உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Aryan Khan Drugs case: ڈرگس معاملے میں ضمانت ملنے کے بعد پھر این سی بی دفتر پہنچے آرین خان

    ڈرگس معاملے میں ضمانت ملنے کے بعد پھر این سی بی دفتر پہنچے آرین خان

    ڈرگس معاملے میں ضمانت ملنے کے بعد پھر این سی بی دفتر پہنچے آرین خان

    Drugs Case: بامبے ہائی کورٹ نے آرین خان کو ضمانت دیتے ہوئے جو 14 شرائط نافذ کی تھیں، ان میں ایک شرط یہ تھی کہ انہیں ہر جمعہ کو صبح 11 بجے سے دوپہر 2 بجے کے درمیان این سی بی دفتر میں اپنی موجودگی درج کرانی ہوگی۔

    • Share this:
      ممبئی: ممبئی میں کروز شپ پر ڈرگس پارٹی (Drugs Case) کے معاملے میں ملزم شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان (Aryan Khan) جمعہ کو نارکوٹکس کنٹرول بیورو (NCB) کے سامنے پیش ہوئے۔ عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کی آج پیشی تھی۔ دراصل بامبے ہائی کورٹ نے آرین خان کو ضمانت دیتے ہوئے جو 14 شرائط نافذ کی تھیں، ان میں ایک شرط یہ تھی کہ انہیں ہر جمعہ کو صبح 11 بجے سے دوپہر 2 بجے کے درمیان این سی بی دفتر میں اپنی موجودگی درج کرانی ہوگی۔

      آرین خان ہائی کورٹ کی اس شرط کو پورا کرنے کرنے کے لئے آج این سی بی دفتر میں پیش ہوئے۔ سپر اسٹار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کو آرتھر روڈ جیل میں تقریباً 26 دن گزارنے کے بعد بامبے ہائی کورٹ نے 28 اکتوبر کو ڈرگس معاملے میں ضمانت منظور کی تھی۔ اس کے دو دن بعد یعنی 30 اکتوبر کو وہ جیل سے رہا ہوکر اپنے گھر ’منت‘ پہنچے تھے، جہاں ان کے حامیوں نے زبردست جشن منایا تھا۔

      ہائی کورٹ نے آرین خان کو ضمانت دیتے ہوئے لگائی 14 شرائط

      ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں آرین خان اور معاون ملزمین ارباز مرچنٹ، منمن دھمیچا کو ضمانت پر رہا کرتے ہوئے 14 شرائط نافذ کی ہیں۔ عدالت نے آرین خان سے کہا کہ وہ کسی بھی معاون ملزمین سے نہ تو ملیں گے اور نہ ہی بات چیت کریں گے۔ عدالت نے آرین خان کو ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ہائی کورٹ نے آرین خان کو خصوصی عدالت میں اپنا پاسپورٹ جمع کرانے کو کہا ہے۔ حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آرین خان کو ہر جمعہ کو 11 سے 2 بجے کے درمیان بامبے واقع این سی بی دفتر میں جاکر اپنی موجودگی درج کرانی ہوگی۔ رپورٹس کے مطابق، آرین خان این ڈی پی ایس عدالت کی اجازت کے بغیر ہندوستان سے باہر نہیں جاسکتے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: