உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اسکولس کو دوبارہ کھولنے کامعاملہ، تلنگانہ ہائی کورٹ نے کہا فزیکل کلاسس میں حاضری لازمی نہیں

    حیدرآباد : تلنگانہ ہائی کورٹ کی تصویر۔(فائل فوٹو : shutterstock)۔

    حیدرآباد : تلنگانہ ہائی کورٹ کی تصویر۔(فائل فوٹو : shutterstock)۔

    کورٹ نے حکومت سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی نہ کرے جو آف لائن کلاسز نہیں چلائیں گے۔ تعلیمی اداروں کو یہ فیصلہ کرنے کی اجازت ہے کہ وہ آف لائن کلاسز دوبارہ شروع کریں یا آن لائن کلاسز جاری رکھیں۔

    • Share this:
      تلنگانہ ہائی کورٹ نے یکم ستمبر 2021 سے فزیکل کلاسیں دوبارہ کھولنے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کو ایک ہفتے کے لیے روک دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ فزیکل کلاس لازمی نہیں ہے۔ ریاستی حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ 4 اکتوبر تک ریاست بھر میں اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں تفصیلی رپورٹ درج کرے۔

      تلنگانہ ہائی کورٹ نے کہا کہ ’’کسی بھی سرکاری یا خانگی اسکول کے جی سے لے کر بارویں کلاس تک کا کوئی بھی طالب علم یکم ستمبر سے فزیکل کلاسوں میں شرکت کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا‘‘۔

      کورٹ کے اس فیصلے سے قبل تلنگانہ میں اسکول کل سے آٹھویں تا بارھویں جماعت کے لیے دوبارہ کھلنے والے تھے۔ ہائی کورٹ نے اب طلبا کو فزیکل کلاسوں میں شامل ہونے پر مجبور نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس نے کہا کہ ایسے طلبا کے خلاف کارروائی نہ کریں جو براہ راست کلاسوں میں حاضر نہ ہوں‘‘۔


      اس نے حکومت سے یہ بھی کہا ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی نہ کرے جو آف لائن کلاسز نہیں چلائیں گے۔ تعلیمی اداروں کو یہ فیصلہ کرنے کی اجازت ہے کہ وہ آف لائن کلاسز دوبارہ شروع کریں یا آن لائن کلاسز جاری رکھیں۔

      کورٹ نے محکمہ تعلیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ اگلے ہفتے تک ہدایات جاری کرے۔ عدالت نے مزید کہا کہ براہ راست پڑھانے والے اسکولوں کے لیے ہدایات جاری کی جائیں۔ ہائی کورٹ نے ہدایت دی ہے کہ گروکول اور تعلیمی اداروں میں ہاسٹل نہ کھولیں۔

      ریاستی حکومت نے اس سے قبل اسکولوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے رہنما خطوط جاری کیے تھے جس میں اداروں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ دوپہر کا کھانا جاری رکھیں اور سرکاری اسکولوں کے طلبا کو مفت درسی کتابیں فراہم کریں۔ مارچ کے وسط سے اسکول بند ہیں اور کلاسیں آن لائن منعقد کی گئیں۔

      اسکولوں سے کہا گیا کہ وہ مناسب طریقے سے سینٹائز کریں۔ ہیڈ ماسٹرز کو ہدایت دی گئی کہ وہ کلاس روم کے سائز کے مطابق طلبا کے بیٹھنے کا منصوبہ تیار کریں تاکہ جسمانی دوری کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ طلبا اور عملے سے کہا گیا کہ وہ ہر وقت ماسک پہنیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: