உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    فرحان اختر اور رتیش سدھوانی کو الہ آباد ہائی کورٹ سے راحت، کہا- ’مرزا پور‘ میں مذہبی جذبات مشتعل کرنے جیسا کچھ بھی نہیں

    فلم اداکار اور پروڈیوسر فرحان اختر اور ان کے پروڈیوسر پارٹنر رتیش سدھوانی کو الہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے راحت ملی ہے۔ دراصل ان کی تیار کردہ مرزا پور کو لے کر کچھ وقت پہلے ایک ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

    فلم اداکار اور پروڈیوسر فرحان اختر اور ان کے پروڈیوسر پارٹنر رتیش سدھوانی کو الہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے راحت ملی ہے۔ دراصل ان کی تیار کردہ مرزا پور کو لے کر کچھ وقت پہلے ایک ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

    فلم اداکار اور پروڈیوسر فرحان اختر اور ان کے پروڈیوسر پارٹنر رتیش سدھوانی کو الہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے راحت ملی ہے۔ دراصل ان کی تیار کردہ مرزا پور کو لے کر کچھ وقت پہلے ایک ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

    • Share this:
      الہ آباد: فلم اداکار اور پروڈیوسر فرحان اختر اور ان کے پروڈیوسر پارٹنر رتیش سدھوانی کو الہ آباد ہائی کورٹ کی طرف سے راحت ملی ہے۔ دراصل ان کی تیار کردہ مرزا پور کو لے کر کچھ وقت پہلے ایک ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اس میں یہ کہا گیا تھا کہ اس سیریز کے ذریعہ مرزا کی پور کی علاقائی، سماجی اور مذہبی عقیدت اور جذبات کو ٹھیس پہنچایا گیا ہے۔ جسٹس ایم سی ترپاٹھی اور جسٹس سبھاش ودیارتھی کی بینچ نے جمعہ کو اس پر اہم فیصلہ کیا۔ عدالت نے عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ پر ایسا کچھ نہیں ہے، جس سے کہا جاسکے کہ کسی طبقے کی مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے۔

      واضح رہے کہ اس سے پہلے عدالت نے 29 جنوری 2021 کو دونوں کی گرفتاری پر روک لگاتے ہوئے بحث پوری کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے درخواست گزاروں کو تحقیقات میں تعاون کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔ درخواست گزار وکیل منیش تیواری کا کہنا تھا کہ اگر ایف آئی آر کے الزامات کا اعتراف بھی کرلیا جائے تو بھی عرضیوں کے خلاف کوئی مجرمانہ معاملہ نہیں بنتا ہے۔

      سیریز بدنیتی سے متاثر نہیں

      یہ ایف آئی آر آئی پی سی کی دفعہ 295 اے، آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 67 اے اور دیگر دفعات میں درج کرائی گئی تھی۔  درخواست گزاروں کی جانب سے کہا گیا کہ اگر ایف آئی آر میں لگائے گئے الزامات کو درست مان لیا جائے تو بھی کوئی کیس نہیں بنتا۔ درخواست گزاروں کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے کہا کہ ویب سیریز مرزا پور کسی بدنیتی کے ارادے سے نہیں بنائی گئی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ ایف آئی آر کے الزامات اور شکایت کنندہ کے بیان سے نہیں کہا جا سکتا کہ ویب سیریز کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والی ہے۔ عدالت نے عرضی قبول کرلی ہے اور ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کا حکم منظور کیا ہے۔ واضح رہے کہ مرزا پور ویب سیریز اب تک آئی سبھی ویب سیریز میں کافی مقبول رہی ہے۔ اسے لے کر ناظرین کے درمیان خاص جوش رہا تھا۔ ساتھ ہی سیریز کے اداکارہ نے بھی خوب واہ واہی لوٹی تھی۔
      قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ  تعلیم و روزگار اور بزنس  کی خبروں کے لیے  نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: