உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    crash courses: یوپی اردو اکادمی شروع کرے گی کریش کورسز، بے روزگار نوجوانوں اور طلباء و طالبات کے حق میں بہتر قدم

    اکادمی کے سکرٹری زہیر بن صغیر یہ اعتراف کرتے ہیں کے بے مقصد تصنیف کی جانے والی کتابوں کی اشاعت اور غیر معیاری پروگراموں کے انعقاد سے نہ اردو کا فروغ ممکن ہے اور نہ وہ مقاصد حاصل ہوسکتے ہیں جن کے حصول کے لئے اردو اداروں کا  قیام عمل میں آیا تھا 

    اکادمی کے سکرٹری زہیر بن صغیر یہ اعتراف کرتے ہیں کے بے مقصد تصنیف کی جانے والی کتابوں کی اشاعت اور غیر معیاری پروگراموں کے انعقاد سے نہ اردو کا فروغ ممکن ہے اور نہ وہ مقاصد حاصل ہوسکتے ہیں جن کے حصول کے لئے اردو اداروں کا  قیام عمل میں آیا تھا 

    اکادمی کے سکرٹری زہیر بن صغیر یہ اعتراف کرتے ہیں کے بے مقصد تصنیف کی جانے والی کتابوں کی اشاعت اور غیر معیاری پروگراموں کے انعقاد سے نہ اردو کا فروغ ممکن ہے اور نہ وہ مقاصد حاصل ہوسکتے ہیں جن کے حصول کے لئے اردو اداروں کا  قیام عمل میں آیا تھا 

    • Share this:
    لکھنئواتر پردیش اردو اکادمی نے اہم اور خصوصی اقدامات کرتے ہوئے کچھ نئے منصوبوں پر عمل کرنا شروع کردیا ہے  اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ نئے منصوبے واقعی اردو اکادمی جیسے اہم ادارے کی مقصدیت  اور اہمیت کو بچا سکیں گے ؟ کیا وقت اور حالات کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اہلِ اردو کو مطمئن کر سکیں گے۔؟ واضح رہے کہ اتر پردیش اردو اکادمی کی جانب سے یوں تو کئی اہم اسکیمیں چلائ جارہی ہیں جنمیں ، اردو آئی اے ایس کو چنگ سینٹر،کمپیوٹر سنٹر، مختلف اصناف پر مشتمل مسودات کی اشاعت ، وظائف کی تقسیم ، سیمیناروں ، مشاعروں ڈراموں اور مذاکروں کا اہتمام وغیرہ وغیرہ ۔ لیکن ایک اہم سوال یہ ہے کہ اردو مخالف اس دور میں جب نوجوان طبقہ بے روزگاری کی زد میں ہے وسائل محدود ہورہے ہیں زبان اور روزگار کے مابین تعلق اور انسلاک کمزور پڑتا جارہاہے کیا مذکورہ روایتی اسکیمیں اور پروگرام اس اہم ادارے کی مقصدیت کو پورا کر رہے ہیں۔؟ اردو اکادمی کے سکرٹری زہیر بن صغیر کہتے ہیں کہ سوال اہم ہے اور اتنا اہم ہے کہ اس کے جواب میں اتر پردیش اردو اکادمی نے اب  بے روز گار نوجوانوں کو راستہ دکھانے اور ان کے مستقبلُ کو بہتر بنانے کے لئے کریش کورسز کی کوچنگ اور تربیت کے لئے کام شروع کردیا ہے۔

    ان ہنگامی کورسز  کے ذریعے  اکادمی بے روزگار نوجوانوں کو مختلف زمروں کے مسابقتی امتحانات کے لیے مفت کو چنگ فراہم کرے گی، مستقبل کی تلاش میں سرگرداں بے روزگاروں کو نہ صرف ایک راستہ ملے گا بلکہ  ضروری اور بنیادی وسائل کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ایک نظریہ اور تحریک بھی مل جائے گی۔ ظہیر بن صغیر یہ بھی کہتے ہیں کہ فنون لطیفہ پر مبنی پروگراموں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن وقت اورحالات کے پیش نظر ایسے اقدامات وفاقی طور پر کئے جانے کی ضرورت ہے جن سے اردو اور اہل اردو کو فائدہ پہنچ سکے۔اہل اردو کو اس سچائی کے اعتراف میں کوئی عار کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے اور یہ سوچنا چاہئے کہ گزشتہ ایک دہائی میں جس انداز کے مشاعرے اور سمینار منعقد کئے گئے کیا واقعی ان سے اردو اور اہل اردو کا کچھ بھلا ہو سکا۔۔؟

    ہاں اتنا ضرور ہوا کہ سیمیناروں اور دیگر پروگراموں کے انعقاد کے نام پر کچھ مخصوص لوگوں کی جیبیں گرم کی جاتی رہیں ، کتابوں کی اشاعت ایک اچھا عمل ہے لیکن کیا غیر معیاری اور بے مقصد تصنیف کی جانے والے کتابیں نئی نسل اور زبان و ادب کے فروغ میں کوئی کردار ادا کر سکیں گی ؟ ضرورت اسی بات کی ہے کہ اردو اکادمی کی جانب سے ایسے اقدامات اور کام کئے جانے چاہیں جن سے واقعی وہ مقاصد  پورے کئے جاسکیں جن کے حصول کے لئے ان اداروں کا قیام عمل میں آیا تھا۔

    اتر پردیش اردو اکادمی کے چئر مین کا تعلق گورکھ پور سے ہے اور وہ اکادمی کو کم ہی وقت دے پاتے ہیں ، وزیر اعلیٰ کے قریبی بھی تصور کیے جاتے ہیں اس لئے ممکن ہے کہ وہ اکادمی کا بجٹ بڑھ واکر کچھ ایسے کام کریں جو واقعی اردو اور اردو والوں کے لئے بہتر ہوں، اپنے شہر میں مشاعرے کا انعقاد کرانا کوئی تعجب خیز بات نہیں لیکن چئر پرسن کیف الوریٰ سے کچھ ایسے کام کرنے کی توقع بھی کی جارہی ہے جس سے یہ پیغام عام ہو سکے کہ حکومت نے ایک ذمہ دار محب اردو کے ہاتھ میں اتر پردیش اردو اکادمی جیسا اہم ادارہ سونپ دیاہے، زہیر بن صغیر تو یہی کہتے ہیں کہ چئر مین صاحب اردو فلاح و بہبود اور اہلِ اردو کے مسائل حل کرنے کے لئے سنجیدہ ہیں ، لیکن اردو زبان و ادب اور تہذیب و ثقافت سے جڑے لوگوں کے مطابق چئرمین موصوف کس حد تک سنجیدہ ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: