உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Salman Khan Life Threat: سلمان خان کو کس نے بھیجا تھا دھمکی آمیز خط؟ دہلی پولیس نے کیا بڑا انکشاف

    Salman Khan Life Threat: سلمان خان کو کس نے بھیجا تھا دھمکی آمیز خط؟ دہلی پولیس نے کیا بڑا انکشاف

    Salman Khan Life Threat: سلمان خان کو کس نے بھیجا تھا دھمکی آمیز خط؟ دہلی پولیس نے کیا بڑا انکشاف

    Salman Khan Life Threat: بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کو موصول ہونے والے دھمکی آمیز خط کا ماسٹر مائنڈ راجستھان کے ہنومان گڑھ کا رہنے والا وکرم برار ہے۔ یہ انکشاف دہلی پولیس نے کیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی : بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کو موصول ہونے والے دھمکی آمیز خط کا ماسٹر مائنڈ راجستھان کے ہنومان گڑھ کا رہنے والا وکرم برار ہے۔ یہ انکشاف دہلی پولیس نے کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی نیوز 18 انڈیا کی کل کی اس خبر پر مہر لگ گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سلمان خان کے گھر کے باہر ملنے والے دھمکی آمیز خط سے متعلق دو مشتبہ ملزمان کے ناموں کا بھی انکشاف کیا گیا ہے۔ ان کے نام سورج اور آمسا ہیں۔ لارینس بشنوئی گینگ کے یہ تینوں لوگ راجستھان کے جالور کے رہنے والے ہیں۔ تینوں ممبئی کے کلیان میں ٹھہرے تھے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : نفرت کی یہ لہر زیادہ دن نہیں رہے گی، ایک دن ختم ہو جائے گی: Naseeruddin Shah


      سلمان خان کے گھر کے باہر ملے دھمکی آمیز خط کے سلسلے میں پکڑے گئے ملزم مہاکال سے پونے پولیس پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ یہ سب سے اہم کردار یا یوں کہیں رازدار ہے ۔ سیکورٹی ایجنسیوں اور دہلی پولیس کے اعلیٰ سطحی ذرائع کے مطابق دھمکی آمیز خط کے پیچھے جو تمام کردار یا یوں کہیں ملزم شوٹرز ہیں ، سب کی شناخت کر لی گئی ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : انٹری سے لے کر منگل سوتر پہنانے تک، دیکھئے اداکارہ نین تارا کی Wedding Photos


      راجستھان کا گینگسٹر وکرم برار جو لارینس کا ساتھی بھی ہے، فی الحال جو دبئی میں بتایا جاتا ہے، وہ بھی ایک اہم کڑی ہے ۔ سلمان خان کے گھر کے باہر ملے دھمکی آمیز خط کا ماسٹر مائنڈ ہے ۔

      بتادیں کہ آج ہی نیوز 18 انڈیا نے سب سے پہلے ایک ایکسکلوزیو انکشاف کیا تھا کہ سدھو موسے والا قتل کیس کے ماسٹر مائنڈوں میں سے ایک ماسٹر مائنڈ ہنومان گڑھ، راجستھان کا وکرم برار بھی ہے ، جو لارینس بشنوئی اور گولڈی برار کا کافی قریبی ہے۔ اسی وکرم برار کا نام اب سلمان خان کیس میں بھی سامنے آیا ہے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: