ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

جماعت اسلامی ہند کے مرکزی تعلیمی بورڈ نے کہا، تعلیمی پالیسی میں پسماندہ طبقات کے لئے منصوبوں کی وضاحت ہو

جماعت اسلامی ہند کے مرکزی تعلیمی بورڈ نے “ نیشنل ایجوکیش پالیسی 2020 اور سماجی و اقتصادی اعتبار سے کمزور گروپ” پر ایک قومی ویبنار منعقد کیا جس میں ملک کے مشہور ماہرین تعلیم اور دانشوران نے خیالات کا اظہار کیا۔

  • Share this:
جماعت اسلامی ہند کے مرکزی تعلیمی بورڈ نے کہا، تعلیمی پالیسی میں پسماندہ طبقات کے لئے منصوبوں کی وضاحت ہو
علامتی تصویر


جماعت اسلامی ہند کے مرکزی تعلیمی بورڈ نے “ نیشنل ایجوکیش پالیسی 2020 اور سماجی و اقتصادی اعتبار سے کمزور گروپ” پر ایک قومی ویبنار منعقد کیا جس میں ملک کے مشہور ماہرین تعلیم اور دانشوران نے خیالات کا اظہار کیا۔ ویبنار میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین نصرت علی صاحب نے کہا کہ “ سے قبل بھی حالیہ تعلیمی پالیسی کی مجموعی حیثیت پر مرکزی تعلیمی بورڈ تجزیہ کرچکا ہے اور بتا چکا ہے کہ اس پالیسی کے اثرات ملک اور عوام پر کیا پڑیں گے۔ اس وقت ہم نئی تعلیمی پالیسی Socially and Economically Disadvantaged Groups یعنی سماجی اور اقتصادی اعتبار سے کمزور گروپ کے تناظر میں بات کریں گے۔ اس پالیسی میں ان پسماندہ طبقات کا ذکر ہے مگر وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ حکومت اس پر کس طرح عمل کرے گی۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ پالیسی بنانے میں ہمارے ملک کے کلچر اور تنوع کا بالکل لحاظ نہیں رکھا گیا ہے ان پسماندہ طبقات کی جو درجہ بندی کی گئی ہے اس کو صاف نہیں کیا گیا ہے۔ لہٰذا ہم چاہتے ہیں کہ ہم سب مل بیٹھ کر ایک حکمت عملی تیار کریں اور حکومت سے مطالبہ کریں کہ ان کمزور طبقات کی درجہ بندی کی جائے اور جو طبقات جہاں جس نوعیت سے کمزور ہیں، ان کی شناخت کرکے ان کے لئے خصوصی پروگرام بنائے جائیں اور نئی پالیسی میں جو ایجوکیشن اسپیشل ژون بنانے کی بات کہی گئی ہے تو کمزور طبقات کے علاقے کی شناخت کرکے وہاں اصلاحات کا کام کیا جائے۔


مثال کے طور پر مائنارٹی میں مسلمانوں کی صورت حال کو ہی لیں تو سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ملک میں مسلمانوں کی اور دلتوںکی حالت سب سے خراب ہے ۔ اب ہمیں مسلم اکثریتی اضلاع جو ساٹھ کے قریب ہیں، ان اضلاع میں تعلیمی سہولتیں جیسے تعلیمی وظائف وغیرہ کے لئے سرکار سے خصوصی رعایت کا مطالبہ کرنا چاہئے اور سرکار کو چاہئے کہ وہ لوگوں میں سہولتوں کی تشہیر کرے تاکہ لوگ اس کے لئے ابھی سے تیاری شروع کردیں۔



اسی طرح دیگر کمزور طبقات کے بارے میں بھی ہمیں حکمت عملی تیار کرنی ہوگی۔ پالیسی میں معیاری تعلیم بات کہی گئی ہے ۔ لہٰذا اسکول کھولنے کے قوانین میں رعایت دی جائے تاکہ سرکاری اسکول کے علاوہ بھی پرائیویٹ اسکول کھولنے کا راستہ آسا ن ہوسکے ۔اس سلسلے میں ایک بات یہ بھی بہت اہم ہے کہ حکومت نے اس قومی تعلیمی پالیسی کو 2040 تک قابل نفاذ بنانے کی بات کہی ہے۔ اس طویل اور اہم پالیسی کو پارلیمنٹ میں بحث کے بغیر منظور کرلیا گیا ہے ، یہ نہایت ہی غیر منطقی بات ہے۔ ہم پریشر گروپ بناکر حکومت سے پارلیمنٹ میں بحث کرانے کا دباﺅ بنائیں۔ جناب نصرت علی نے کہا کہ ویبنار میں جو مشورے آئے ہیں، ہم ان کا ایک لیٹر بناکر جلد ہی وزارت تعلیم کو بھیج کر ان مشوروں سے آگاہ کرائیں گے۔”

اس ویبنار میں شریک ہونے والے ماہرین تعلیم میں سے پروفیسر کرما اوراﺅن ، سابق ڈین رانچی یونیورسٹی ، جناب گوپی ناتھ مشہورو معروف رائٹر ، جان دیال آل انڈیا کرسچن ایسو سی ایشن کے جنرل سکریٹری ، پروفیسر جی ناگ راجو،حیدرآباد یونیورسٹی ، جناب امبریش رائے رائٹ ٹو ایجوکیشن فورم کے نیشنل کنوینر نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا اس موقع پر مرکزی تعلیمی بورڈ کے ڈائریکٹر سید تنویر احمد نے اپنے افتتاحیہ بیان میں کہا کہ موجودہ حکومت کی نئی تعلیمی پالیسی میں جو خامیاں رہ گئی ہیں ان پر بورڈ نے پہلے بھی سمینار کیا ہے اور اس وقت کمزور طبقات کی اصلاحات کے عنوان پر یہ سمینار وقت کی اہم ضرورت ہے۔
Published by: sana Naeem
First published: Oct 07, 2020 09:37 PM IST