உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    تلنگانہ کے اقلیتی رہائشی تعلیمی اداروں میں KCR کی سالگرہ منانے سرکاری نوٹس جاری، دس دس ہزار مختص

    تصویر ٹوئٹر: @TelanganaCMO

    تصویر ٹوئٹر: @TelanganaCMO

    ایک سرکاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ تمام TMREIS اداروں میں سری کے چندر شیکھر عزت مآب وزیر اعلیٰ تلنگانہ کا یوم پیدائش منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ پروگرام تمام ٹمریز اسکولوں میں منعقد کیا جائے گا جس میں والدین، طلبا، اساتذہ، مقامی عہدیدار اور ایم ایل اے شامل ہوں گے۔

    • Share this:
      تلنگانہ اقلیتی رہائشی تعلیمی اداروں (Telangana Minorities Residential Educational Institutions) یعنی TMREIS نے اپنے حدود میں آنے والے اسکولوں کو چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ (K Chandrashekar Rao) کی سالگرہ منانے کی ہدایت دی ہے۔ اسکولوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تقریبات کے لیے 10,000 روپے سے زیادہ خرچ نہ کریں۔ اقلیتی اسکولوں کو ریاستی حکومت کی طرف سے مکمل طور پر مالی اعانت فراہم کی جاتی ہے۔

      ایک سرکاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ تمام TMREIS اداروں میں سری کے چندر شیکھر عزت مآب وزیر اعلیٰ تلنگانہ کا یوم پیدائش منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ پروگرام تمام ٹمریز اسکولوں میں منعقد کیا جائے گا جس میں والدین، طلبا، اساتذہ، مقامی عہدیدار اور ایم ایل اے شامل ہوں گے۔

      طلبا کو اس موقع پر مختلف کھیلوں میں مشغول ہونے اور ثقافتی سرگرمیوں میں مصروف رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ جہاں مناسب جگہ میسر ہو وہاں شجر کاری بھی کی جائے، تاکہ ماحول صاف اور سرسبز ہو۔ TMREIS نے اسکولوں کو انعامات کی تقسیم کے انتظامات کے ساتھ تفریح اور کھیلوں کا انعقاد کرنے کی بھی ہدایت دی۔ تعلیمی سرگرمیوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبا کو بھی ایوارڈز دیئے جائیں گے۔

      ٹی ایم آر نے اسکولوں کو یہ بھی ہدایت دی ہے کہ وہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل میں وزیر اعلیٰ کے کردار، اقلیتوں کے رہائشی اسکولوں کا قیام، ٹی آر ایم اسکولوں کی کامیابیوں اور اقلیتوں کی ترقی کے لیے تعلیم کی اہمیت سمیت چند ایجنڈوں پر تبادلہ خیال کریں۔

      نیوز 18 اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومت تلنگانہ کا منصوبہ کچھ اس طرح تھا کہ ریاست میں پہلے سے کامیابی کے ساتھ او بی سی اور ایس سی ، ایس ٹی طبقات کیلئے چلایے جانے والے  ریزیڈینشل اسکولس کی طرز پر اقلیتی اقامتی  اسکولس کا قیام ہو ، چنانچہ اقلیتوں کیلئے قایم اسکولس میں بھی پانچویں جماعت سے بارہویں جماعت تک تعلیم کا انتظام کرتے ہوئے داخلوں کا اعلان کیا گیا ۔ پہلے ہی سال اس اسکیم میں اقلیتوں کی دلچسپی کو دیکھتے  ہوئے دوسرے ہی سال 2017 میں ان اسکولس کی تعداد میں مزید اضافہ کرتے ہوئے  ان کی تعداد 204 کردی گئی۔

      ان اسکولس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کی  نصف تعداد  لڑکیوں کے لئے مختص ہے اور ان  اسکولس میں  ایک لاکھ سے زاید  طلبہ کے لئے رہائش اور تعلیم کا انتظام کیا گیا ہے ۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: