உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Uttar Pradesh News: عصری تعلیمی تقاضے اور حصولِ تعلیم کے جدید طریقہ کار

    کہا جاتا ہے کہ کامیاب زندگی گزارنے کے لئے صرف قدامت پسند ہونا یا اپنی بنیادوں کو نظر انداز کرکے صرف جدید ہوجانا مناسب نہیں بلکہ قدیم و جدید فکر و شعور کا امتزاج ضروری ہے

    کہا جاتا ہے کہ کامیاب زندگی گزارنے کے لئے صرف قدامت پسند ہونا یا اپنی بنیادوں کو نظر انداز کرکے صرف جدید ہوجانا مناسب نہیں بلکہ قدیم و جدید فکر و شعور کا امتزاج ضروری ہے

    فیروز خان کے مطابق انہوں نے اپنے نصاب کو اس انداز سے ترتیب دیا ہے کہ اس سے ہرعمر ہر نسل اور ہر مذہب و نظریےکے لوگ فیضیاب ہوسکتے ہیں اور ہندوستان و دیگر ممالک کے وہ لوگ جو اردو اور انگریزی زبانوں کی معمولی سی شُد بُد بھی رکھتے ہیں ان کلاسز سے بڑا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

    • Share this:
    لکھنئو۔ حصولِ تعلیم کے جدید تقاضوں کو اختیار کیے بغیر کیا معیاری تعلیم کا حصول ممکن ہے ؟ یہ ایک اہم سوال ہے اور اس سوال کے جواب میں تمام تہذیبوں ،خطّوں ، اور سبھی مذاہب اور مکاتب کے لوگ یہی اعتراف کرتے ہیں کہ معیارِ تعلیم کو بلند کرنے کے لئے لوگوں کی ذہن سازی کے ساتھ ساتھ ان کو ایسے مواقع اور وسائل بھی فراہم کئے جائیں جو ان کی رہنمائی کرکے زندگی کو آسان اور با مقصد و با معنی بنا سکیں۔ بات چاہے دنیاوی تعلیم کے پس منظر میں کی جائے یا دینی تعلیم کے تناظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ مقصد اور نظریے کے فقدان نے لوگوں کو گمراہ کردیا ہے اور وہ بے راہ روی کا شکار ہوکر تذبذب اور پس و پیش میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ سر زمینِ رام پور سے تعلق رکھنے والے معروف اسکالر فیروز خان یہی کہتے ہیں کہ دنیاوی بلندی و ترقی کی عمارتیں بھی اگر مذہبی بنیادوں پر تعمیر کی جائیں تو زیادہ مستحکم اور باعثِ تسکین ہوتی ہیں.

    فیروز خان نے فارمیسی اور مارکیٹنگ کے میدانوں میں غیر معمولی خدمات انجام دینے کے بعد برارہ کے عنوان سے لوگوں کو عربی زبان سے واقف کرانے اور انہیں دین و اسلام کی صحیح معنویت سے آگاہ کرنے کے لئے خصوصی کلاسز کا سلسلہ انٹرنیٹ کے ذریعے شروع کیا تھا جو آج ہزاروں لوگوں کی ذہنی نشو ونما بھی کر رہاہے اور انہیں عربی زبان کے بنیادی رموز و نکات سے بھی واقف کرا رہاہے ۔ فیروز خان کے مطابق انہوں نے اپنے نصاب کو اس انداز سے ترتیب دیا ہے کہ اس سے ہرعمر ہر نسل اور ہر مذہب و نظریےکے لوگ فیضیاب ہوسکتے ہیں اور ہندوستان و دیگر ممالک کے وہ لوگ جو اردو اور انگریزی زبانوں کی معمولی سی شُد بُد بھی رکھتے ہیں ان کلاسز سے بڑا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

    اہم بات یہ ہے کہ خدمت خلق کے جذبے اور لوگوں کو حیاتِ انسانی کے صحیح مقاصد سے واقف کرانے کے لئے شروع کیا گیا یہ آن لائن سلسلہ اس لئے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ اس کے ذریعے فیروز خان کسی خاص مکتب نظریے مذہب یا مشن کی نمائندگی اور ترجمانی نہیں کررہے ہیں بلکہ وہ آدمی کو انسان بنانے کے لئے عظیم و مقدس کتاب قرآن مجید کا سہارا لے کر خوبصورت معاشرے اور ایسی دنیا کی تعمیر کے خواب دیکھ رہے ہیں جس میں سبھی مذاہب کے لوگ امن و سکون کی زندگی بسر کرسکیں ۔

    معروف اسلامک مولانا قاری یوسف عزیزی کہتے ہیں کہ برارہ کے پلیٹ فارم سے شروع کیا گیا تعلیمی سلسلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اسے جدید وسائل اور عصری تقاضوں کے امتزاج کو ملحوظ رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے جو بہت اہم اور غیر معمولی کام ہے، معروف ملی و سماجی رہنما سید بلال نورانی کے مطابق آج انسانوں بالخصوص مسلمانوں کو ایسے ہی نظریات و خیالات پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے وہ خود بھی بہتر زندگی بسر کر سکیں اور دنیا کو بھی گہوارہ ءِ امن بنا سکیں ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: