ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

کرناٹک میں 7 مہینوں کے بعد کھلے کالج، طلبہ و اساتذہ میں خوشی کی لہر

ریاستی حکومت نے کورونا سے بچنے کیلئے تمام تر احتیاطی تدابیر کے ساتھ کالجوں کو کھولنے کی مشروط اجازت دی ہے۔ لہذا حکومت کے جاری کردہ گائڈلائنس کے مطابق کرناٹک کے تمام ڈگری اور پی جی کالجز 17 نومبر سے کھلے رہیں گے۔حکومت نے مرحلہ وار یعنی پہلے فائنل ائیر، پھر سکینڈ ائیر اور اس کے بعد فرسٹ ائیر کے کلاسیس منعقد کرنے کی کالج انتظامیہ کو ہدایت دی ہے۔

  • Share this:
کرناٹک میں 7 مہینوں کے بعد کھلے کالج، طلبہ و اساتذہ میں خوشی کی لہر
کرناٹک میں 7 مہینوں کے بعد کھلے کالج، طلبہ و اساتذہ میں خوشی کی لہر

بنگلورو۔ کرناٹک میں 7 مہینوں کے طویل انتظار کے بعد ڈگری اور پی جی کالجوں کے دروازے اب طلبہ کیلئے کھلے ہوئے ہیں۔ تاہم پہلے مرحلے میں صرف فائنل ائیر کے طلبہ کالج پہونچ کر ریگولر کلاسوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔ کورونا کی خطرناک بیماری کی وجہ سے تعلیمی نظام بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ لیکن جان ہے تو جہان ہے، اس لئے حکومت نے بچوں اور طلبہ کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے اسکول، کالج اور تمام تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ لیا تھا۔ لیکن اب ریاست میں کورونا کے کیسوں میں آرہی مسلسل کمی کو دیکھتے ہوئے 17 نومبر 2020 سے ڈگری اور پی جی کالجوں کو کھولنے کا کرناٹک حکومت نے فیصلہ لیا ہے۔ اس لحاظ سے بنگلورو اور ریاست کے دیگر شہروں میں حکومت کے بتائے گئے گائڈ لائنس پر عمل کرتے ہوئے آج سے ڈگری کالجوں کے دروازے طلبہ کیلئے کھول دئے گئے ہیں۔ لہذا طویل انتظار کے بعد طلبہ کو کلاس روم میں بیٹھ کر پڑھنے کا موقع مل رہا ہے تو دوسری جانب اساتذہ کو اسٹوڈنٹس کے روبرو کھڑے ہوکر پڑھانے کا موقع حاصل ہوا ہے۔


ریاستی حکومت نے کورونا سے بچنے کیلئے تمام تر احتیاطی تدابیر کے ساتھ کالجوں کو  کھولنے کی مشروط اجازت دی ہے۔ لہذا حکومت کے جاری کردہ گائڈلائنس کے مطابق کرناٹک کے تمام ڈگری اور پی جی کالجز 17 نومبر سے کھلے رہیں گے۔حکومت نے مرحلہ وار یعنی پہلے فائنل ائیر، پھر سکینڈ ائیر اور اس کے بعد فرسٹ ائیر کے کلاسیس منعقد کرنے کی کالج انتظامیہ کو ہدایت دی ہے۔


چونکہ آج پہلا دن تھا، اس لئے بنگلورو کے کالجوں میں طلبہ کی تعداد کم ہی دکھائی دی۔ نیوز 18 اردو نے بنگلورو میں موجود الامین ڈگری کالج کے کیمپس کا جائزہ لیا۔ سیر و تفریح کیلئے مشہور مقام لال باغ کے روبرو موجود الامین کیمپس میں گزشتہ دو تین دنوں سے پاکی صفائی، سنیٹائزیشن کے بعد بی اے، بی ایس سی، بی کام فائنل ائیر کی  تمام کلاسیں آج سے شروع ہوئی ہیں۔ کیمپس میں داخل ہونے والے ہر طالب علم کی تھرمل اسکریننگ کی جا رہی ہے۔ چہرے پر ماسک اور ہاتھوں کو سنیٹائزر سے پاک وصاف کرنے کے بعد طلبہ کو کیمپس میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کیمپس میں سنیٹائزر ٹنل بھی نصب کیا گیا ہے، سنیٹائزر ٹنل سے گزر کر طلبہ اپنے اپنے کلاس روم میں داخل ہو رہے ہیں۔


چند دنوں قبل الامین ایجوکیشنل سوسائٹی کے بانی اور چیرمین ڈاکٹر ممتاز احمد خان نے اس سنیٹائزیشن ٹنل کا افتتاح کیا تھا۔ کیمپس اور کلاس روم میں سماجی فاصلے کو برقرار رکھنے کیلئے خصوصی طور پر انتظامات کئے گئے ہیں۔ کلاس روم میں ایک میز پر ایک ہی اسٹوڈنٹ کو بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔ الامین ڈگری کالج کے پرنسپل بی ایم ذاکر نے کہا کہ چند دنوں قبل کلاسیس شروع کرنے کا سرکولر حکومت سے موصول ہوا۔ اس کے بعد سے ہی کیمپس میں صفائی ستھرائی کا کام شروع کیا گیا۔ ادارے کے سکریٹری ڈاکٹر سبحان شریف نے حفاظتی انتظامات کا معائنہ کیا اور تمام گائڈلائنس پر سختی سے عمل کرتے ہوئے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کرنے کی اجازت دی۔ ڈاکٹر بی ایم ذاکر نے کہا کہ کالج کے کھلنے سے پہلے ہی تدریسی اور غیر تدریسی عملہ کیلئے کورونا ٹسٹ انجام دیا گیا ہے۔ کالج کے کیمپس میں ہی کووڈ ٹسٹ کی سہولت موجود ہے۔  انہوں نے کہاکہ طلبہ کیلئے بھی کووڈ ٹسٹ ضروی قرار دیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نے کہا کہ کووڈ ٹسٹ کے بعد اگر کسی کی رپورٹ مثبت آجائے تو انہیں اسپتال یا گھر میں کوارنٹائن رہتے ہوئے علاج مکمل کرلینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ دوسری جانب بنگلورو کے عباس خان کالج، حسنات کالج، سینٹ جوزف کالج اور دیگر اقلیتی تعلیمی اداروں میں بھی ڈگری اور پی جی کورسوں کے فائنل ائیر کلاسوں کا کووڈ 19 کے  احتیاطی تدابیر کے ساتھ  آغاز ہوا ہے۔

نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے طلبہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں لمبے انتظار کے بعد کلاس میں بیٹھنے کا موقع ملا ہے۔ اساتذہ اور دوستوں سے مل کر انہیں بے حد  خوشی ہورہی ہے۔ الامین ڈگری کالج کے بی کام فائنل ائیر کے طالب علم ابوبکر صدیق نے کہا کہ لاک ڈاؤن اور کورونا وبا کی وجہ سے انہوں نے گھر میں ہی رہ کر پڑھائی کی۔ آن لائن کلاس میں شرکت کی۔  لیکن آن لائن کلاس کے وقت  کئی مسائل درپیش تھے۔ کسی موضوع کو سمجھ پانا، اگر کچھ کنفیوژن ہے تو اس کا ازالہ کرنا کافی مشکل بنا ہوا تھا۔ لیکن اب 7 مہینوں کے بعد وہ اپنی کلاس روم میں آئے ہوئے ہیں اور انہیں راست طور پر ٹیچروں سے بات چیت کرنے کا موقع ملا ہے۔

فائنل ائیر کی طالبہ بلقیس بانو نے کہا کہ انہیں کالج پہونچ کر بے حد خوشی ہورہی ہے۔ ٹیچروں سے، دوستوں سے ملاقات کرنے کا موقع ملا ہے۔ بلقیس بانو نے کہا کہ آن لائن کلاسوں کے دوران کئی پریشانیاں اٹھانی پڑتی تھیں۔ نیٹ ورک کا پرابلم، گھر کا ڈسٹربنس اس طرح کے کئی سارے مسائل تھے۔ انہوں نے کہا کہ کالج کے دوبارہ کھلنے پر وہ بڑی راحت محسوس کررہی ہیں۔ ایک اور طالبہ قرت العین نے کہا کہ وہ گزشتہ کئی مہینوں سے کالج کیمپس کو miss کررہی تھیں۔ گھر میں رہ رہ کر بوریت کا احساس پیدا ہوا تھا۔ نہ ٹیچروں اور نہ ہی دوستوں سے ملاقات، اسٹوڈنٹ لائف کے کئی لمحوں سے وہ محروم ہوگئی تھیں۔ ایک لمبے انتظار کے بعد کالج کیمپس میں قدم رکھتے ہوئے انہیں بے حد خوشی ہوئی ہے۔ الامین کالج کی طالبہ ام ہانی نے کہا کہ آن لائن کلاسوں کے ذریعہ پڑھائی کرنا ان کے لئے نامکمل سا  محسوس ہورہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بار بار یہ دعا کرتی تھیں کہ کالج کھلے اور کلاس روم میں بیٹھ کر پڑھائی کرنے کا موقع ملے۔ ام ہانی نے کہا کہ آج ان کی یہ دعا قبول ہوئی ہے۔

ریاستی حکومت نے اپنے گائڈلائنس میں یہ بات کہی ہے کہ ہر کالج میں ہیلتھ کمیٹی قائم کی جائے جو طلبہ اور اساتذہ کی صحت پر دھیان دے۔ یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ کلاس میں حاضر ہونے کیلئے طلبہ کو مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ بہرحال کورونا کے ڈر اور خوف کے درمیان ریاست کرناٹک میں کالجوں کے دروازے کھل چکے ہیں۔ تعلیمی نظام جو گزشتہ کئی مہینوں سے درہم برہم ہو چکا ہے، امید کی جارہی ہے کہ جلد ہی معمول پر لوٹ آئے گا۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Nov 17, 2020 10:01 PM IST