உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bigg Boss 15: راکھی ساونت پر کیوں غصہ ہوگئے سلمان خان؟ بولے-’یہ انٹرٹینمنٹ نہیں...‘

    سلمان خان نے لی راکھی ساونت کی کلاس۔ (انسٹاگرام@Colorstv)

    سلمان خان نے لی راکھی ساونت کی کلاس۔ (انسٹاگرام@Colorstv)

    راکھی ساونت کے لئے سلمان خان کی پھٹکار ایک بڑا سبق ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ اب تک سلمان ہمیشہ راکھی کا ساتھ دیتے دکھائی دئیے ہیں۔ ایسے میں راکھی اپنے انٹرٹمنٹ کے طریقے میں کتنی تبدیلی کرتی ہیں، یہ بھی دیکھنے لائق ہوگا۔

    • Share this:
      بگ باس 15 (Bigg Boss 15)کے اس ویکینڈ کا وار میں ایک بار پھر ہوسٹ سلمان خان (Salman Khan) گھروالوں کو اپنا غصہ والا روپ دکھانے والے ہیں۔ ایک دو یا نہیں، اس ویکینڈ کا وار میں کئی کنٹیسٹنٹ سلمان خان کے نشانے پر ہیں۔ جن میں تیجسوی پرکاش (Tejasswi Prakash) سے لے کر راکھی ساونت (Rakhi Sawant) کا نام بھی شامل ہے۔ جی ہاں، بگ باس15 کے ہفتہ کے ایپی سوڈ میں سلمان خان نے راکھی ساونت کی کلاس بھی لگادی۔ سلمان خان نے نہ صرف راکھی ساونت کو پھٹکار لگائی، بلکہ اُن کے انٹرٹنمنٹ کے طریقے کو بھی بورنگ بتایا ہے۔

      راکھی ساونت کے لئے سلمان خان کی پھٹکار ایک بڑا سبق ثابت ہونے والا ہے، کیونکہ اب تک سلمان ہمیشہ راکھی کا ساتھ دیتے دکھائی دئیے ہیں۔ ایسے میں راکھی اپنے انٹرٹمنٹ کے طریقے میں کتنی تبدیلی کرتی ہیں، یہ بھی دیکھنے لائق ہوگا۔ شو کا ایک پرومو ویڈیو بھی جاری کیا گیا ہے، جس میں سلمان خان کو راکھی ساونت کی کلاس لگاتے دیکھا جاسکتا ہے۔



       




      View this post on Instagram





       

      A post shared by ColorsTV (@colorstv)





      پرومو ویڈیو مین سلمان خان کہتے ہیں -’راکھی ساونت کو سب پتہ ہے، یہ بھی پتہ ہے کہ اگر تیجسوی کو ٹکٹ ٹو فنالے مل جاتا ہے تو کرن کندرا کے جیتنے کے چانس 99 فیصد گر جائیںگے۔ آپ تُکہ نہیں مار رہی ہیں، آپ فیصلہ دے رہی ہیں۔ تو آپ نے اس بات کو بتانے کے لئے کرن کو ہی کیوں چنا؟‘

      اس پر راکھی اپنی صفائی دینے کی کوشش کرتی ہیں جس پر سلمان راکھی سے کہتے ہیں۔ آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ تیجسوی کرن کے لئے خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ سلمان خان نے راکھی سے کہا کہ آپ دوسروں کے بجائے خود پر فوکس کیوں نہیں کرتیں، جب آپ آئی تھیں، انٹرٹنمنٹ کررہی تھیں، لیکن اب بوریت ہورہی ہے۔‘‘
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: