ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

جھارکھنڈ اکیڈمک کونسل کے ذریعہ ریاست کے 186 مدرسوں کی پانچویں بار جانچ کا حکم جاری: جانیں کیا ہے معاملہ

جھارکھنڈ اکیڈمک کونسل کے ذریعہ ریاست کے 186 مدرسوں کی پانچویں بار جانچ کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ حکم جاری ہونے کے بعد ریاست بھر کے مدرسہ اساتذہ و ملازمین میں کافی ناراضگی دیکھی جا رہی ہے۔

  • Share this:
جھارکھنڈ اکیڈمک کونسل کے ذریعہ ریاست کے 186 مدرسوں کی پانچویں بار جانچ کا حکم جاری: جانیں کیا ہے معاملہ
جھارکھنڈ اکیڈمک کونسل کے ذریعہ ریاست کے 186 مدرسوں کی پانچویں بار جانچ کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ حکم جاری ہونے کے بعد ریاست بھر کے مدرسہ اساتذہ و ملازمین میں کافی ناراضگی دیکھی جا رہی ہے۔

رانچی: جھارکھنڈ اکیڈمک کونسل کے ذریعہ ریاست کے 186 مدرسوں کی پانچویں بار جانچ کا حکم جاری کیا گیا ہے۔ حکم جاری ہونے کے بعد ریاست بھر کے مدرسہ اساتذہ و ملازمین میں کافی ناراضگی دیکھی جا رہی ہے۔ اس بابت جھارکھنڈ پردیش مدرسہ وسنسکرت شکچھک سمنوے سمیتی کے ایک وفد نے جامتاڑا ممبر اسمبلی و ریاستی حج کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر عرفان انصاری کی قیادت میں جمعرات کو وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین سے ملاقات کی اور ریاست کے 186ملحقہ مدارس کے اساتذہ و ملازمین کے مسائل سے انہیں واقف کرایا۔اسمبلی احاطے میں وزیر اعلیٰ کے چیمبر میں ملاقات کے دوران وزیر دیہی ترقیات عالمگیر عالم، وزیر فلاح حفیظ الحسن انصاری اور ممبر اسمبلی بندھو ترکی بھی موجود تھے۔ وفد نے وزیر اعلیٰ کو ایک میمورنڈم سونپتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ بی جے پی حکومت کے دوران اقتدار میں مدرسوں کی فزیکل جانچ (بھوتک ستیاپن) ڈپٹی کمشنر، سرکل افسر، آرڈی ڈی اور ڈی ای او سطح پر 4 مرتبہ ہو چکی ہے۔ جس کے بعد جھارکھنڈ اکیڈمک کونسل کے ذریعہ جانچ رپورٹ محکمہ تعلیم کو فراہم کر دی گئی ہے لیکن محکمہ تعلیم میں بیٹھے افسران کے ذریعہ بار بار جانچ کا حکم جاری کر کے مدرسوں کے اساتذہ وملازمین کو پریشان کرنے کا کام کیا جا رہا ہے۔وفد نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ کونسل کے ذریعہ محکمہ کو سونپی گئی۔


جانچ رپورٹ کے مطابق ریاست کے 186 میں سے 143مدرسے صد فیصد سبھی شرائط کو پورا کرتے ہیں۔ باقی مدرسے 95 فیصد شرائط کو پورا کرتے ہیں۔ لیکن گذشتہ 8فروری 2021 کو کونسل کے ذریعہ سبھی مدرسوں کی پانچویں بار جانچ کا حکم جاری کر دیا گیا ہے، جو سراسر نا انصافی ہے اور مدرسوں کو بند کرنے کی سازش ہے۔ وفد نے بتایا کہ اگر پانچویں بار جانچ کے حکم کو واپس نہیں لیا گیا تو آل جھارکھنڈ مدرسہ ٹیچرس ایسوسی ایشن اور مدرسہ انتظامیہ اس جانچ کی مخالفت کریں گے۔ وفد نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ 2014میں ریاست کے 186ملحقہ مدارس کے اساتذہ و ملازمین کو بھی اقلیتی اسکولوں کی طرح پنشن کا فائدہ دینے کا کابینہ نے فیصلہ لیا تھا۔ لیکن ریاست میں بی جے پی کی حکومت اقتدار میں آتے ہی بھید بھاؤ کی پالیسی اپناتے ہوئے پنشن سے متعلق کابینہ کے فیصلے کو منسوخ کر دیا۔

وزیر عالمگیر عالم نے وزیر اعلی سے مدرسوں کی دوبارہ جانچ پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب مدرسے تمام شرائط کو پورا کرتے ہیں تو مدرسوں کی دوبارہ جانچ کی کیا ضرورت ہے۔ انہوں نے وزیر اعلی سے اپیل کی کہ وہ مدرسوں کی دوبارہ جانچ کے حکم پر روک لگانے کے لئے مناسب کارروائی کریں۔ رکن اسمبلی عرفان انصاری نے کہا کہ مدرسوں کو ایک سازش کے تحت جان بوجھ کر پریشان کیا جا رہا ہے۔ ایم ایل اے بندھو ترکی نے کہا کہ غریب بچے مدارس میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ لہذا تحقیقات کے نام پر بار بار انہیں پریشان کرنا مناسب نہیں ہے۔


انہوں نے مدرسہ اساتذہ و ملازمین کو پنشن دینے کی وکالت کی۔وزیر اعلیٰ نے وفد کی باتوں کو غور سے سننے کے بعد کہا کہ ہماری حکومت میں مدرسوں کے ملازمین کو انصاف ملے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اب مدرسوں کے اساتذہ و ملازمین کو بلاضرورت پریشان نہیں کیا جائےگا۔ ساتھ ہی مدرسوں کے جو بھی مسائل ہیں انہیں جلد از جلد دور کیا جائےگا۔ وفد میں جھارکھنڈ پردیش مدرسہ وسنسکرت شکچھک سمنوے سمیتی کے جنرل سکریٹری حامد غازی، شرف الدین رشیدی، مولانا شجاع الحق، مسلم حسین، ظفر عادل اور محمد شہاب الدین شامل تھے۔
Published by: Sana Naeem
First published: Mar 05, 2021 09:25 PM IST