உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    انکریڈبل انڈیا کا چہرہ نہیں رہے عامر، اپوزیشن نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا

    نئی دہلی : ملک میں عدم برداشت کے ماحول پر تبصرہ کرکے حکومت کی ناراضگی مول لینے والے بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان اب حکومت کے اتلیہ بھارت ابھیان کے چہرہ نہیں ہوں گے ، کیونکہ حکومت نے کمپنی کے ساتھ معاہدہ ختم کردیا ہے۔

    نئی دہلی : ملک میں عدم برداشت کے ماحول پر تبصرہ کرکے حکومت کی ناراضگی مول لینے والے بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان اب حکومت کے اتلیہ بھارت ابھیان کے چہرہ نہیں ہوں گے ، کیونکہ حکومت نے کمپنی کے ساتھ معاہدہ ختم کردیا ہے۔

    نئی دہلی : ملک میں عدم برداشت کے ماحول پر تبصرہ کرکے حکومت کی ناراضگی مول لینے والے بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان اب حکومت کے اتلیہ بھارت ابھیان کے چہرہ نہیں ہوں گے ، کیونکہ حکومت نے کمپنی کے ساتھ معاہدہ ختم کردیا ہے۔

    • News18
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی : ملک میں عدم برداشت کے ماحول پر تبصرہ کرکے حکومت کی ناراضگی مول لینے والے بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان اب حکومت کے اتلیہ بھارت ابھیان کے چہرہ نہیں ہوں گے ، کیونکہ حکومت نے کمپنی کے ساتھ معاہدہ ختم کردیا ہے۔


      مرکزی وزیر سیاحت مہیش شرما نے کہا ہے کہ اتیتھی دیوو بھوا ابھیان کے لئے میكن ورلڈ وائڈ کے ہمارا ساتھ معاہدہ تھا اور ایجنسی نے اس کام کے لئے عامر کی خدمت لی تھی۔ اب ایجنسی کے ساتھ معاہدہ ختم ہو گیا ہے۔ وزارت نے عامر کی خدمت نہیں لی تھی۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ ایجنسی تھی ، جس نے عامر کی خدمت لی تھی۔ چونکہ ایجنسی کے ساتھ اب معاہدہ نہیں رہا، اداکار کے ساتھ بھی معاہد خود بخود ختم ہو گیا۔


      ایک سوال کے جواب میں کہ کیا عامر ابھی تک سیاحت کی وزارت کے برانڈ سفیر ہیں، وزیر نے کہا کہ یقینی طور پر نہیں۔ اتیتھی دیوو بھوا ابھیان انکریڈبل انڈیا کا ہی ایک حصہ ہے ، جسے یو پی اے کے دور حکومت میں شروع کیا گیا تھا۔


      عامرخان کے برانڈ سفیر نہیں رہ جانے کے بعد اپوزیشن پارٹیوں نے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لینا شروع کردیاہے ۔ جے ڈی یو کے لیڈر کے سی تیاگی نے کہا کہ اتلیہ بھارت کا عدم برداشت پر مبنی ایکٹ ہے، مذمت کرتا ہوں۔ عدم برداشت کا مطلب ہے اپنے مخالفیں کی آواز کو دبانا اور نہیں سننا۔ گزشتہ دنوں فنکار اور ادیب اس کا شکار رہے ہیں، عامر کو ہٹانا کرنا اسی کی ایک شکل ہے۔


      وہیں مختار عباس نقوی نے کہا کہ کلین انڈیا اور اتلیہ بھارت یہ سب میں تو ہم چاہتے ہیں کہ فنکار زیادہ سے زیادہ شامل ہوں، تو انہیں هٹائیں گے کیوں؟ ہم جوڑنے میں یقین رکھتے ہیں، توڑنے میں نہیں۔


      این سی پی لیڈر مجید مینن نے کہا کہ خواہ انہیں ہٹایا گیا ہو يا معاہدہ ختم ہوا ہو، ایسا لگتا ہے حکومت ان سے ناراض ہے۔ یہ لوگوں کے شک پر مہر لگاتا ہے۔


      مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ ہمارے ملک کی خوبصورتی ہے کہ سب کو آزادی ہے۔ ایسے میں عامر کو ہٹانے سے منفی پیغام گیا ہے۔ فریڈم آف اسپیچ پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ کنٹریکٹ رینيو بھی ہو سکتا ہے۔ حکومت کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنا چاہئے۔


      ادھر شبانہ اعظمی نے اس معاملہ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ شبانہ نے کہا کہ آپ کو حکومت کی بات سننی چاہئے۔ كانٹریكٹ ختم ہو گیا ہے اور آپ لوگ اس میں سنسنی ڈھونڈ رہے ہیں، میں کچھ نہیں بولوںگي۔

      First published: