உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مدھیہ پردیش کے اقلیتی اداروں میں خواتین کی تقرری کا حکومت نے کیا فیصلہ

    حکومت کے فیصلہ کا مسلم خواتین نے خیر مقدم کیا ہے ۔بھوپال کی سماج کارکن نازیہ خان کہتی ہیں کہ حکومت کے فیصلہ کا خیر مقدم ہے۔

    حکومت کے فیصلہ کا مسلم خواتین نے خیر مقدم کیا ہے ۔بھوپال کی سماج کارکن نازیہ خان کہتی ہیں کہ حکومت کے فیصلہ کا خیر مقدم ہے۔

    حکومت کے فیصلہ کا مسلم خواتین نے خیر مقدم کیا ہے ۔بھوپال کی سماج کارکن نازیہ خان کہتی ہیں کہ حکومت کے فیصلہ کا خیر مقدم ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:

    1. مدھیہ پردیش میں شیوراج حکومت نے اقلیتی اداروں میں خواتین کی تقرری کا تاریخی فیصلہ کیاہے۔ تاریخی فیصلہ اس لئے بھی ہے کہ ریاست مدھیہ پردیش کی تشکیل یکم نومبر انیس سو چھپن کوہوئی تھی اور یہاں پر اقلیتی طبقہ کی فلاح کے لئے وقف بورڈ،حج کمیٹی ،وقف بورڈ،متولی کمیٹی اوقاف عامہ ،مساجد کمیٹی جیسے ادارے تو موجود ہیں مگر ریاست کی تشکیل سے لیکر ابتک ان اداروں میں کسی بھی حکومت کی خواتین کی تقرری کی جانب غور ہی نہیں کیا۔یہ پہلا موقعہ ہے جب حکومت نے اس جانب نہ صرف غور کیا ہے بلکہ سبھی اقلیتی اداروں میں مردوں کے ساتھ خواتین ملازمین کی تقرری کا فیصلہ کیا ہے ۔
      مدھیہ پردیش کے وزیر برائے اقلیتی فلاح و بہبود رام کھلاون پٹیل کہتے ہیں کہ وہ لوگ جنہوں نے اقلیتوں کے ووٹ لیئے اور حکومت کی انہوں نے نہ صرف اقلیتی طبقے کو نظر انداز کیا بلکہ خواتین کو بھی یکسر نظر انداز کیاہے ۔ کانگریس نے ایک لمبے عرصہ تک مدھیہ پردیش میں حکومت کی لیکن کسی بھی اقلیتی ادارے میں خواتین ملازمین کی تقرری ہی نہیں کی گئی ۔بی جے پی حکومت سب کا ساتھ سب کاوکاس اور سب کا وسواس پر یقین رکھتی ہے ۔وزیر اعلی شیوراج سنگھ نے اس معاملے میں سنجیدگی سے غور کیا ہے اور بہت جلد نہ صرف وقف بورڈ بلکہ مساجد کمیٹی ،حج آفس،متولی کمیٹی کے دفاتر میں بھی خواتین کی تقرری ہوگی ۔سماج کے آدھے حصہ کو نظر انداز کرکے کوئی سماج ہو یا ملک آگے نہیں بڑھ سکتا ہے ۔
      وہیں حکومت کے فیصلہ کا مسلم خواتین نے خیر مقدم کیا ہے ۔بھوپال کی سماج کارکن نازیہ خان کہتی ہیں کہ حکومت کے فیصلہ کا خیر مقدم ہے۔اقلیتی اداروں میں خواتین کو ابتک داخل ہی نہیں ہونے دیا گیا ہے ۔ ایک جانب ملک آزادی کے پچھتر سال مکمل ہونے پر امرت مہوتسو منا رہا ہے وہیں دوسری جانب دیکھئے تو افسو س ہوتا ہے کہ مرد کی بالادستی والے سماج نے اقلیتی اداروں میں آزادی کے پچھتر سال بعد بھی داخل نہیں ہونے دیا ہے ۔حکومت کے فیصلہ سے اقلیتی اداروں میں ملازمت کرنے والی خواتین کی راہ ہموار ہوگی ۔لیکن حکومت سے ہماری یہ بھی اپیل ہے کہ اعلان کیا ہے تو اس پر عمل بھی کیا جائے ۔اعلان صرف اعلان تک محدود نہ رہے ۔ہم نے خواتین کے حقوق کو لیکر تحریک چلائی ہے اور جب تک اقلیتی اداروں میں خواتین کی تقرری کا عمل شروع نہیں ہو جاتا ہے ہماری تحریک جاری رہے گی۔
      بھوپال سے مہتاب عالم کی رپورٹ

    Published by:Sana Naeem
    First published: