ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

بنگال میں مدرسہ اساتذہ کا معاملہ حکومت کے لئے بن سکتا ہے سردرد: جانیں کیوں

مغربی بنگال میں الیکشن سے پہلے حکومت نے کئی سرکاری اسکیموں و منصوبوں کا اعلان کیا ہے لیکن ان میں کئی ایسے اعلانات ہیں جو حکومت کے لئے سردرد بن سکتا ہے۔

  • Share this:
بنگال میں مدرسہ اساتذہ کا معاملہ حکومت کے لئے بن سکتا ہے سردرد: جانیں کیوں
مغربی بنگال میں الیکشن سے پہلے حکومت نے کئی سرکاری اسکیموں و منصوبوں کا اعلان کیا ہے لیکن ان میں کئی ایسے اعلانات ہیں جو حکومت کے لئے سردرد بن سکتا ہے۔

مغربی بنگال میں الیکشن سے پہلے حکومت نے کئی سرکاری اسکیموں و منصوبوں کا اعلان کیا ہے لیکن ان میں کئی ایسے اعلانات ہیں جو حکومت کے لئے سردرد بن سکتا ہے۔ خاص کر فنڈ کے بغیر مدارس کو منظور دینے کا معاملہ۔ لفٹ و کانگریس نے مدرسہ اساتذہ کے مدعے پر حکومت کو گھیرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بنگال میں برسراقتدار انے کے بعد وزیر اعلی ممتا بنرجی نے ریاست کے دس ہزار مدارس کو منظوری دینے کا اعلان کیا تھا لیکن وزیر اعلی ممتا بنرجی کے دس سالہ اقتدار میں صرف 235 مدارس کو ہی منظوری ملی ہے۔ تاہم حیران کن بات یہ ہے کہ منظوری پانے والے مدارس کو سرکاری فنڈ حاصل نہیں ہوگا۔


سرکاری فنڈ و مراعات کے بغیر منظوری پانے والے مدارس کے اساتذہ نے حکومت کے فیصلے کو افسوسناک بتاتے ہوئے تنخواہ کے مطالبے پر دھرنا شروع کیا ہے۔ مدرسہ اساتذہ کے دھرنے کو لفٹ و کانگریس لیڈران نے حمایت دینے کا اعلان کیا ہے۔ مدرسہ اساتذہ کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے سی پی ایم لیڈر و سابق ایم پی محمد سلیم نے ممتا حکومت پراقلیتیوں کو دھوکہ دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ دھرنے پر بیٹھے مدرسہ اساتذہ کا حال بھی وہی ہے جو کسانوں کا ہے ممتا حکومت انہیں ہراساں کررہی ہے۔


ان مدارس میں دی جارہی تعلیم کو تسلیم کرتے ہوئے ممتا حکومت نے اساتذہ و دیگر ملازمین کو تنخواہ نہ دینے کا اعلان کیا۔حکومت فنڈ کی کمی کو وجہ بتاتے ہوئے اساتذہ کو تنخواہ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے تاہم محمد سلیم نے کہا کہ مدرسہ اساتذہ کو انکے حق سے محروم رکھا جارہا ہے محمد سلیم نے مدرسہ اساتذہ کے مطالبے پر پارٹی کی جانب سے حمایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسے میں آنیوالے دنوں میں مدرسہ اساتذہ کا معاملہ سیاسی طور پر کیا رخ اختیار کرتا ہے یہ دیکھنا اہم ہے۔

Published by: Sana Naeem
First published: Feb 09, 2021 10:45 PM IST