உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر اور وگیان پراسار کے اشتراک سے دو روزہ قومی اردو سائنس کانگریس کااہتمام

    اس دو روزہ قومی اردو سائنس کانگریس میں سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق مختلف موضوعات پر سیشن، پینل ڈسکشن، پیپر پریزنٹیشن، پوسٹر سازی اور ماڈل سازی کے مقابلوں اور اردو زبان کے ذریعے اس کی تشہیر پر مبنی مختلف پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ الگ الگ ٹیکنیکل سیشنز بھی ہوں گے۔

    اس دو روزہ قومی اردو سائنس کانگریس میں سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق مختلف موضوعات پر سیشن، پینل ڈسکشن، پیپر پریزنٹیشن، پوسٹر سازی اور ماڈل سازی کے مقابلوں اور اردو زبان کے ذریعے اس کی تشہیر پر مبنی مختلف پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ الگ الگ ٹیکنیکل سیشنز بھی ہوں گے۔

    اس دو روزہ قومی اردو سائنس کانگریس میں سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق مختلف موضوعات پر سیشن، پینل ڈسکشن، پیپر پریزنٹیشن، پوسٹر سازی اور ماڈل سازی کے مقابلوں اور اردو زبان کے ذریعے اس کی تشہیر پر مبنی مختلف پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ الگ الگ ٹیکنیکل سیشنز بھی ہوں گے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    سنٹرل یونیورسٹی آف کشمیر (CUK) اور وگیان پراسر (Vigyan Prasar) حکومت ہند کے اشتراک کے تحت 22 ستمبر 2021 سے کشمیر یونیورسٹی، سری نگر میں دو روزہ قومی اردو سائنس کانگریس۔2021 کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ جس کا عنوان سائنس کی ترسیل، ترویج اور توسیع: امکانات و مستقبل (Science Communication, Popularization and its Existence (SCoPE) in Urdu: The Road Ahead) ہے۔

    سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ قومی اردو سائنس کانگریس میں جموں و کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں سے کئی مندوبین اور نامور ماہرین شریک ہوں گے۔ اس میں کہا گیا کہ کانگریس کے انعقاد کا مقصد اردو زبان میں سائنس کی ترسیل (Science communication) کو آسان بنانا اور سائنسی مزاج (Scientific temper) کو فروغ دینا ہے۔

    مذکورہ بیان میں کہا گیا کہ یہ پروگرام بہت فائدہ مند ہوگا کیونکہ اس سے اردو کو سائنس اور مواصلات کی زبان کے طور پر فروغ دینے میں مدد ملے گی اور جب مقامی زبانوں کے ذریعے سائنس کو فروغ دیا جائے گا تو سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق تصورات اور اصطلاحات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔

    واضح رہے کہ اس دو روزہ قومی اردو سائنس کانگریس میں سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق مختلف موضوعات پر سیشن، پینل ڈسکشن، پیپر پریزنٹیشن، پوسٹر سازی اور ماڈل سازی کے مقابلوں اور اردو زبان کے ذریعے اس کی تشہیر پر مبنی مختلف پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ الگ الگ ٹیکنیکل سیشنز بھی ہوں گے، جن میں مختلف اداروں اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ اور ماہرین سے شرکت کی توقع ہے اور وہ مختلف موضوعات پر اپنے مقالے پیش کریں گے۔

    کانگریس کے دوران مندوبین سائنس اور اردو زبان، اردو میں سائنس کی فلم سازی: دائرہ کار اور چیلنجز، اردو میں سائنسی ترسیل کے فروغ کے لیے تنظیموں کا کردار، اردو میں سائنسی کتابیں اور جرائد تبادلہ خیال، اردو ترجمہ میں سائنسی ترسیل کی اہمیت، کووڈ۔19 کے دوران اردو میں SCoPE کا کردار، جدید معاشرے میں اردو میں SCoPE کی اہمیت، سائنسی وژن کی تخلیق کے لیے تعلیمی نظام، روایتی اور نیو ایج میڈیا کے ذریعے اردو میں سائنسی ترسیل جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی مباحثے ہوں گے۔

    مذکورہ سائنس کانگریس کے محرک مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے سابقہ وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اسلم پرویز ہیں۔ جو ماہنامہ اردو سائنس نئی دہلی کے مدیر ہیں۔ ماہنامہ اردو سائنس نئی دہلی، گذشتہ 28 سال سے مسلسل اردو زبان میں سائنس کی ترسیل کو آسان بنانے اور سائنسی مزاج کو فروغ میں مصروف ہے۔ جسے اردو میں ہندوستان کا پہلا سائنسی و معلوماتی رسالہ کا درجہ حاصل ہے۔

    ڈین اسکول آف میڈیا اسٹڈیز پروفیسر شاہد رسول کے مطابق چھٹی اور دسویں جماعت کے طلبہ کے لیے پوسٹرز، سائنسی مقابلے جات، انوائرمنٹ اینڈ بائیو ڈائیورسٹی اور انرجی اینڈ واٹر کے موضوعات پر پروگرام ہوں منعقد کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے مقاصد مقامی زبانوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو مقبول بنانا ہے۔ وہیں اردو کو بطور سائنس مواصلات کے فروغ دینا بھی اس کے مقاصد میں شامل ہیں پروفیسر رسول نے کہا کہ اس کا مقصد یہ بھی ہے کہ ملک کی مختلف یونیورسٹیوں اور کالجوں میں فیکلٹی اور طلبا کے ذریعہ اردو کو سائنسی مواصلات کے لیے کس حد تک استعمال کیا گیا اور اردو کو سائنس کے فروغ کے ذرائع کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات کیا ہیں؟ اس پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔
    Published by:Mohammad Rahman Pasha
    First published: