உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ajit Khan Birth Anniversary: سیمنٹ کے پائپ میں رہے تھے اجیت خان، ’للی ڈونٹ بی سللی‘ بولنے والے ولین کی یہ ہے فلمی کہانی

    ہندی سنیما کے مشہور ولن اجیت خان کو لوگ 'لوائن' کے نام سے جانتے تھے۔

    ہندی سنیما کے مشہور ولن اجیت خان کو لوگ 'لوائن' کے نام سے جانتے تھے۔

    اجیت گھر سے بھاگ کر خوابوں کے شہر ممبئی آئے لیکن وہاں نہ رہنے کی جگہ تھی نہ کھانے کی جگہ۔ ایسے میں انہوں نے اپنا سر چھپانے کے لیے سیمنٹ کے پائپوں میں ٹھکانہ بنایا۔ لیکن مصیبت نے یہاں بھی اُن کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مقامی غنڈے پائپ میں رہنے والے لوگوں سے ہفتہ وصولی کرتے تھے۔ پیسے نہ دینے پر مار پیٹ کرتے تھے۔ ایک دن اجیت نے غنڈوں کو مارا اور وہاں رہنے والے لوگوں کے لیے وہ ہیرو بن گئے تھے۔

    • Share this:
      ممبئی:بالی ووڈ کے مشہور ولن اجیت خان اپنی منفرد ڈائیلاگ ڈیلیوری کے لیے جانے جاتے تھے۔ 27 جنوری 1922 کو حیدرآباد میں پیدا ہونے والے اجیت کا اصل نام حامد علی خان تھا۔ فلم انڈسٹری میں کام کرنے کے لیے انہوں نے اپنا نام بدل کر اجیت رکھ لیا تھا۔ 200 سے زیادہ فلموں میں کام کرنے والے اجیت کو اپنی اصل پہچان فلم ’کالی چرن‘سے ملی۔ جب اجیت نے اپنا مشہور ڈائیلاگ ’سارا شہر مجھے لائن کے نام سے جانتا ہے‘کہا تو اجیت کی شاندار ڈائیلاگ ڈیلیوری سے لوگوں کو پیار ہو گیا۔ اجیت خان ہندی سنیما کے ایسے ولن تھے جنہوں نے اداکاری میں کئی بار فلم کے ہیرو کو زیر کیا۔ آج ان کی سالگرہ پر بتاتے چلیں کہ اجیت کی حقیقی زندگی بھی کسی فلمی کہانی سے کم نہیں تھی۔

      اجیت کو ان کے ڈائیلاگس کے لئے یاد کیا جاتا ہے
      اجیت خان کے دو اور ڈائیلاگ جنہیں لوگ آج بھی اکثر دوہراتے نظر آتے ہیں، وہ ہیں ’للی ڈونٹ بی سلی‘ اور ’مونا ڈارلنگ‘۔ یہ ڈائیلاگ صرف اجیت کی آواز پر فٹ ہوتے تھے۔ اگر اجیت بچپن میں گھر سے بھاگ کر ممبئی نہ آتے تو شاید ہندی سنیما کو یہ تجربہ کار فنکار نہ ملتا۔ اجیت بچپن سے ہی اداکاری کا شوق رکھتے تھے، اداکار بننے کا خواب دیکھتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اجیت نے اپنے خواب کو پورا کرنے کے لیے اپنی کتابیں بھی بیچ دیں تھیں۔

      اجیت گھر سے بھاگ کر ہیرو بننے ممبئی آئے تھے۔
      اجیت گھر سے بھاگ کر ہیرو بننے ممبئی آئے تھے۔


      اجیت گھر سے بھاگ کر ممبئی ہیرو بننے آئے تھے
      اجیت گھر سے بھاگ کر خوابوں کے شہر ممبئی آئے لیکن وہاں نہ رہنے کی جگہ تھی نہ کھانے کی جگہ۔ ایسے میں انہوں نے اپنا سر چھپانے کے لیے سیمنٹ کے پائپوں میں ٹھکانہ بنایا۔ لیکن مصیبت نے یہاں بھی اُن کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مقامی غنڈے پائپ میں رہنے والے لوگوں سے ہفتہ وصولی کرتے تھے۔ پیسے نہ دینے پر مار پیٹ کرتے تھے۔ ایک دن اجیت نے غنڈوں کو مارا اور وہاں رہنے والے لوگوں کے لیے وہ ہیرو بن گئے تھے۔

      دراصل اجیت فلمی پردے پر کبھی بھی ولن نہیں بننا چاہتے تھے، وہ صرف ہیرو بننے کا خواب دیکھتے تھے۔ اجیت نے ابتدائی دور میں کچھ فلموں میں بطور ہیرو کام بھی کیا لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی اور جب وہ ولن کے کردار میں نظر آئے تو مشہور ہو گئے۔ اجیت نے اپنی شاندار اداکاری سے ہندی سنیما میں اپنے کرداروں کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ اجیت کی شخصیت ایسی تھی کہ وہ پردے پر آتے تو حاوی ہوجاتے۔ نیا دور، یادوں کی بارات، ناستک، کالی چرن جیسی فلموں میں شاندار کام کرنے والے اجیت نے 22 اکتوبر 1998 کو دنیا کو الوداع کہہ دیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: