உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    این سی بی کے ان 5 دعووں کے مسترد ہونے سے آرین خان کو ملی ضمانت، عدالت کے بیل آرڈر میں ہوا انکشاف

    این سی بی کے ان 5 دعووں کے مسترد ہونے سے آرین خان کو ملی ضمانت، عدالت کے بیل آرڈر میں ہوا انکشاف

    این سی بی کے ان 5 دعووں کے مسترد ہونے سے آرین خان کو ملی ضمانت، عدالت کے بیل آرڈر میں ہوا انکشاف

    Aryan Khan, Bombay High Court: نارکوٹکس کنٹرول بیورو (Narcotics Control Bureau) نے آرین خان سمیت تین ملزمین کو کروز پر ڈرگس لینے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ اس معاملے میں بامبے ہائی کورٹ نے ملزمین کو 28 اکتوبر کو ضمانت دے دی تھی۔ حالانکہ تفصیلی آرڈر ہفتہ کے روز دستیاب ہوا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: آرین خان سے جڑے ڈرگس معاملے (Aaryan Khan Drugs Case) میں بامبے ہائی کورٹ (Bombay High Court) نے بیل آرڈر ریلیز کیا ہے۔ اس آرڈر میں عدالت نے این سی بی کے سبھی 5 دعووں کو مسترد کرکے آرین خان (Aryan khan) ، ارباز مرچنٹ اور منمن دھمیچا (Munmun Dhamech) کو ضمانت دے دی ہے۔ بیل آرڈر میں ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ملزمین کے پاس سے ایسا کچھ نہیں ملا ہے، جسے قابل اعتراض مانا جائے اور یہ کہا جائے کہ انہوں نے سازش کے تحت ڈرگس (Drugs) لینے کا پلان بنایا تھا۔

      ڈرگس معاملے میں بامبے ہائی کورٹ سے آرین خان کو بڑی راحت ملی ہے۔ اس معاملے میں ہائی کورٹ نے بیل آرڈر ریلیز کیا ہے، جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ آرین خان، ارباز مرچنٹ اور منمن دھمیچا کو کس بنیاد پر ضمانت دے دی گئی ہے۔ اس بیل آرڈر میں ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ملزمین کے پاس سے ایسا کچھ نہیں ملا ہے، جسے قابل اعتراض مانا جائے اور کہا جائے کہ انہوں نے سازش کے تحت ڈرگس لینے کا پلان بنایا تھا۔

      نارکوٹکس کنٹرول بیورو (Narcotics Control Bureau) نے آرین خان سمیت تین ملزمین کو کروز پر ڈرگس لینے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ اس معاملے میں بامبے ہائی کورٹ نے ملزمین کو 28 اکتوبر کو ضمانت دے دی تھی۔ حالانکہ تفصیلی آرڈر ہفتہ کے روز دستیاب ہوا۔

      ان پانچ پوائنٹ کی بنیاد پر این سی بی کے الزامات ہوئے مسترد

      سازش کے الزام: این سی بی نے آرین خان سمیت تین ملزمین پر سازش کے تحت ڈرگس لینے کا الزام لگایا تھا۔ این سی بی کے مطابق، تینوں نے کروز پر پارٹی میں ڈرگس لینے کا پلان بنایا تھا۔ لیکن اس الزام سے متعلق ایجنسی مناسب ثبوت نہیں دے پائی۔ اس کے بعد ہائی کورٹ نے کہا کہ یہ نہیں مانا جاسکتا ہے کہ آرین خان سمیت تینوں ملزمین نے سازش کے تحت ڈرگس لینے کا پلان بنایا گیا تھا۔

      واٹس اپ چیٹ کی بنیاد پر کیس: این سی بی نے ملزمین کی واٹس اپ چیٹ کی بنیاد پر الزام لگایا تھا کہ لوگ سازش کرکے ساتھ پارٹی میں گئے تھے، لیکن عدالت نے اسے ماننے سے کردیا اور کہا کہ اس سے کچھ بھی قابل اعتراض نہیں تھا۔ ان کے واٹس اپ چیٹ سے ایسا کچھ سامنے نہیں آیا۔

      نشیلی اشیا رکھنا اور ان کا استعمال: آرین سمیت تینوں ملزمین کو این سی بی نے ڈرگس رکھنے، خریدنے، بیچنے اور اسے لینے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ حالانکہ ہائی کورٹ نے یہ پایا کہ آرین خان کے پاس سے ڈرگس برآمد نہیں ہوا۔ اس لئے عدالت نے ایجنسی کے اس الزام کو بھی خارج کردیا۔

      آرین خان کا اقبالیہ بیان: عدالت نے کہا کہ این سی بی نے دفعہ 67 کے تحت آرین خان کا اقبالیہ بیان درج کیا تھا۔ این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت یہ بیان صرف جانچ کے لئے زیر غور میں لایا جاسکتا ہے، لیکن اسے یہ نہیں مانا جاسکتا ہے کہ ملزم نے جرم کیا ہے۔

      جرم کے لئے سزا: ہائی کورٹ نے کہا کہ تینوں ملزمین کو پہلے ہی تقریباً 25 دنوں تک قید میں رکھا گیا اور استغاثہ فریق نے کوئی میڈیکل ٹسٹ نہیں کرایا، جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ انہوں نے ڈرگس کا استعمال کیا تھا یا نہیں۔ جسٹس نچن سامبرے نے کہا کہ اگر استغاثہ فریق کی دلیلوں پر بھی غور کیا جائے تو اس طرح کے جرم کے لئے سزا ایک سال سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: