உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اردو کے نام پر دوسرے مضامین کے اساتذہ کو تنخواہ دینے کا معاملہ

    مدھیہ پردیش بزم ضیا کے صدر فرمان ضیائی نے نیوز ایٹین اردو سے خاص ملاقات میں بتایا کہ آج ہم لوگوں نے اردو اساتذہ کے مسائل کو لیکر گورنر ہاؤس پر میمورنڈم دیا ہے۔

    مدھیہ پردیش بزم ضیا کے صدر فرمان ضیائی نے نیوز ایٹین اردو سے خاص ملاقات میں بتایا کہ آج ہم لوگوں نے اردو اساتذہ کے مسائل کو لیکر گورنر ہاؤس پر میمورنڈم دیا ہے۔

    مدھیہ پردیش بزم ضیا کے صدر فرمان ضیائی نے نیوز ایٹین اردو سے خاص ملاقات میں بتایا کہ آج ہم لوگوں نے اردو اساتذہ کے مسائل کو لیکر گورنر ہاؤس پر میمورنڈم دیا ہے۔

    • Share this:
    مدھیہ پردیش حکومت کے ذریعہ نئی تعلیمی پالیسی میں اردو کو ایک جانب مزید سہولیات سے آراستہ کرنے کی بات کہی جا رہی ہے وہیں دوسری جانب اردو کو لیکر زمینی حقائق بالکل مختلف ہیں ۔حکومت کی جانب سے محکمہ تعلیم کے پورٹل پر اردو اساتذہ کی تین خالی آسامیوں کو دیکھایا جا رہا ہے جبکہ ریاست گیر سطح پر صوبہ کے سرکاری کالجوں میں اٹھائیس سے زیادہ اردو پروفیسروں کی اسامیاں خالی ہیں ۔یہی نہیں ریاست میں کئی کالج ایسے بھی ہیں جہاں گیسٹ فیکلٹی کے نام پر اردو اساتذہ کی جگہ دوسرے مضامین کے اساتذہ کو رکھ کر تنخواہیں دا کی جا رہی ہیں ۔مدھیہ پردیش بزم ضیا سرونج نے مدھیہ پردیش کے حمیدیہ کالج اور دوسرے کالجوں میں اردو اساتذہ کے نام پر بد عنوانی کئے جانے کا نہ صرف الزام لگایا ہے بلکہ گورنر ہاؤس میں میمورنڈم دیکر پورے معاملے کی اعلی سطحی جانچ کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
    مدھیہ پردیش بزم ضیا کے صدر فرمان ضیائی نے نیوز ایٹین اردو سے خاص ملاقات میں بتایا کہ آج ہم لوگوں نے اردو اساتذہ کے مسائل کو لیکر گورنر ہاؤس پر میمورنڈم دیا ہے۔ ہم لوگ گورنرصاحب منگو بھائی پٹیل سے ملاقات کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے بھوپال میں نہیں ہونے کے سبب ملاقات نہیں ہوسکی ۔ہم نے اپنے مطالبات کو لیکر گورنر ہاؤس میں میمورنڈم دیا ہے۔اس وقت مدھیہ پردیش محکمہ تعلیم کے ذریعہ سبھی مضامین کی خالی اسامیوں پر گیسٹ فیکلٹی کی تقرری کا عمل جاری ہے ۔لیکن اردو کے صوبائی سطح پر خالی اسامیوں کو پورٹل پر نہیں دکھایا جارہا ہے ۔پورٹل پر تین خالی اسامیوں کو دکھا کر فرض پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

    اس کا سبب یہ ہے کہ اردو کی باقی تمام خٓلی اسامیوں پر کالجوں کی انتظامیہ کے ذریعہ دوسرے مضامین کے پروفیسروں کی تقرری کرکے اردو کے نام پر تنخواہ نکالی جارہی ہے ۔جس کے سبب اردو کے منتخب اساتذہ در در کی ٹھوکریں کھانے کو مجبور ہیں اور اردو کے طلبا کا بھی تعلیم کو لیکر بڑا نقصان ہو رہا ہے ۔جب بزم ضیا کے صدر فرمان ضیائی سے پوچھا گیا کہ ایسے کون کون سے کالج ہیں جہاں پر اردو اساتذہ کے نام پر دوسرے مضامین کے اساتذہ کا تقرر کر کے اردو کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے تو انہوں نے بتایا کہ بھوپال حمیدیہ گورنمنٹ کالج میں ایسا کیاگیا ہے اور صوبہ کے دوسرے کالجوں میں بھی ایسا کیاگیا جس کے سبب اردو اساتذہ کا نقصان ہو رہا ہے ۔فرمان ضیائی کاکہنا ہے کہ اس معاملے کو لیکر انہوں نے حمیدیہ کالج کے پرنسپل سے بھی ملاقات کی لیکن وہ بات کو ٹال رہے ہیں اور اوپر سے احکام ہونے کا حوالے دے رہا ہے ۔ہم لوگوں نے گورنر ہاؤس میں میمورنڈم دیکر پورے معاملے کاجانچ کا مطالبہ کیا ہے ۔ہمیں یقین ہے کہ گورنر صاحب جانچ کروائیں گے تو سچائی سامنے آئے گی اور وہ تمام لوگ بے نقاب ہونگے جو اردو کے نام پر دوسرے مضامین کے اساتذہ کا تقرر کرکے اردو کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔

    واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے کالج ہی نہیں اسکولوں میں اردو اساتذہ کا معاملہ ایسا ہی ہے ۔دگ وجے سنگھ کے زمانے میں بائیس سو اردو اساتذہ کی تقرری کا اعلان کیاگیا تھا لیکن اس میں سے نو سو ستر اساتذہ کی ہی تقرر ہو سکی تھی اور ان اردو اساتذہ سے اردو کو چھوڑ کر دوسرے مضامین کی تعلیم دینے کا کام لیاجا رہا ہے ۔مستقبل میں یہ معاملہ مزید طول پکڑتا دکھائی دے رہا ہے ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: