اپنا ضلع منتخب کریں۔

    اسکارٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ڈنڈی کی جانب سے اسکالرشپ کا اعلان، ہندوستانی طلبہ کیلئے ملیں گے 20,000 پاونڈ!

    تصویر بشکریہ ٹوئٹر یونیورسٹی آف ڈنڈی

    تصویر بشکریہ ٹوئٹر یونیورسٹی آف ڈنڈی

    یونیورسٹی کے اکیڈمک لیڈ برائے جنوبی ایشیا پروفیسر ہری ہنڈل نے کہا کہ ہمیں جنوبی ایشیا سے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ داخلہ لینے والوں کے لیے وائس چانسلر کی اسکالرشپ کے مزید ایک سال کی فنڈنگ ​​کا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • inter, IndiaScotlandScotland
    • Share this:
      اسکاٹ لینڈ میں واقع یونیورسٹی آف ڈنڈی (University of Dundee) نے ہندوستانی طلبہ کیلئے 20,000 پاونڈ (تقریباً 18,37,265.75 ہندوستانی روپے) کی اسکالرشپ کا اعلان کیا ہے۔ جنوبی ایشیا کے لیے ان کے وائس چانسلر کے اسکالرشپ کسی بھی جنوبی ایشیائی ملک جیسے افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، ہندوستان، مالدیپ، نیپال، پاکستان اور سری لنکا کے درخواست دہندگان کو پیش کیے جائیں گے جو یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا منصبوبہ رکھتے ہوں۔

      یونیورسٹی آف ڈنڈی کے ذرائع کے مطابق اسکالرشپ کے حصے کے طور پر طلبہ کو ہر سال تعلیم کے لیے اسکالرشپ دی جائے گی، یعنی طلبہ اپنی پسند کے کورس کے لحاظ سے 20,000 پاونڈ تک کی فنڈنگ ​​سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہ اسکالرشپ ستمبر 2023 میں داخلے کے لیے تمام انڈرگریجویٹ درخواست دہندگان کے لیے دستیاب ہے، جس میں میڈیسن اور دندان سازی کے کورس کو مستشنیٰ رکھا گیا ہے اور ستمبر 2023 یا جنوری 2024 میں داخلے کے لیے تمام پڑھائے گئے پوسٹ گریجویٹ درخواست دہندگان اس کے لیے اپلائی کرسکتے ہیں۔

      یونیورسٹی آف ڈنڈی کے 7.8 ملین پاونڈ کے یونیورسٹی وائڈ اسکالرشپ فنڈ سے متعدد دیگر اسکالرشپس بھی ہندوستان کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لیے دستیاب ہیں، جس میں گلوبل سٹیزن شپ اسکالرشپ 5,000 پاونڈ سالانہ، گلوبل ایکسیلنس اسکالرشپ 6,000 پاونڈ فی سال مطالعہ اور صرف انڈرگریجویٹ طلبہ کے لیے ہوگا۔ جینتی داس ساگر میموریل اسکالرشپ برائے ایکسیلینس کی مالیت 5,000 پاونڈ ہے۔


      یونیورسٹی کے اکیڈمک لیڈ برائے جنوبی ایشیا پروفیسر ہری ہنڈل نے کہا کہ ہمیں جنوبی ایشیا سے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ داخلہ لینے والوں کے لیے وائس چانسلر کی اسکالرشپ کے مزید ایک سال کی فنڈنگ ​​کا اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کووڈ 19 وبائی امراض کے بعد آنے والے چیلنجوں کی وجہ سے طلبہ کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے برطانیہ آنے میں کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ اسکالرشپ یونیورسٹی کی جنوبی ایشیا سے وابستگی کی عکاسی کرتی ہے۔

      انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی آف ڈنڈی نے 1967 میں اپنے قیام کے بعد سے پورے جنوبی ایشیا کے طلبہ کا خیرمقدم کیا ہے۔ سابق طلبہ سرکاری اور نجی شعبوں میں اعلیٰ ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ یونیورسٹی آف ڈنڈی کے وائس چانسلر ساؤتھ ایشیا اسکالرشپس کے بارے میں مزید معلومات یونیورسٹی کی ویب سائٹ dundee.ac.uk پر دیکھی جا سکتی ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      درخواست دہندگان کو اسکالرشپ کے لئے براہ راست درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ انسٹی ٹیوٹ نے مطلع کیا کہ پروگرام کی درخواستوں کے حصے کے طور پر اہلیت کا اندازہ لگایا جائے گا اور اگر افراد نے اسکالرشپ حاصل کی ہے تو انہیں تحریری طور پر مطلع کیا جائے گا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: