உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آرین خان ڈرگس کیس میں NCB کو ملی بڑی راحت، عدالت نے چارج شیٹ فائل کرنے کی مدت 60 دن بڑھائی

    آرین خان ڈرگ کیس میں این سی بی کو ملی بڑی راحت۔

    آرین خان ڈرگ کیس میں این سی بی کو ملی بڑی راحت۔

    این سی بی کے پاس کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے لیے 180 دن کا وقت تھا، جو 2 اپریل 2022 کو ختم ہو رہا ہے۔این سی بی نے نارکوٹک ڈرگس اینڈ سائیکوٹرپک مادہ (NDPS) ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ شروع کیا، جب اس نے کروز کورڈیلیا ایمپریس پر چھاپہ مارا تھا۔

    • Share this:
      ممبئی: بالی ووڈ کے مشہور آرین خان کروز ڈرگ کیس میں ممبئی کی ایک عدالت نے نارکوٹکس کنٹرول بیورو (NCB) کو بڑی راحت دیتے ہوئے چارج شیٹ داخل کرنے کے لیے مزید 60 دن کا وقت دیا ہے۔ اس سے پہلے انہیں 2 اپریل کو چارج شیٹ داخل کرنی تھی۔ آرین خان پر منشیات لینے سمیت دیگر کئی الزامات ہیں۔

      قبل ازیں پیر کو این سی بی نے ممبئی کی سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں آرین خان سے متعلق مبینہ کروز کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے لیے 90 دن کا اضافی وقت مانگا گیا تھا۔ جس پر سماعت کرتے ہوئے خصوصی جج وی وی پاٹل نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ این سی بی نے عدالت میں دلیل دی تھی کہ اس ہائی پروفائل کیس کی تحقیقات ابھی جاری ہے۔ اس لیے چارج شیٹ داخل کرنے کا وقت بڑھایا جائے، جسے آج عدالت نے قبول کرلیا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ریکھا کو بالی ووڈ سے تھا پرہیز!ایکٹنگ سے بچنے کے لئے سیٹ سے ہوجاتی تھیں غائب

      20 لوگوں کو اس کیس میں کیا گیا ہے گرفتار
      ایجنسی نے 2 اکتوبر 2021 کو کیس درج کیا تھا اور اس معاملے میں 20 لوگوں کو گرفتار کیا تھا۔ ان میں سے 18 ملزمان اس وقت ضمانت پر باہر ہیں۔ دو ملزمان عدالتی حراست میں ہیں۔ این سی بی کے پاس کیس میں چارج شیٹ داخل کرنے کے لیے 180 دن کا وقت تھا، جو 2 اپریل 2022 کو ختم ہو رہا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      اتنے بڑے اسٹارہونے کے بعد بھی اس شخص سے بہت ڈرتے تھےPran,صرف ایک روپیہ میں سائن کی تھی فلم

      یہ بھی پڑھیں:
      Dilip Kumarنہیں تھےسائرہ بانو کے ساتھ کام کرنے کے لئے راضی،آگے چلکرایکٹریس نے یوں لیابدلہ

      این سی بی نے نارکوٹک ڈرگس اینڈ سائیکوٹرپک مادہ (NDPS) ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ شروع کیا، جب اس نے کروز کورڈیلیا ایمپریس پر چھاپہ مارا تھا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: