உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Lucknwo News: معیاری اور پیشہ ورانہ تعلیم سے حل ہوں گے مسائل 

    Lucknwo News: معیاری اور پیشہ ورانہ تعلیم سے حل ہوں گے مسائل 

    Lucknwo News: معیاری اور پیشہ ورانہ تعلیم سے حل ہوں گے مسائل 

    Lucknwo News: ماہرین تعلیم یہی مانتے ہیں کہ تعلیم ہی تمام مسائل حل کرنے کے لئے بہترین آلہ کار ہے اور تعلیم سے مراد معیاری اور پیشہ ورانہ تعلیم ہے ، جس کے ذریعے ہم لوگوں کو خود کفیل بناکر انہیں بہترین مستقبل دے سکتے ہیں ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Lucknow | Uttar Pradesh | Kanpur
    • Share this:
    لکھنو : کہا تو یہی جاتا ہے کہ تعلیمی، سماجی، اقتصادی معاشی اور مذہبی محاذوں پر اقلیتیں رو بہ زوال ہیں اور بظاہر انقلابی طور پر ان کی بحالی اور فلاح کی کوئی صورت بھی نظر نہیں آرہی ہے، لیکن اہم سوال یہ ہے کہ ان حالات سے کیسے باہر آیا جائے اور ایسی کون سی تدابیر کی جائیں، جن کے ذریعہ سماج کے دبے کچلے لوگوں کو اوپر اٹھاکر ملک و سماج کا منظر نامہ بہتری کے لئے تبدیل کیا جاسکے ۔ معروف دانشور، ماہر تعلیم اور انٹیگرل یونیورسٹی کے بانی و چانسلر پروفیسر سید وسیم اختر کہتے ہیں کہ اگر تعلیم کے چراغ ہر گھر میں روشن کردئے جائیں تو اقلیتوں کی صرف تعلیمی پسماندگی ہی دور نہیں ہوگی بلکہ ان کے سماجی اور معاشی حالات بھی بہتر ہوجائیں گے کیونکہ تعلیم ہی ایک ایسا آلہ کار ہے جس کے ذریعے زندگی کے تمام شعبوں کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ملکی اور عالمی سطح پر بھی استحکام حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ پروفیسر سید وسیم اختر یہ اشارہ بھی کرتے ہیں کہ تعلیم بھی معیاری ہو جو انسان کو زندگی کا سلیقہ اور شعور سکھا کر مستقبل کو محفوظ و مستحکم کرسکے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: مہرشی دیانند یونیورسٹی کے گیٹ پر تابڑتوڑ فائرنگ، گولی لگنے سے چار طلبہ زخمی


    یونیورسٹی کے پرو چانسلر ڈاکٹر ندیم اختر کے مطابق موجودہ عہد میں ایسے نظام تعلیم پر عمل کرنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے ہمارے طلبا و طالبات پوری دنیا کے سامنے اپنے کردار اور معیار کی بنیاد پر سر اٹھاکر بات کرسکیں بلاشبہ سب سے بڑی اقلیت کے سامنے سب سے زیادہ مسائل ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ مایوس ہوکر بیٹھا جائے اور زندگی کی جنگ ہار دی جائے۔ اگر سنجیدہ تجزیہ جائے تو گزشتہ نصف صدی میں ملک کی سب سے بڑی اقلیت کا سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے، لیکن اس کے لئے کسی کو ذمہ دار ٹھہرانا غلط ہے، اپنا محاسبہ کرنے اور اس روشنی میں سنجیدہ عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ڈاکٹر ندیم اختر کہتے ہیں کہ صرف دوسرے لوگوں اور سرکاروں پر الزام تراشی کرنے اور بیان بازی کرنے سے کچھ نہیں ہوگا ۔ اپنی ناکامی ، تساہلی اور عدم توجہی اور ناکامی کا ٹھیکرا دوسرے لوگوں کے سر پھوڑنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، ہمیں ایسی کوششیں کرنی ہوں گی، جن سے ہم اپنے اور اپنے ملک کے مستقبل کو سنوار سکیں ۔

     

    یہ بھی پڑھئے: مصطفی آباد علاقہ میں دیوار گری، ایک مزدور کی دب کر موت


    یہ بھی ایک  ناقابل فراموش حقیقت ہے کہ جب جب بھی تعلیم کے حوالے سے بات کی جاتی ہے تو لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ موجودہ دور میں صرف تعلیم کے حصول سے نہں بلکہ معیاری تعلیم حاصل کرنے سے مسئلے حل ہو سکیں گے۔ سیکڑوں ، ہزاروں غیر معیاری مدارس و مکتب کھولنے سے بہتر ہے کہ کم درسگاہیں ہوں لیکن معیاری ہوں ۔

    یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ زندگی گزارنے اور ترقی کی نئی منازل طے کرنے کے لئے پروفیشنل یعنی پیشہ ورانہ تعلیم کی بھی بڑی اہمیت ہے اس طرف بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ لوگ اداروں اور حکومتوں پر الزام لگانے کے بجائے  حکومت کی فلاحی اسکیموں سے فائدہ اٹھائیں اور خود ایسی کوششیں کریں جن کے ذریعے ملک و معاشرے کو بہتری کے لئے تبدیل کیا جاسکے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: