نمائندگی کرچکے ہیں۔


    مذکورہ خبر کے مطابق سال 2008 ڈی ایس سی میں ایس سی، ایس ٹی اور بی سی زمرہ کے لئے محفوظ قرار دی گئی اردو میڈیم کی آسامیوں کو ڈی ریزرو (غیر محفوظ) کرنے کے لئے حکومت نے جی او 72,74 جاری کیا تاہم ان جی اوز کو اے پی اڈمسٹریٹیو ٹریبونل اور ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا۔

    یہ بھی پڑھیں: تلنگانہ : اردو میڈیم اساتذہ کی خالی اسامیوں پرجلد ہوسکتی ہے بھرتی، آئندہ 2دنوں میں ہوگا اجلاس

    نیوز 18 اردو سے گفتگو کے دوارن احتجاج میں شریک محمد معز الدین نے بتایا کہ وہ خود اور ان کے دیگر ساتھی اس امتحان کے امید وار ہیں۔ اردو اساتذہ کی جملہ 558 آسامیوں پر بھرتی کے لیے کئی امیدوار اب بھی منتظر ہیں اور یہ احتجاج اسی ضمن میں تلنگانہ اسمبلی کے روبرو مظاہرہ  کرتے ہوئے اس معاملہ کو اربابِ اقتدار تک پہنچانے کی کوشش کررہے تھے۔ لیکن پولیس نے انہیں ایسا کرنے نہیں ہے۔ محمد معز کا کہناہے کہ حکومت اس اردو میڈیم اساتذہ کی تقرری کو لیکر غیر سنجیدہ ہے۔ وہ اس پر کسی بھی طرح توجہ دینا نہیں چاہ رہی ہے۔ ہر بار اسمبلی میں صرف اعلان کیا جاتا ہے اور ایوان میں وعدے کیے جاتے ہیں۔ سیاسی و سماجی قائدین اس بات کا تیقن دے رہے ہیں کہ وہ اس مسئلہ کو حل کروائیں گے۔ لیکن جیسے ہی اسمبلی اجلاس اور انتخابات ختم ہوجاتے ہیں، تو اس مسئلہ کو برف داں کے حوالہ کردیتے ہیں۔

     تلنگانہ پولیس کے سامنے احتجاج کرتے نوجوان
    تلنگانہ پولیس کے سامنے احتجاج کرتے نوجوان


    محمد معز الدین نے نیوز 18 اردو سے گفتگو کے دوارن بتایا کہ گذشتہ چار سال سے مجلس اتحادالمسلمین کے صدر بیرسٹر اسد الدین اویسی، اکبر الدین اویسی اور دیگر مجلسی ارکان اسمبلی سے مسئلہ کے فوری حل کے لیے نمائندگی بھی کی گئی۔ محمد معز الدین نے کہا کہ مذکورہ لیڈران کی طرف سے ہمیشہ  یہ یقین دلایاجاتاہے کہ ’ہم صرف مسئلہ پر ایوان میں توجہ دلاتے ہیں۔ ہم حکومت نہیں ہے‘۔ منتخبہ نمائندوں کے اس رویہ پر احتجاجی امیدواروں کا  کہنا ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین اس مسئلہ کو حل نہ کرا سکیں تو فائدہ کیا ہے؟

    مسئلہ کا فالو اپ:

    سال 2017 کے بعد سے 2022 تک بھی یہ مسئلہ حل نہیں ہوا ہے۔ اس کی کیا وجوہات ہیں؟ اس سوال پر محمد معز الدین نے نیوز 18 اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ مسئلہ کو سیاسی لیڈران کی جانب سے ہنوز حل نہیں کیا جارہا ہے اور وہ اس کا فالو اپ بھی نہیں کررہے ہیں۔ کسی بھی مسئلہ کے حل کے لیے فالو اپ ضروری ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کے حل کے لیے ہرسال باضابطہ بجٹ اجلاس اور سرمائی اجلاس سے قبل توجہ دلائی جاتی ہے۔

    ٹی ایس اردو اساتذہ سے متعلق آر ٹی آئی
    ٹی ایس اردو اساتذہ سے متعلق آر ٹی آئی


    یہ بھی پڑھیں: Jobs in Telangana: تلنگانہ میں کونسے محکمہ میں ہیں خالی آسامیاں؟ کہاں کہاں ہیں ملازمتیں، جانیے مکمل تفصیلات

    تلنگانہ کے وزیر اعلی کے چندر شیکھر راؤ نے تو 9 نومبر 2107 کو اعلان بھی کیا تھا کہ ساری آسامیوں پر تقررات عمل میں لائے جائیں گے۔ مگر انھوں نے بھی اس مسئلہ کو اب تک حل نہیں کیا۔ محمد معز الدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیرتعلیم سبیتا اندرا ریڈی سے اب تک کم از کم 25 بار ملاقات کی گئی ہے۔ انھوں نے بھی صرف حامی بھری اور سی ایم کے سی آر کے پاس فائل ہونے کی بات کہی۔

    تلنگانہ حکومت کی جانب سے سال 24-2023 سے انگریزی میڈیم اسکولز کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ اس پر محمد معز الدین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اردو کی یہ 500 سے زائد آسامیاں یا تو ختم کردی جائیں گی یا پھر اسے غیر اردو داں امید وار حاصل کرلیں گے۔
    Published by:Mohammad Rahman Pasha
    First published: