اپنا ضلع منتخب کریں۔

     رینو کھٹور نے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد شروع کی ایک متاثر کن  عملی زندگی، آپ کے لیے بھی ایسا کرنا ہے ممکن 

    رینو کھٹور نے یونیورسٹی آف ہیوسٹن سسٹم کی چانسلر کے بطور خدمات انجام دی ہیں اور یونیورسٹی کے پرچم بردار ہیوسٹن کیمپس کی صدر کے عہدے پر جنوری 2008 سے ہی فائز ہیں۔ وہ امریکہ میں ایک جامع تحقیقی یونیورسٹی کی قیادت کرنے والی پہلی ہندوستانی امریکہ بھی ہیں۔ (تصویر: بشکریہ یونیورسٹی آف ہیوسٹن/ اسپین میگزین)۔

    رینو کھٹور نے یونیورسٹی آف ہیوسٹن سسٹم کی چانسلر کے بطور خدمات انجام دی ہیں اور یونیورسٹی کے پرچم بردار ہیوسٹن کیمپس کی صدر کے عہدے پر جنوری 2008 سے ہی فائز ہیں۔ وہ امریکہ میں ایک جامع تحقیقی یونیورسٹی کی قیادت کرنے والی پہلی ہندوستانی امریکہ بھی ہیں۔ (تصویر: بشکریہ یونیورسٹی آف ہیوسٹن/ اسپین میگزین)۔

    جب رینو کھٹور 18 سال کی تھیں تو انہیں یہ بتایا گیا کہ دو ہفتے سے بھی کم وقت میں ان کی شادی ہونے والی ہے جس کے بعد انہیں تعلیم ادھوری چھوڑ کر امریکہ جانا پڑے گا۔ اس وقت وہ انگریزی کا ایک جملہ بھی نہیں بول پاتی تھیں۔

    • Share this:
      مائیکل گیلنٹ

      جب رینو کھٹور 18 سال کی تھیں تو انہیں  یہ بتایا گیا کہ دو ہفتے سے بھی کم وقت میں ان کی شادی ہونے والی ہے جس کے بعد انہیں تعلیم ادھوری چھوڑ کر  امریکہ جانا پڑے گا۔ اس وقت وہ انگریزی کا ایک جملہ بھی نہیں بول پاتی تھیں۔  اس طرح کی اچانک تبدیلی کے پیش نظر ، یہ اور بھی قابل  ذکر ہے کہ آج کھٹور ایک انتہائی کامیاب تعلیمی رہنما اور منتظم  ہیں۔ انہوں نے جنوری 2008 سے یونیورسٹی آف ہیوسٹن سسٹم کی چانسلر اور اس کے پرچم بردار یونیورسٹی آف ہیوسٹن کیمپس کی صدر کے طور پر اپنی خدمات انجام دی ہیں۔ کھٹور ریاست ٹیکساس کی پہلی خاتون چانسلر اور امریکہ میں ایک جامع تحقیقی یونیورسٹی کی قیادت کرنے والی پہلی ہندوستان امریکی ہیں۔

      کھٹور اپنی کامیابی کو  ثابت قدمی،  سخت محنت اور اپنی تعلیم اور خوابوں کو آگے بڑھانے کے لیے ایک غیر متزلزل عزم  سے منسوب کرتی  ہیں ۔ یہ تمام ایسے  اصول ہیں جو آج بھی  ہندوستانی طلبہ کو اپنا شاندار کریئر شروع کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

      انڈیا سے انڈیانا تک

      کھٹور کی پرورش وپرداخت  اتر پردیش میں آگرہ کے قریب واقع  ایک چھوٹے سے قصبے میں  ہوئی  جسے وہ  ایک ’’انتہائی محفوظ ماحول‘‘ قرار دیتی ہیں۔ وکلاء کی بیٹی اور پوتی کھٹور نےاپنی تعلیم نسوانی  اسکولوں میں ہی حاصل کی اور گرمیوں میں اپنے کنبے  کے ساتھ بڑے پیمانے پر سفر کیا۔ وہ کہتی ہیں ’’میرا خواب اعلیٰ ترین ممکنہ  ڈگری حاصل کرنا تھا۔ مجھے تعلیم سے بہت زیادہ شغف تھا  اور میں  جانتی تھی  کہ میں علم سیاسیات پڑھنا چاہتی ہوں۔‘‘

      1973 کانپور یونیورسٹی سے لبرل آرٹس میں بیچلر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کھٹور ایک ماسٹر پروگرام جاری رکھنے کے لیے تیار ہو  ہی رہی تھیں کہ اسی دوران  انہیں پتہ چلا کہ ان  کی شادی ایک نوجوان بھارتی  انجینئر سے ہونے والی ہے جو امریکی ریاست  انڈیانا کی  پرڈیو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر  رہا ہے۔ 10 دنوں کے اندر کھٹور  شکستہ دل امریکہ آ گئیں ۔ وہ بتاتی ہیں ’’میرے  شوہر نے مجھ سے پوچھا کہ میں اتنی غم زدہ  کیوں ہوں۔میں  نے انہیں  بتایا اس لیے کہ حصول تعلیم سے متعلق میرا جو خواب تھاوہ چکناچور ہو گیا ۔‘‘

      کھٹور اور ان کے شوہر نے مل کر انہیں اس صورت حال سے باہر نکالا ۔ کھٹور پرڈیو یونیورسٹی میں گریجویٹ سطح کی کلاسوں میں شرکت کرنے لگیں۔حالانکہ وہ انگریزی بول نہیں پاتی  تھیں اور لیکچرس کی کوئی  بھی بات ان کے پلّے نہیں پڑتی تھی۔ کھٹور انگریزی پڑھ سکتی تھیں مگرزبان کا  فہم لفظی طور پر  صفر تھا۔‘‘

      یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کیلئے جانے سے پہلے ضرور کریں یہ کام، ہوگا یہ بڑا فائدہ


      ان  کے شوہر نے مشورہ دیا کہ وہ ٹیلی ویژن دیکھ کر انگریزی کا فہم وادراک حاصل کریں۔  اس لیے کھٹور نے ’’ آئی لو لوسی ‘‘ جیسے شوز اور خبریں دیکھنا شروع کیا ۔ کھٹور ہنستے ہوئے کہتی ہیں ’’ میں بہت ضدی تھی۔ گرچہ میں رویا کرتی  کیونکہ یہ بہت مایوس کن اور مشکل تھا۔تاہم، میں آگے بڑھتی  رہی۔‘‘

      یونیورسٹی میں ہر ہفتے تحریری اسائنمنٹ ملا کرتے ۔ وہ بتاتی  ہیں کہ ان  کے کاغذات سرخ سیاہی سے  بھرپور  واپس آیا کرتے ۔ وہ آگے کہتی ہیں ’’ ان میں بہت زیادہ غلطیاں ہوتی تھیں، لیکن میں نے سیکھنا شروع کر دیا تھا۔‘‘

      کھٹور بتاتی ہیں کہ وہ لکھنے میں اچھی تھیں حالانکہ بھارت میں وہ ہمیشہ ہندی میں لکھتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں  ’’لہذا، سوچنے کے عمل کی تحریک وہاں سے مل رہی تھی۔‘‘

      انہوں  نے اپنی کلاسوں کے لیے  یکے بعد دیگرے کئی مسودے لکھے۔ وہ بتاتی ہیں ’’میرے شوہر  مجھے باہر لے جاتے اور آئس کریم خریدواتے تاکہ مشکل دنوں میں میں بہتر محسوس کر سکوں۔ انہوں نے دوسری ملازمت کی تاکہ وہ ٹیوشن فیس ادا کرنے میں میری مدد کرسکیں۔‘‘

      وقت گزرنے کے ساتھ وہ سمجھ گئیں  کہ ان کے پروفیسرس، اسکالرس اور ماہرین سے منسوب آراء پر مبنی کاغذات کی بجائے تفویض کردہ موضوعات پر ان کے  خیالات پڑھنا چاہتے ہیں اور ہندوستان میں حاصل شدہ تعلیم نے  نظریاتی تصورات کی مضبوط بنیاد رکھنے میں  ان کی مدد کی۔

      یہ بھی پڑھئے: امریکی یونیورسٹی سے لی گئی غیر اسٹیم ڈگری کھولتی ہے مختلف شعبوں میں کریئر کی متبادل راہیں


      کھٹور کی محنت رنگ لائی۔ انہوں نے  سمسٹر کے اختتام تک بولی جانے والی انگریزی میں مہارت حاصل کر لی اور ان دونوں کلاسوں میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کیے جس میں انہوں نے داخلہ لیا تھا۔ وہ کہتی ہیں ’’ایک بار جب مجھے پتہ چل گیا کہ وہ زیادہ نتائج پر مبنی  اور عملی علم کے متلاشی  ہیں ،تو  مجھے لگتا ہے کہ میں صرف اس  لیے  پروان چڑھ سکی  کیونکہ مجھے پتہ تھا  کہ  حقیقت میں مجھے کیا کرنا ہے۔‘‘

      نئی شروعات

      کھٹور نے پرڈیو میں اپنی ماسٹر س کی تعلیم مکمل کی، دو لڑکیوں کی ماں بنیں، بھارت اور امریکہ کے درمیان سفر کیا اور پرڈیو  یونیورسٹی ہی سے سیاسیات  اور پبلک ایڈمنسٹریشن میں پی ایچ ڈی کی۔

      ہیوسٹن یونیورسٹی میں اپنی تقرری سے قبل کھٹور یونیورسٹی آف ساؤتھ فلوریڈا میں پروووسٹ اور سینئر نائب صدر تھیں۔ اپنی شاندار قیادت کے اعتراف میں  وہ متعدد  اعزازات  سے سرفراز کی گئیں جس میں  2014 میں سمندر پار ہندوستانیوں کو دیا جانے والا اعلیٰ ترین ایوارڈ پرواسی بھارتیہ سمّان  بھی شامل ہے ۔

      کھٹورباخبر کرتی  ہیں کہ ان  کی کامیابی کے لیے ان کی اور ان کے شوہر دونوں کی قربانیاں درکار تھیں ۔اور ان کی ہمت اور ٹیم ورک نے  اس میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ اپنی یونیورسٹی کمیونٹی کے ساتھ اپنی محنت سے حاصل کردہ  تجربات شیئر کرتی ہیں۔ وہ  کہتی ہیں  ’’یہاں ہیوسٹن یونیورسٹی میں پہلی نسل کےطلبہ  کی ایک ایسی  بڑی آبادی ہے جس نے مشکلات کا سامنا کیا ہے۔میں  ان تمام طلبہ سے کہتی ہوں کہ ان میں اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کا جنون ہونا  چاہیے ۔انہیں خواب دیکھنا ترک نہیں کرنا چاہیے۔  امریکہ مواقع کی سرزمین ہے۔ حالات مشکل ہو سکتے ہیں، لیکن اگر آپ میں ہمت اور عزم ہے تو آپ کے سامنے راستے یقینی طور پر  کھلیں گے۔‘‘

      عقیدہ اور عمل

      کھٹور کے مشکلات بھرے  سفر اور ناقابل یقین حصولیابیوں  سے خوف کھانا فطری امر ہے۔ لیکن وہ اس بات پر زور دیتی ہیں  کہ ہر نوجوان حیرت انگیز چیزیں حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں ’’ ہم سبھی  میں صلاحیت  ہے اور ہم سب خاص ہیں  ۔ اور یاد رکھیں کہ میں صرف ایک اوسط درجےکی  انسان ہوں۔ آپ کو اس کا یقین کرنا   ہوگا کہ زندگی مواقع فراہم کرے گی۔ آپ کے لیے دروازے کھلیں گے  اور اگر دروازے نہیں تو کھڑکیاں کھلیں گی ۔ آگے ایک طویل  زندگی ہے۔ آپ کو اپنا راستہ خود بنانے اور اطالیقوں سے متاثر ہونے کے مواقع ملیں گے۔‘‘

      کھٹور نے امریکہ کو ہندوستانی طلبہ کے لیے ایک فراخدل اور قبول کرنے والی جگہ قرار دیا  اور کہا کہ امریکہ میں سیکھنے  کا بہترین موقع ہے۔ وہ مشورہ دیتی ہیں کہ طلبہ کو بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں اپنا انتخاب نہ صرف پڑھنے، تحقیق اور اسکول کی ساکھ کی بنیاد پر کرنا چاہیے، بلکہ اس پر بھی کہ ’’ آپ کے جذبات  واحساسات آپ سے کیا کہتے ہیں۔ اگر میں انگریزی بولنے کی صلاحیت کے بغیر امریکہ آ سکتی  ہوں اور  میں وہ سب حا صل کر سکتی ہوں جو کچھ میں نے ایک اوسط شخص کے طور پر حاصل کیا ہے تو  ذرا تصور کریں کہ آج آپ کے پاس موجود جو امکانات اور تکنیکی آلات  ہیں، ان سے آپ کیاکچھ  حاصل کر سکتے ہیں۔ مجھے آپ پر یقین ہے اور میں آپ کے تئیں  نیک خواہشات کا اظہار کرتی ہوں۔ اگر میں کسی بھی طور پرآپ کی مدد کر سکتی  ہوں تو میں مدد کے لیے حاضر ہوں۔‘‘

      بشکریہ سہ ماہی اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: