اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ’بھائی بھائی کو سپورٹ نہیں کرے گا تو کون کرے گا‘،سلمان کے لیے آخر ارباز خان نے کیوں کہی یہ بات؟

    ’بھائی بھائی کو سپورٹ نہیں کرے گا تو کون کرے گا‘،سلمان کے لیے آخر ارباز خان نے کیوں کہی یہ بات؟

    ’بھائی بھائی کو سپورٹ نہیں کرے گا تو کون کرے گا‘،سلمان کے لیے آخر ارباز خان نے کیوں کہی یہ بات؟

    بالی ووڈ میں خان فیملی اور تینوں بھائیوں کے درمیان کی بانڈنگ کے خوب چرچے رہتے ہیں۔ ارباز اور سوہیل خان اپنے بھائی سلمان خان کے لیے ہمیشہ سے ایک مضبوط سپورٹ سسٹم بنے رہے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai, India
    • Share this:
      بالی ووڈ ایکٹر ارباز خان ان دنوں اپنی ویب سیریز تناؤ کو لے کر کافی سرخیوں میں ہیں۔ ایکٹر اس کا پروموشن زوروشور سے کررہے ہیں۔ گزشتہ دنوں ارباز اپنے چیٹ شو کو لے کر بھی چرچا میں آئے تھے جس میں وہ سیلبریٹیز کے ساتھ بات چیت کرتے نظر آتے تھے۔ حال ہی میں ارباز نے میڈیا سے فیملی اور بیٹے ارحان کو لے کر کھل کر بات کی۔

      بیٹے کو ہر حال میں سپورٹ کروں گا
      ایک انٹرویو میں ارباز نے فیملی سپورٹ کو لے کر اپنے خیالات شیئر کیے۔ انہوں نے کہا کہ، ’اگر بھائی بھائی کا سپورٹ نہیں کرے گا، تو کون کرے گا؟‘ سدھارتھ کنن کے ساتھ اس انٹرویو میں ارباز نے اپنے بیٹے ارحان خان کے ساتھ اپنے رشتے کو لے کر بات کی اور کہا کہ وہ کسی بھی حالات میں اپنے بیٹے کو سپورٹ کریں گے۔ ’بے شک، ہم دوست ہیں، میں کبھی بھی ایسا ماحول نہیں بنانا چاہتا تھا، جہاں میرا بیٹا مجھے ایک کال کرنے سے پہلے جھجھک محسوس کرے یا اسے سوچنا پڑے۔ مجھے وہ بھروسہ بنانا ہے، اگر میں اس کے ساتھ کھڑا نہیں رہوں گا تو کون کھڑا ہوگا؟

      یہ بھی پڑھیں:
      ’ہونٹوں پر بس تیرا نام ہے۔۔۔‘گانے پر نورا اور ٹیرنس کے ڈانس نے لگائی آگ

      یہ بھی پڑھیں:
      سلمان خان کے شو بگ باس میں جلد نظر آئیں گی سنی لیون!اس ایکٹر کے ساتھ لیں گی انٹری

      بھائیوں کے لیے مضبوط سپورٹ سسٹم ہے ارباز
      بتادیں کہ، بالی ووڈ میں خان فیملی اور تینوں بھائیوں کے درمیان کی بانڈنگ کے خوب چرچے رہتے ہیں۔ ارباز اور سوہیل خان اپنے بھائی سلمان خان کے لیے ہمیشہ سے ایک مضبوط سپورٹ سسٹم بنے رہے ہیں۔ زندگی کے ہر مرحلے پر ارباز نے دونوں بھائیوں کو سپورٹ کیا ہے۔ جب سلام کو جان سے مارنے کی دھمکی ملی تھی تب بھی ارباز اور سوہیل، سلمان کے گھر کے باہر پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں سے بات کرتے نظر آتے تھے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: