ہوم » نیوز » انٹرٹینمنٹ

جب گھر آکر رویا کرتے تھے بالی ووڈ اداکار عامر خان، وجہ جان کر آپ کے بھی نکل آئیں گے آنسو

مسٹر پرفیکشنسٹ کے نام سے مشہور بالی ووڈ اداکار عامر خان (Aamir Khan) آج ہندستان کے ٹاپ اداکار میں شمار کئے جاتے ہیں۔ اپنے کرداروں سے لوگوں کے دلوں میں بس جانے والے عامر خان نے بالی ووڈ میں ایک۔دو نہیں بلکہ کئی ایسی فلمیں کیں جس میں انہوں نے اپنے کرداروں سے لوگوں کو اپنا دیوانہ بنا لیا دیا۔

  • Share this:
جب گھر آکر رویا کرتے تھے بالی ووڈ اداکار عامر خان، وجہ جان کر آپ کے بھی نکل آئیں گے آنسو
بالی ووڈ اداکار عامر خان

مسٹر پرفیکشنسٹ کے نام سے مشہور بالی ووڈ اداکار عامر خان (Aamir Khan)  آج ہندستان کے ٹاپ اداکار میں شمار کئے جاتے ہیں۔ اپنے کرداروں سے لوگوں کے دلوں میں بس جانے والے عامر خان نے بالی ووڈ میں ایک۔دو نہیں بلکہ کئی ایسی فلمیں کیں جس میں انہوں نے اپنے کرداروں سے لوگوں کو اپنا دیوانہ بنا لیا دیا۔ قیامت سے قیامت تک، دل، تارے زمین پر، 3 ایڈیٹس، دنگل اور پی کے جیسی بہترین فلموں سے انہوں نے خود کو بار۔بار ثابت کیا۔ حال ہی میں عامر خان (Bennett university) کے دیشانت تقریب 2020  میں پہنچے جہاں وہ چیف گیسٹ تھے۔ یہاں انہوں نے طلبا سے بہت سی  باتیں شیئر کیں، ساتھ ہی انہوں نے اپنے کریئر کا موازنہ ایک وقت میں دلدل میں پھنس جانے سے کیا۔


عامر خان نے یہاں کہا کہ قیامت سے قیامت تک کے بعد میں نے کہانیوں کی بنیاد پر تقریبا آٹھ یا نو فلمیں سائن کیں۔ اس وقت ڈائریکٹر تقریبا سبھی نئے تھے۔ ان فلموں نے بم باری شروع کردی اور مجھے میڈیا کے ذریعے ون فلم ونڈر کہا جانے لگا۔ انہوں نے کہا لیکن میرا کریئر ڈوب رہا تھا۔ ایسا لگا جیسے میں کسی جلدی میں ہوں۔ میں بہت دکھی تھا اور گھر آکر رویا کرتا تھا۔


انہوں نے بتایا کہ وہ جن لوگوں کے ساتھ کام کرنا چاہتے تھے وہ دلچسپی نہیں لے رہے تھے اور انہوں نے محسوس کیا کہ انہوں نے جو فلمیں کیں یا اس دور میں کر رہے تھے وہ اچھی نہیں تھیں۔ عامر خان نے کہا کہ قیامت سے قیامت تک کے پہلے دو سالوں میں میں نے اپنی زندگی کی سب سے کزور حالت کا تجربہ کیا جن فلموں کو میں نے سائن کیا تھا وہ ایک کے بعد ایک ریلیز اور فلاپ ہونے لگیں۔ میں سوچتا تھا کہ میں اب ختم ہورہا ہوں۔


عامر نے بتایا کہ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب بھلے کریئر ختم ہو جائے  لیکن تب تک وہ کسی بھی فلم کو سائن نہیں کریں گے جب تک کہ انہیں ایک بہترین ہدایتکار ، عظیم اسکرپٹ اور ایک بہترین پروڈیوسر نہیں ملے گا۔



عامر خان نے بتایا کہ 44 سال کی عمر میں  انہوں نے راجکمار ہیرانی کی فلم '3 ایڈیٹس' میں کالج کے اسٹوڈینٹ کا کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب فلم کے پروڈیوسر نے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے سوچا کہ وہ کالج کے طالب علم کا کردار کیسے کر پائیں گے۔ عامر خان نے مزید کہا کہ وہ فلم کی  'کامیابی کے پیچھے مت بھاگو، قابلیت کا پیچھا کرو' کے اصل خیال سے متاثر ہوئے۔ اسی دوران ، راجکمار ہیرانی کو یہ بھی معلوم تھا کہ عامر خان اس کردار کے ساتھ انصاف کرسکتے ہیں۔

آپ کو بتادیں کہ ایک انٹرویو کے دوران عامر خان نے کچھ سال پہلے کہا تھا، اس وقت مجھے لگا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ کام کر رہا ہوں جن سے میں جڑ نہیں سکتا۔ مجھے نہیں پتہ تھا کہ اس حالت سے کیسے باہر نکلا جائے۔ میں نے کچھ فلموں  کیلئے پر عزم کیا تھا اس لئے میں انہیں کرنے سے نہیں چوکا۔ میں نے وہ فلمیں کیں لیکن میں دکھی تھا۔ اس دردناک وقت میں ، میں نے اپنے آپ سے ایک فلم کرنے کا وعدہ کیا تھا جب تک میں مطمئین اسکرپٹ کے ساتھ نہیں ہوجاتا، فلم نہیں کروں گا۔

عامر خان کے ورک فرنٹ کی بات کریں تو آنے والی فلم لال سنگھ چڈھا میں کرینہ کپور خان کے ساتھ نظر آئیں گے جس کی شوٹنگ تقریبا مکمل ہو چکی ہے۔
Published by: sana Naeem
First published: Oct 17, 2020 11:32 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading