اپنا ضلع منتخب کریں۔

    مولانا ابوالکلام آزاد نے ندؤ مسلم اتحاد کی بنیاد پر ملک کی آزادی حاصل کی لیکن آج۔۔۔

    عظیم شخصیات کو صحیح خراج عقیدت پیش کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کی تعلیمات اور افکار و خیالات سے زندگیوں کو منور کیا جائے۔

    عظیم شخصیات کو صحیح خراج عقیدت پیش کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کی تعلیمات اور افکار و خیالات سے زندگیوں کو منور کیا جائے۔

    عظیم شخصیات کو صحیح خراج عقیدت پیش کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کی تعلیمات اور افکار و خیالات سے زندگیوں کو منور کیا جائے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Lucknow, India
    • Share this:
    لکھنؤ: مولانا آزاد میموریل اکادمی نے  آزاد ہندوستان کے معمار ملک کے پہلے وزیر تعلیم بھارت رتن مولانا ابوالکلام آزاد  کو جس انداز سے خراج عقیدت پیش کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ مسلسل ایک ہفتے تک ہونے والے پروگرام کا آغاز  ارم گرلس ڈگری کالج کے خواجہ معروف ہال میں  بعنوان مولانا آزاد : شخصیت اور ان کی تعلیمات پر مبنی مولانا آزاد میموریل خطبہ کے انعقاد سے کیا گیا۔ اس موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے  مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے مولانا آزاد چیر پروفیسر ایس ایم عزیز الدین حسین نے کہا کہ مولانا جیسی عبقری شخصیت صدیوں میں پیدا ہوتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مولانا سرسید کی تصانیف  سے اس قدر متاثر ہوئے جس نے انکے عقائد و افکار میں ایک طوفان برپا کردیا  دوسری جانب  علیگڑھ کےطلبا کا تحریک آزادی میں شامل نہ ہونا انہیں قطعی ناگوار تھا ۔

    انہوں نے کہا کہ مولانا نےہندؤ مسلم اتحاد کی بنیاد پر ملک کی آزادی حاصل کی  لیکن میری رائے میں آج بھی  ہندو مسلم اتحاد ملک کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے مولانا آزاد کے حوالے سے کہا کہ اردو کی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب اسمیں باضابطہ تراجم علوم و فنون کا سلسلہ قائم کیا جائے جدید علوم کی جامع کتابوں کے ترجمے کیے جایں آج اردو صرف افسانہ نگاری اؤر شاعری تک محدود ہو گئی ہے ۔ انہوں نے مولانا آزاد کی قربانیوں اور کارناموں کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ  سابق وزیراعظم راجیو گاندھی  نے کہا تھا کہ اگر ہندوستان سانحہ  تقسیم کے باوجود مضبوطی سے سیکولر بنا رہا تو یہ بڑی حد تک مولانا آزاد کی قیادت انکا تدبر انکی شخصیت میں مرکوز ہندوستانی امتزاج اور انکی مشترکہ تہذیب کی زندہ جاوید علامت ہونے کے بدولت ہے ۔

    مکہ میں پیدا ہوئے مولانا ابوالکلام آزاد کی یہ نایاب تصویریں، کیا آپ نے دیکھیں


    انہوں نے ارم ڈگری کالج اور مولانا آزاد اکادمی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے موجود طلباء ومعلمات کے سوالوں کے جواب بھی دیے ۔ مہمان خصوصی سابق ڈی جی پولس  پدم شری پرکاش سنگھ نے مولانا آزاد کی یوم پیدائش  و قومی یوم تعلیم کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا  مولانا سچے محب وطن تھے جنہوں نے اپنی لیاقت اور دانشورانہ صلاحیت کی وجہ ملک کو آزاد کراکے ملک کی تعمیر نو میں بحثیت وزیر تعلیم نمایاں کردار ادا کیا۔ انہوں ملک میں بڑھ رہی آپسی دوری ، نفرت ماب لانچنگ ایک فرقہ سے سامان نہ خریدنے کی تدبیر اور دھرم سنسد کا انعقاد کر نفرت کا ماحول بنا نے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دینی چاہیے ۔ انہوں نے کہا ہندوستان ایک گلدستہ کے مانند جہاں ہر قوم وفرقہ کے ماننے والے رہتے ہیں ۔ اس کی خوبصورتی کو برقرار رکھنا ور فرد کی ذمہداری  ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ ہم تمام مذہبی پیشواؤں پیر پیغمبروں کا احترام کریں انہوں باھمی ہم آہنگی اور جمہوریت کو مضبوط کرنے آپسی دوریوں کو ختم کرنے پر زور دیا جسے صرف سرکار اور پولس کے بھروسے نہیں چھوڑا جاسکتا  ایک ذمہ دار فرد اور شہری کے  طور پر ہماری بھی اتنی بڑی ذمہ داری ہے۔

    صدر جلسہ مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے مولانا ابوالکلام آزاد کی ملکی ، صحافتی ، ادبی ، سماجی و تعلیمی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مولانا آزاد سے پہلے 1857اور اس سے قبل کی ملک کی تحریک آزادی اور انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں ہزاروں کی تعداد میں علماء کرام نے اپنی جانی ، مالی ،  قربانی پیش کی غلما فرنگی محل تحریک خلافت میں نمایاں کردار ادا کیا لکھنؤ واقع رفاہ عام کے میدان مسلمانوں کے جلسہ میں گاندھی جی کو صدارت پیش کی جو ہندؤ مسلم اتحاد کا سبب بنی انہوں نے طلباء سے کہا کہ ہمارے ملک کی طاقت بزرگوں کی قربانی  اورہزاروں سالوں کی آپسی محبت کو قائم رکھے جانے کی  بنیاد پر تھی جسے انگریزوں نے ہم لوگوں کو بانٹکر اپنی حکومت کو اہم کی ۔  ڈایریکٹر خواجہ سیفی یونس نے مولانا آزاد کی مکمل شخصیت کا احاطہ کرتے ہوے کہا کہ مولانا آزاد صرف مذہبی دانشور و سیاسی رہنما نہیں تھے وہ ایک اچھے ادیب ، صحافی ، مفسر قرآن کے علاوہ دور اندیش مفکر ملک میں تعمیری سوچ رکھنے والے وزیر بھی تھے انہوں نے کہا مولانا آزاد یا کسی اور بڑےسیاسی رہنماکو کسی ایک خانے میں محدود نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ان بلند پایہ شخصیات کے نہ چاہنے والے لوگ انکے خلاف غلط تصویر کشی کر انکی شخصیت کو مجروح کرتے ہیں ہم سبکی ذمہ داری ہے ان رہنماؤں کی خدمات ، قربانیوں اور انکی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سماج کے سامنے نمایاں طریقہ سے پیش کریں تاکہ ہماری آنے والی نسل انکی راہ پر گامزن ہوسکے ۔

    National Education Day پر کیا ہے سال 2022 کی تھیم، یہاں جانئے پوری تفصیل

    اس موقع پر ارم گرلس ڈگری کالج کے ڈایریکٹر خواجہ فیضی یونس کو انکی تعلیمی و سماجی خدمات کا اعتراف کرتے ہوے مولانا آزاد اکادمی کی جانب سے مولانا آزاد اوارڈ براے تعلیم و سماجی خدمات پیش کیا گیا ، مہمان خصوصی پدم شری پرکاش سنگھ و مولانا خالد رشید نے انہیں شال اڑھا کر ایک یادگاری میمنٹو پیش کیا  ۔ جلسہ کی نظامت  معروف دانشور مولانا آزاد اکیڈمی کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر عبد القدوس ہاشمی نے کی ۔اس اجلاس میں  مختلف شعبہ ہائے حیات کی ممتاز شخصیات موجود تھیں علاوہ ازیں کثر تعداد میں طلبہ وطالبات ومعلمات نے بھی شرکت کی ۔آے ہوے مہمانوں کا شکریہ خواجہ سیفی یونس نے اد ا کیا جلسہ کا اختتام قومی ترانے پر ہوا  اس سے قبل خواجہ سید محمد یونس صاحب کی زندگی  پر ایک ڈاکومنٹری بھی دکھائی گئی ۔

    مفکرین و مقررین کے مطابق  ہندوستان ایک خوبصورت گلدستہ ہے جسکی حفاظت ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔۔۔ پدم شری پرکاش سنگھ۔  اج بھی ہندو مسلم اتحاد کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی مولانا آزاد کے وقت میں تھی ۔ پروفیسر  ایس، ایم عزیز الدین حسین ۔تحریک آزادی میں علماء کی قربانیوں اور شہادت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔۔‌ مولانا خالد رشید فرنگی محلی ۔۔۔عبد القدوس ہاشمی نے یہ بھی کہا کہ صرف ایک دن مولانا کو یاد کر لینے سے ان کی عظمت کا اعتراف ممکن نہیں صحیح خراج تحسین یہ ہوگا کہ ہم مولانا کے افکار اور ان کی تعلیمات سے اپنی زندگیوں کو روشن اور با مقصد بنائیں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: