உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Dr. Kamal Ranadive Google Doodle: یہ ڈاکٹرکمال رنادیوکون ہیں؟ گوگل ڈوڈل ان کی سالگرہ کیوں منارہاہے؟

    ہندوستانی سیل بائیولوجسٹ ڈاکٹر کمال رنادیو Dr. Kamal Ranadive کی 104 ویں سالگرہ

    ہندوستانی سیل بائیولوجسٹ ڈاکٹر کمال رنادیو Dr. Kamal Ranadive کی 104 ویں سالگرہ

    انڈین کینسر ریسرچ سینٹر (ICRC) کی ڈائریکٹر اور کینسر کی نشوونما کے جانوروں کی ماڈلنگ کے علمبردار کے طور پر ڈاکٹر رنادیو ہندوستان کے پہلے محققین میں سے تھی جنہوں نے چھاتی کے کینسر (breast cancer) اور موروثیت کے درمیان تعلق کو تحقیقاتی انداز میں پیش کیا۔ اسی دوران انھوں نے کینسر اور بعض وائرس کے درمیان روابط کی بھی نشاندہی کی۔

    • Share this:
      مشہور سرچ انجن گوگل Google ہندوستانی سیل بائیولوجسٹ ڈاکٹر کمال رنادیو Dr. Kamal Ranadive کی 104 ویں سالگرہ پر گوگل ڈوڈل (Google Doodle) بنا کر جشن منا رہا ہے۔ رنادیو کینسر cancer کی تحقیق کے لیے مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ وہ سائنس اور تعلیم کے ذریعے ایک بہتر اور ماسوی معاشرہ کی تشکیل کے ضمن میں بھی یاد کی جاتی ہیں۔

      ہندوستان میں مقیم مہمان آرٹسٹ ابراہیم رینتکاتھ Ibrahim Rayintakath نے ہی اس گوگل ڈوڈل کو تخلیق کیا ہے۔ آج کے ڈوڈل کے بارے میں بات کرتے ہوئے ابراہیم نے کہا کہ ’’میرے لیے تحریک کا بنیادی ذریعہ 20 ویں صدی کے آخر سے لیبارٹری کی تحقیق اور جذام leprosy و کینسر cancer سے متعلق خلیوں کی خوردبینی دنیا (microscopic world of cells ) ہے‘‘۔ ابراہیم کی طرف سے تصویر کردہ ڈوڈل میں دکھایا گیا ہے کہ ڈاکٹر رنادیو ایک خوردبینی شئے انتہائی انہماک سے نظارہ کررہی ہیں۔



       




      View this post on Instagram





       

      A post shared by ibrahim rayintakath (@ibrahirn)





      حیاتیاتی سائنس میں بچپن سے ہی دلچسپی:

      کمال سمرتھ Kamal Samarath کمل رنادیو کے نام سے مشہور ہیں۔ وہ آج ہی کے دن 1917 میں پونے، ہندوستان میں پیدا ہوئی۔ میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے اس کے والد کی حوصلہ افزائی نے رنادیو کو تعلیمی لحاظ سے آگے بڑھنے کی ترغیب دی، لیکن انھوں نے اس کی بجائے اپنے لیے حیاتیات biology کو پسند کیا۔

      سنہ 1949 میں انھوں نے انڈین کینسر ریسرچ سینٹر (ICRC) میں ایک محقق کے طور پر کام کرتے ہوئے خلیات کا مطالعہ کیا اور سائیٹولوجی cytology میں ڈاکٹریٹ حاصل کی۔ اس کے بعد امریکی جانز ہاپکنز یونیورسٹی Johns Hopkins University میں فیلوشپ کے بعد وہ ممبئی (تب بمبئی) اور آئی سی آر سی واپس آگئی، جہاں انھوں نے ملک کی پہلی ٹشو کلچر لیبارٹری (tissue culture laboratory) قائم کی۔

      علامتی تصویر (ٹوئٹر: BiotechIndia)
      علامتی تصویر (ٹوئٹر: BiotechIndia)


      وائرس کے درمیان روابط کا پتہ لگایا تھا:

      انڈین کینسر ریسرچ سینٹر (ICRC) کی ڈائریکٹر اور کینسر کی نشوونما کے جانوروں کی ماڈلنگ کے علمبردار کے طور پر ڈاکٹر رنادیو ہندوستان کے پہلے محققین میں سے تھی جنہوں نے چھاتی کے کینسر (breast cancer) اور موروثیت کے درمیان تعلق کو تحقیقاتی انداز میں پیش کیا۔ اسی دوران انھوں نے کینسر اور بعض وائرس کے درمیان روابط کی بھی نشاندہی کی۔

      اس شاندار کام کو جاری رکھتے ہوئے رنادیو نے مائکوبیکٹیریم لیپری (Mycobacterium leprae) کا مطالعہ کیا، یہ وہ جراثیم ہیں جو جذام کا سبب بنتے ہیں۔ انھوں نے اس کے خلاف ایک ویکسین تیار کرنے میں مدد کی۔ سنہ 1973 میں ڈاکٹر رنادیو اور ان کے دیگر 11 ساتھیوں نے سائنسی شعبوں میں خواتین کی مدد کے لیے انڈین ویمن سائنٹسٹس ایسوسی ایشن (IWSA) کی بنیاد رکھی۔

      صحت اور غذائیت کی تعلیم :

      رنادیو نے پرجوش طریقے سے بیرون ملک طلبا اور ہندوستانی اسکالرز کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ہندوستان واپس آئیں اور اپنے علم کو اپنی برادیری اور اپنے ملک کے لیے کام میں لگائیں۔ سنہ 1989 میں ریٹائر ہونے کے بعد ڈاکٹر رنادیو نے مہاراشٹر میں دیہی برادریوں میں کام کیا۔ انھوں نے خواتین کو صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کے طور پر تربیت دی اور اس دوران انھیں صحت اور غذائیت کی تعلیم فراہم کی۔آئی ڈبلیو ایس اے کے اب ہندوستان میں 11 چیاپٹرس ہیں اور یہ ادارہ سائنس میں خواتین کے لیے اسکالرشپ اور بچوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ انصاف برائے صحت (health justice) اور تعلیم کے لیے ڈاکٹر رنادیو کی لگن آج بھی بہت سوں کے لیے تحریک کا سبب ہے۔ جس سے کئے سائنس داں متاثر ہوے ہیں۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: