உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آرین خان ڈرگس معاملے میں گواہ کرن گوساوی نے کی لکھنو میں سرینڈر کی کوشش، لیکن...

    آرین خان ڈرگس معاملے میں گواہ کرن گوساوی نے کی لکھنو میں سرینڈر کی کوشش، لیکن...

    آرین خان ڈرگس معاملے میں گواہ کرن گوساوی نے کی لکھنو میں سرینڈر کی کوشش، لیکن...

    Aryan khan drug case: پنے میں ٹھگی کا الزام جھیل رہے کرن گوساوی، شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کے ڈرگ معاملے میں آزاد گواہ ہیں اور کئی دنوں تک لاپتہ رہنے کے بعد پیر کو میڈیا کے سامنے آئے اور خود سپردگی کی بات کہی۔

    • Share this:
      ممبئی: ممبئی (Mumbai) میں کروز پر نشیلی اشیا (Cruise Drug Case) ملنے کے معاملے میں فرار چل رہے این سی بی (NCB) کے ’آزاد گواہ‘ کرن گوساوی (Kiran Gosavi) کے بارے میں پیر کی شب خبریں آئیں کہ وہ سرینڈر کرنے والے ہیں۔ گوساوی نے خود کہا تھا کہ وہ اترپردیش کی راجدھانی لکھنو میں پولیس کے سامنے سرینڈر کردیں گے۔ حالانکہ ہوا کچھ اور ہی۔ گوساوی سے منسلک ایک ذرائع نے ایک آڈیو کلپ جاری کی، جس میں گوساوی مبینہ طور پر اتر پردیش پولیس کے افسر سے بات کر رہا تھا۔ نیوز 18 آزادانہ طور پر اس آڈیو کی تصدیق نہیں کرتا۔

      سوشل میڈیا پر وائرل کلپ کے مطابق، گوساوی نے کہا- ’میں وہاں آنا چاہتا ہوں، میں کرن گوساوی ہوں۔ میں سرینڈر کرنا چاہتا ہوں‘۔ پولیس اہلکار نے جواب دیا- ’تم یہاں کیوں آئے؟‘ اس پر گوساوی نے جواب دیا ’فی الحال میرے آس پاس سب سے قریبی تھانہ یہی ہے‘۔ اس کے بعد پولیس اہلکار نے کہا- ’نہیں تم یہاں سرینڈر نہیں کرسکتے۔ کہیں اور کی کوشش کرو‘۔ دوسری جانب یوپی پولیس نے ایسے کسی بھی دعوے کو خارج کردیا۔ وہیں نیوز ایجنسی اے این آئی کے مطابق مڑیاوں کے تھانہ انچارج منوج سنہا نے کہا- مجھے اس معاملے سے متعلق کوئی فون نہیں آیا۔ مجھے اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے‘۔ پولیس والے بھلے ہی گوساوی کو لے کر کسی جانکاری سے انکار کر رہے ہوں، لیکن مڑیاوں پولیس تھانے کے بعد نظر آئی گہما گہمی کچھ اور ہی اشارہ دے رہی تھی۔

      مہاراشٹر میں درج کیس تو یوپی میں سرینڈر کیوں؟

      ممبئی ساحل پر کروز شپ پر چھاپہ ماری کے دوران گوساوی بھی وہاں موجود تھے اور آرین خان کو جب این سی بی کے دفتر میں لے جایا گیا تب بھی وہ وہاں موجود تھے۔ ’پرائیویٹ انویسٹیگیٹر‘ بتائے جا رہے گوساوی کی آرین خان کے ساتھ تصاویر اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے نیوز چینلوں سے کہا کہ وہ جلد ہی لکھنو میں پولیس کے سامنے خود سپردگی کریں گے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ نشیلی اشیا سے متعلق جڑے جس معاملے میں وہ گواہ ہیں، وہ ممبئی میں درج ہے اور پنے میں درج ایک معاملے میں وہ دھوکہ دہی کے ملزم ہیں۔ ایسے میں وہ لکھنو میں خود سپردگی کیوں کریں گے، گوساوی نے چینلوں سے بتایا کہ ملک کی اقتصادی راجدھانی میں انہیں ’خطرہ‘ محسوس ہو رہا ہے اور انہیں مہاراشٹر پولیس پر بھروسہ نہیں ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: