உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Vacancy in PSB: کیا آپ بینکنگ امتحانات کی تیاری کررہے ہیں؟ مرکزی حکومت نے دی آسامیوں سے متعلق اہم اطلاع

    بینک میں ملازمت کے لیے امتحان دیا جاتا ہے۔

    بینک میں ملازمت کے لیے امتحان دیا جاتا ہے۔

    وزیر خزانہ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پی ایس بیسز میں 40,000 سے زیادہ آسامیاں ہیں جن میں آفیسرز، کلرک اور ماتحت عملے کی پوسٹیں شامل ہیں۔ یہ اطلاع پارلیمنٹ میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں دی گئی ہے۔

    • Share this:
      امت دیشمکھ، نئی دہلی
      اگر آپ یا کوئی شخص جسے آپ جانتے ہیں بینکنگ امتحان کی تیاری کر رہے ہیں تو یہ معلومات آپ کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ مرکزی حکومت نے کئی پبلک سیکٹر بینکوں (PSBs) میں مختلف زمروں میں خالی آسامیوں کے بارے میں معلومات جاری کی ہیں۔ وزیر خزانہ کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پی ایس بیسز میں 40,000 سے زیادہ آسامیاں ہیں جن میں آفیسرز، کلرک اور ماتحت عملے کی پوسٹیں شامل ہیں۔ یہ اطلاع پارلیمنٹ میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں دی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق یکم دسمبر 2021 تک مختلف پبلک سیکٹر بینکوں میں 8,05,986 منظور شدہ آسامیاں ہیں اور ان میں سے فی الحال 41,177 آسامیاں خالی ہیں۔

      ان تینوں بینکوں میں زیادہ سے زیادہ آسامیاں ہیں:

      وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق جس بینک میں افسران اور نچلے درجے کے افسران سمیت تمام زمروں میں سب سے زیادہ آسامیاں موجود ہیں، وہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (State Bank of India) ہے۔ حالانکہ اس بینک میں ماتحت ملازمین کی کوئی آسامیاں نہیں ہیں جس میں افسران کے لیے 3423 اور بینک عملے کے لیے 5121 آسامیاں خالی ہیں۔ ایس بی آئی کے بعد دوسرا بینک جس میں سب سے زیادہ آسامیاں ہیں وہ پنجاب نیشنل بینک (Punjab National Bank) ہے۔ پی این بی میں افسران کی 1210 پوسٹیں، کلرک کے لیے 716 اور ماتحت ملازمین کے لیے سب سے زیادہ 4817 پوسٹیں خالی ہیں۔

      مذکورہ رپورٹ کے مطابق تیسرا بینک جس میں سب سے زیادہ آسامیاں خالی ہیں وہ سنٹرل بینک آف انڈیا (Central Bank of India) ہے جہاں افسران کے لیے 3528 پوسٹیں، کلرک کے لیے 1726 اور ماتحت ملازمین کے لیے 1041 پوسٹیں خالی ہیں۔

      ان دونوں بینکوں میں کم سے کم آسامیاں ہیں:

      وزارت خزانہ کی رپورٹ میں 12 بینکوں میں خالی آسامیوں کی بات کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق جن بینکوں میں سب سے کم آسامیاں موجود ہیں ان میں بینک آف مہاراشٹرا (Bank of Maharashtra) اور بینک آف بڑودہ (Bank of Baroda) ہے جن میں بالترتیب صرف 190 اور 15 آسامیاں خالی ہیں اور یہ تمام آسامیاں افسران کے عہدوں کے لیے ہیں۔

      پہلے 27 پی ایس بی تھے لیکن اب صرف 12 ہیں۔ یاد رہے کہ 2017 تک ہندوستان میں پبلک سیکٹر میں 27 بینک تھے۔ لیکن بینکوں کے انضمام کے بعد ہندوستان میں اب صرف 12 پبلک سیکٹر بینکوں ہیں۔
      مختلف درجات میں ابتدائی تنخواہ؟

      بینکنگ سیکٹر میں کام کرنے والے انوپم ترویدی کے مطابق اگر آپ بینکوں میں ماتحت عملے کی بات کریں تو اس میں آفس بوائز اور دیگر ملازمین شامل ہیں۔ اس زمرے کے لیے کم از کم تعلیمی قابلیت دسویں پاس ہے اور امتحان آن لائن لیا جاتا ہے۔ ماتحت عملے کی ابتدائی تنخواہ 10 سے 20 ہزار کے درمیان ہے۔ افسر کی کیٹیگری (پروبیشنری آفیسر پی او) کی ابتدائی تنخواہ 30 سے ​​35 ہزار اور کلرک (آفس ​​اسسٹنٹ) کی ابتدائی تنخواہ 20 سے 25 ہزار کے درمیان ہے۔

      انوپم ترویدی کے مطابق پبلک سیکٹر بینکوں میں پی او اور کلرکوں کی بھرتی کے لیے قومی سطح کے امتحانات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ آئی بی پی ایس کو انسٹی ٹیوٹ آف بینکنگ پرسنل سلیکشن کہا جاتا ہے۔

      جانئے کہ کس بینک میں مختلف کیٹیگریز میں کتنی آسامیاں ہیں:

      مختلف بینکوں میں عہدوں سے متعلق تفصیلات
      مختلف بینکوں میں عہدوں سے متعلق تفصیلات


      بینکنگ سیکٹرز میں مختلف آسامیوں کے لیے آپ ان سائٹس پر جا سکتے ہیں:
      https://www.bankofbaroda.in/career
      https://www.bankofindia.co.in/career
      https://www.bankofmaharashtra.in/current_openings
      https://www.centralbankofindia.co.in/en/recruitments
      https://canarabank.com/User_page.aspx?cid=129
      https://www.indianbank.in/career/#!
      https://www.iob.in/1careers1
      https://www.pnbindia.in/Recruitments.aspx
      https://punjabandsindbank.co.in/content/recuitment
      https://sbi.co.in/hi/web/careers
      https://www.ucobank.com/English/job-opportunities.aspx
      https://www.unionbankofindia.co.in/english/aboutus-careers.aspx

      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: