உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Film On Qandeel Baloch:پاکستانی سوشل میڈیا اسٹار قندیل بلوچ پر ہندوستان میں بنے گی فلم

    قندیل بلوچ پر ہندوستان میں بنے گی فلم۔

    قندیل بلوچ پر ہندوستان میں بنے گی فلم۔

    Film On Qandeel Baloch: ساتھ ہی ساتھ پروڈیوسر سنی کھنہ نے کہا، ’قندیل بلوچ کی کہانی اہم اور متعلقہ ہے، مجھے یقین ہے کہ لوگوں کو یہ فلم دیکھنا چاہیے۔ میں اس فلم کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہوں۔‘

    • Share this:
      Film On Qandeel Baloch:فلمساز النکریتا سریواستو پاکستانی سوشل میڈیا اسٹار قندیل بلوچ پر فلم بنانے جا رہی ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ قندیل بلوچ کو 2016 میں 26 سال کی عمر میں قتل کر دیا گیا تھا۔ النکریتا سریواستو، شریک پروڈیوسر وکاس شرما اور سنی کھنہ نے صحافی صنم مہر کی لکھی ہوئی اور ایلیف کی شائع کردہ کتاب "دی سنسیشنل لائف اینڈ ڈیتھ آف قندیل بلوچ" کے حقوق حاصل کر لیے ہیں۔

      النکریتا سریواستو نے کہا، ’جب قندیل بلوچ کو 2016 میں پاکستان میں قتل کیا گیا تو میں گہرے صدمے میں تھی۔ یہ ایک خوفناک غیرت کے نام پر قتل تھا۔ میں اس کے بارے میں بار بار سوچتی تھی۔ میں نے قندیل کی بہت سی ویڈیوز دیکھی اور ایک میں ایک تعلق محسوس ہوا۔ انہوں نے کہا، ’ایک چھوٹے سے گاؤں کی ایک غریب لڑکی۔ وہ صرف 26 سال کی تھیں جب اسے قتل کیا گیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کی موت کے بعد ہی اسے ایک فیمنسٹ کے طور پر پہچانا گیا۔‘

      النکریتا کا مزید کہنا ہے کہ ’’میں اس فلم کے ذریعے قندیل بلوچ کی ہمت کو دنیا کے سامنے لانا چاہتی ہوں۔ میں ان کی یادوں کو تازہ کرنا چاہتی ہوں۔ ان کی زندگی مختصر تھی، لیکن امیدوں اور جذبوں سے روشن تھی۔‘‘ پروڈیوسر وکاس شرما کا کہنا ہے کہ’قندیل کی کہانی کو فلم میں بتانے کی ضرورت ہے۔ النکریتا فلم کی پروڈیوسر ہیں۔ وہ اپنے کرداروں سے ہمدردی رکھتی ہیں۔ وہ اپنی کہانیاں وضاحت اور گرمجوشی کے ساتھ بتاتی ہیں۔‘

      یہ بھی پڑھیں:
      اداکارہ Richa Chadhaٹرولرس سے ایسے کرتی ہیں ڈیل، کہا-’چونی میں ٹوئٹ کرتی ہے ٹرول آرمی‘



      یہ بھی پڑھیں:
      لندن کی سڑکوں پر Hina Khanکا نظر آیابولڈ انداز، ہاٹ ڈریس سے مچائی ہلچل

      ساتھ ہی ساتھ پروڈیوسر سنی کھنہ نے کہا، ’قندیل بلوچ کی کہانی اہم اور متعلقہ ہے، مجھے یقین ہے کہ لوگوں کو یہ فلم دیکھنا چاہیے۔ میں اس فلم کا بے صبری سے انتظار کر رہا ہوں۔‘
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: