اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ’قیامت سے قیامت تک‘ کی شوٹنگ پر صرف 1ہزار روپے سیلری کماتے تھے عامر خان، پھر راتوں رات بن گئے اسٹار

    ’قیامت سے قیامت تک‘ کی شوٹنگ پر صرف 1ہزار روپے سیلری کماتے تھے عامر خان، پھر راتوں رات بن گئے اسٹار

    ’قیامت سے قیامت تک‘ کی شوٹنگ پر صرف 1ہزار روپے سیلری کماتے تھے عامر خان، پھر راتوں رات بن گئے اسٹار

    سال 1988 میں ریلیز ہوئی منصور علی خان کی فلم ’قیامت سے قیامت تک‘ سوپر ہٹ رہی تھی۔ اس فلم کے بعد عامر خان راتوں رات اسٹار بن گئے تھے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai, India
    • Share this:
      بالی ووڈ سوپر اسٹار عامر خان نے اپنی پہلی کمائی کو لے کر بڑا انکشاف کیا ہے۔ ایکٹر نے حال ہی میں بتایا کہ انہیں پہلی سوپر ہٹ فلم کے دوران ہر مہینے صرف 1 ہزار روپے سیلری ملتی تھی۔ جب کہ انہوں نے ’قیامت سے قیامت تک‘ جیسی بلاک بسٹر فلم میں لیڈ رول پلے کیا تھا۔

      قیامت سے قیامت نے جیتے تھے 7 فلم فیئر ایوارڈس
      بالی ووڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان نے حال ہی میں انٹرویو میں ان کے ملے اسٹارڈم کو لے کر انکشاف کیا ہے۔ سال 1988 میں ریلیز ہوئی منصور علی خان کی فلم ’قیامت سے قیامت تک‘ سوپر ہٹ رہی تھی۔ اس فلم کے بعد عامر خان راتوں رات اسٹار بن گئے تھے۔ فلم نے 7 فلم فیئر ایوارڈ بھی جیتے تھے۔ نیوکمر عامر خان کی لاکھوں فیمیل فین فالووینگ بن گئی تھیں۔ حالانکہ، عامر خان کو اسٹارڈم کے بارے میں کچھ بھی پتہ نہیں تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      سشمیتا سین کی ایک جھلک پانے کو بے تاب نظر آئے فینس، منی پور سے کیا ویڈیو پوسٹ، کہی یہ بات

      یہ بھی پڑھیں:
      ’دریشیم2‘ فیم تبو نے کھولا کرئیر کی کامیابی کا راز، کہا-گزشتہ دیڑھ سال میں۔۔۔

      پہلی فلم کے وقت ملتی تھی 1 ہزار روپے سیلری
      ہیومنس آف بامبے سے بات کے دوران عامر خان نے پہلی فلم اور اسٹارڈم کو لے کر کئی دلچسپ قصے شیئر کیے ہیں۔ ایکٹر نے بتایا، ’مجھے ایوارڈس کی پرواہ نہیں رہی ہے، مجھے ایسا نہیں بولنا چاہیے تھا لیکن مجھے ایوارڈ کو لے کر ہمیشہ شک رہا ہے، میرے من میں ان کے لیے اتنا احترام نہیں تھا۔ انہیں جیتنا میرے لیے کوئی بڑی بات نہیں ہوتی تھی لیکن فلم بہترین بنانے پر ہمیشہ میرا فوکس رہا۔ منصور بہت اچھے ڈائریکٹر رہے ہیںَ بہت اچھے دماغ کے ہیں۔ میں نے بہت کچھ سیکھا، میری گروتھ بہت تیز تھی۔ میں اس سیٹ پر صرف لیڈ ایکٹر ہی نہیں تھا، میں پہلا اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھی تھا۔ تب مجھے ہر مہینے ایک ہزار روپے سیلری ملتی تھی جو اس وقت کافی تھی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: