اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ’6مہینوں میں مر جاوگے‘،جب موٹاپے کی وجہ سے عدنان سامی کو ڈاکٹر نے کیا تھا خبردار

    ’6مہینوں میں مر جاوگے‘،جب موٹاپے کی وجہ سے عدنان سامی کو ڈاکٹر نے کیا تھا خبردار

    ’6مہینوں میں مر جاوگے‘،جب موٹاپے کی وجہ سے عدنان سامی کو ڈاکٹر نے کیا تھا خبردار

    سب جانتے ہیں کہ جب عدنان سامی نے انڈسٹری میں قدم رکھا تھا تو اس وقت وہ کافی موٹے ہوئے کرتے تھے۔ اس دوران عدنان سامی کا قریب 200 کلو وزن ہوا کرتا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai, India
    • Share this:
      مشہور گلوکار عدنان سامی اپنی جادوئی آواز کے لیے جانے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کمال کی فٹنیس ٹرانسفارمیشن کی بدولت عدنان سامی کا نام اکثر سرخیوں میں آتا رہتا ہے۔ اس درمیان عدنان سامی نے اپنی فٹنیس کے سفر کو یاد کرتے ہوئے قصہ سنایا ہے۔ عدنان نے بتایا کہ موٹاپے کی وجہ سے ان کو سونے میں، چلنے میں اور کار میں بیٹھنے میں کافی پریشانی ہوتی تھی۔ اتنا ہی نہیں ڈاکٹر نے ان سے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ 6 مہینوں میں موٹاپے کی وجہ سے ان کی موت ہوجائے گی۔



       




      View this post on Instagram





       

      A post shared by ADNAN SAMI (@adnansamiworld)





      موٹاپے کی وجہ سے عدنان سامی کو ہوئی پریشانی
      ہم سب جانتے ہیں کہ جب عدنان سامی نے انڈسٹری میں قدم رکھا تھا تو اس وقت وہ کافی موٹے ہوئے کرتے تھے۔ اس دوران عدنان سامی کا قریب 200 کلو وزن ہوا کرتا تھا۔ کچھ سالوں بعد جب عدنان کو موٹاپے کی وجہ سے پریشانی ہونے لگی تو انہوں نے ڈاکٹر کی صلاح لینا شروع کردیا۔ بروٹ انڈیا کو دئیے انٹرویو میں عدنان نے بتایا کہ، ’زیادہ موٹاپے کی وجہ سے مجھے کافی پریشانیاں ہونے لگی تھیں۔‘



       




      View this post on Instagram





       

      A post shared by ADNAN SAMI (@adnansamiworld)





      یہ بھی پڑھیں:
      عالیہ بھٹ کی ’برہماستر‘ نے کے جی ایف2‘ سمیت ’دی کشمیر فائلس‘ کو گوگل سرچ میں دی شکست

      یہ بھی پڑھیں:
      ’توبہ-توبہ سارا موڈ خراب کردیا‘۔۔۔ یہ ریپ سانگ کرکے بری طرح ٹرول ہوئیں شہناز گل

      ’میں صوفےپر بیٹھے بیٹھے سویا کرتا تھا۔ میں اٹھ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ تک نہیں چل سکتا تھا۔ اتنا ہی نہیں اپنی کار میں بیٹھنے کے لیے ڈرائیوروں کو ٹریننگ دینی پڑی، تا کہ وہ میرے پیروں کو اٹھاکر گاڑی میں رکھ سکیں۔ اس کے بعد میرے ڈاکٹروں نے مجھ سے کہا تھا کہ ایسے ہی اگر موٹاپا بڑھتا چلا گیا تو 6 مہینوں بعد کسی ہوٹل میں تم مرے پڑے ہوں گے۔ اس دن کے بعد سے میں نے ٹھان لیا تھا کہ مجھے اپنا وزن کم کرنا ہے۔‘
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: