ہوم » نیوز » تعلیم و روزگار

آرٹیفشیل انٹلیجنس یامصنوعی ذہانت کاشعبہ میں روزگار کے مواقع اور مسلم نوجوانوں کی تیاری؟

آنے والے دنوں میں آرٹیفشیل انٹلیجنس کا بڑے پیمانہ پراستعمال ہوگالہٰذا اے آئی کی اہمیت کے مد نظر حکومت تلنگانہ بڑے پیمانہ پر اس شعبہ کے ماہرین اور اسٹارٹ اپس کو راغب کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

  • Share this:
آرٹیفشیل انٹلیجنس یامصنوعی ذہانت کاشعبہ میں روزگار کے مواقع اور مسلم نوجوانوں کی تیاری؟
آرٹیفشیل انٹلیجنس یا مصنوعی ذہانت کا شعبہ میں روزگار کے مواقع اور مسلم نوجوانوں کی تیاری

ان دنوں حیدرآباد کے مختلف مساجد کے باہر دو نوجوان پرچیاں با ٹتے نظر آتے ہیں۔ سوشیل میڈیا کے اس دور میں اعجاز اور افسر جمعہ کی نماز سے فارغ ہونے والے نوجوانوں کو اس بات کی طرف مایل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انفارمیشن ٹکنالوجی میں آنے والا دور آرٹیفشیل انٹلیجنس اور مشین لرننگ کا ہے ۔اس حقیقت سے تو سب واقف ہیں کہ انفارمیشن ٹکنالوجی وقت کے ساتھ تیزی سے بدلتی ہے اس صنعت سے جڑے لوگ ہمیشہ تبدیلی کیلئے تیار رہتے ہیں ۔


معروف ای لرننگ سافٹ ویر کمپنی سوفٹ سلوشنز کے بانی ایم اے سعید کا ماننا ہے کہ ہندوستان میں نووے کے دہے میں سافٹ ویر کی صنعت کے تعارف کے بعد اس شعبہ نے ٹکنالوجی کے مختلف ادوار دیکھے ہیں اور سافٹ ویر کی صنعت میں وہی کامیاب رہتے ہیں جو ہمیشہ ٹکنالوجی کی تبدیلی سے اپنے آپ کو ہم آہنگ رکھتے ہیں ۔آرٹفشیل انٹلیجنس یا اے آئی اوراسکی مدد گار مشین لرننگ تیزی سے بدلتے انفارمیشن ٹکنالوجی کا نیا رجحان ہے۔ اے آئی یا آرٹفشیل انٹلیجنس ایک مقبول عام اصطلاح بن چکی ہے جس سے نہ صرف آئی ٹی جڑے ماہرین بلکہ عوام بھی بہ خوبی واقف ہیں آرٹفشیل انٹلیجنس ایک ایسا نظام ہے جوانسانی سمجھ کے اصول پرکام کرتا ہے ۔


آپ نے اسمارٹ کا رس کے بارے میں سنا ہو گا اس کا مطلب ہے ایسی گاڑیاں جو ڈرایورکے بغیر چل سکتی ہیں جس نظام کے ذریعہ یہ کاریں یا گاڑیاں چلتی ہیں اسے آرٹفشیل انٹلیجنس کہا جاتا ہے یہ اسمارٹ کا رس اے آئ کے ہزاروں اپلکشنس میں سے ایک ہیں جو ہماری روز مرہ کی زندگی میں استعمال ہو رہی ہیں ۔اگر آپ گوگل اسسٹنٹ کا استعمال کرتے ہیں تو اسکا مطلب ہے آپ آرٹیفیشل انٹلیجنس کے اصول پر چلنے والے ایک اپلیکیشن کا استعمال کر رہے ہیں ۔ تلنگانہ کا صدر مقام حیدرآباد انفارمیشن ٹکنالوجی کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے ۔حکومت تلنگانہ چاہتی ہے کہ حیدرآباد میں آئی ٹی کی بنیادی اور درمیانہ درجہ کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ہی ساتھ اعلیٰ درجہ کی ٹیکنالوجی پر مشتمل آئی ٹی کی صنعت کو بھی فروغ حاصل ہو ۔


آئی ٹی کے ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں آرٹیفشیل انٹلیجنس کا بڑے پیمانہ پراستعمال ہوگالہٰذہ اے آئ کی اہمیت کے مد نظر حکومت تلنگانہ بڑے پیمانہ پر اس شعبہ کے ماہرین اور اسٹارٹ اپس کو راغب کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے انھیں توقع ہے کہ اس پر تین تا چار بلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی ۔ آئی ٹی صنعت کے ماھر شیخ رؤف باشاہ کا کہنا ہے کہ آرٹیفشیل انٹلیجنس کی بڑے پیمانہ پر آمد ہو چکی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ لمبے عرصۂ تک چلنے والی ہے '' ۔اوراہم بات یہ ہے تلنگانہ حکومت چاھتی ہے کہ ایسے اقدامات کئے جائیں جس کے نتیجہ میں اس شعبہ میں صرف حیدرآباد میں ہی تیس ہزار مواقع دستیاب ہوں حیدرآباد میں آئ ٹی کی صنعت میں تقریباً پانچ لاکھ لوگ جڑے ہوئے ہیں جن میں مسلمان پانچ فیصد سے بھی کم ہیں آئی ٹی کی صنعت میں موجود مواقعوں سے مسلم نوجوانوں کو واقف کروانے کیلئے چند مسلم نوجوان سرگرم ہیں ۔

 آرٹفشیل انٹلیجنس  یا اے آئی اوراسکی مدد گار مشین لرننگ تیزی سے بدلتے انفارمیشن ٹکنالوجی کا نیا رجحان ہے۔
آرٹفشیل انٹلیجنس یا اے آئی اوراسکی مدد گار مشین لرننگ تیزی سے بدلتے انفارمیشن ٹکنالوجی کا نیا رجحان ہے۔


یہ ایکٹوسٹس چاہتے ہیں کہ آئی ٹی کی صنعت میں پہلے سے برسرکار ماہرین اور آئی ٹی میں کیریر بنا نے کے خواہش مند نوجوان اے آئی سے بخوبی واقف ہو جائیں۔لیکن اے آئی سے جڑی ٹکنا لوجیس سے واقفیت تھوڑا مہنگا امر ہے اگر آپ پہلے سے ہی آئ ٹی سے جڑے ہیں تو اسکی ٹریننگ کا خرچ برداشت کرنا آپ کیلئے اتنا مشکل نہیں ہوگا لیکن ایسے نوجوان جو آئی ٹی کی صنعت میں داخلہ حاصل کرنا چاہتے ہیں انکے لئے اسکی تربیت انکے لیا مہنگی ثابت ہو سکتی ہے اسلئے چند تنظیمیں چاہتی ہیں کہ مواقعوں سے محروم مسلم طبقہ کے نوجوانوں کو اس کی کم خرچ لیکن معیاری تربیت فراہم کروائی جائیگی۔ایک دور تھا جب ریاستی اقلیتی فینانس کمیشن ریاست بے روزگار اقلیتی انجینئرز کو سنٹر فا ر گوڈ گورننس کے تعاون سے حیدرآباد حج ہاوز میں سافٹ ویرکی تربیت فراہم کرواتی تھی جسے سال دو ہزار میں تلنگانہ کے قیام کے بعد بلا وجہ ختم کردیا گیا مسلم نوجوانوں کا مطالبہ ہے کہ اس کو دوبارہ شروع کیا جائے ۔
First published: Mar 20, 2020 11:57 PM IST