உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ameesha Patel B’day: امیشا پٹیل نے جب اپنے والد پر لگایا تھا کروڑوں روپئے بدعنوانی کا الزام، لوگ رہ گئے تھے حیران

    امیشا پٹیل (Ameesha Patel) کو اپنی ڈیبیو فلم ’کہو نہ پیار ہے‘ اپنے والد امت پٹیل کی وجہ سے ملی تھی۔ اس فلم کی کامیابی اور ’گدر‘ کی کامیابی نے امیشا پٹیل کو بالی ووڈ کی ہٹ اداکارہ کی قطار میں کھڑا کردیا تھا۔ ’ہمراز‘ بھی امیشا پٹیل کی سپرہٹ فلم رہی۔ اس کے بعد تو یہ مانا جانے لگا کہ اداکارہ لمبی ریس کا گھوڑا ہیں۔

    امیشا پٹیل (Ameesha Patel) کو اپنی ڈیبیو فلم ’کہو نہ پیار ہے‘ اپنے والد امت پٹیل کی وجہ سے ملی تھی۔ اس فلم کی کامیابی اور ’گدر‘ کی کامیابی نے امیشا پٹیل کو بالی ووڈ کی ہٹ اداکارہ کی قطار میں کھڑا کردیا تھا۔ ’ہمراز‘ بھی امیشا پٹیل کی سپرہٹ فلم رہی۔ اس کے بعد تو یہ مانا جانے لگا کہ اداکارہ لمبی ریس کا گھوڑا ہیں۔

    امیشا پٹیل (Ameesha Patel) کو اپنی ڈیبیو فلم ’کہو نہ پیار ہے‘ اپنے والد امت پٹیل کی وجہ سے ملی تھی۔ اس فلم کی کامیابی اور ’گدر‘ کی کامیابی نے امیشا پٹیل کو بالی ووڈ کی ہٹ اداکارہ کی قطار میں کھڑا کردیا تھا۔ ’ہمراز‘ بھی امیشا پٹیل کی سپرہٹ فلم رہی۔ اس کے بعد تو یہ مانا جانے لگا کہ اداکارہ لمبی ریس کا گھوڑا ہیں۔

    • Share this:

      امیشا پٹیل (Ameesha Patel) ایک ایسی ماڈل اداکارہ ہیں، جس نے ہندی کے ساتھ ساتھ تمل، تیلگو فلموں میں بھی کام کیا ہے۔ 9 جون 1976 کو ممبئی میں پیدا ہوئیں اداکارہ ان ہیروئنوں میں شمار ہے، جس کی پہلی فلم ہی سپر ہٹ تھی۔ آشا پٹیل اور امت پٹیل کی بیٹی امیشا پٹیل نے رومانٹک تھریلر فلم ’کہو نہ پیار ہے‘ سے ڈیبیو کیا تھا۔ اس فلم کے ریلیز ہوتے ہی راتوں رات بالی ووڈ کے گلیاروں میں امیشا پٹیل سرخیوں میں آگئی تھیں۔ امیشا پٹیل کے والدین بھی اپنی بیٹی کی کامیابی سے بے حد خوش تھے، لیکن اسی بیٹی نے جب اپنے والد کو لیگل نوٹس بھیجا تو خوب سرخیوں میں رہی۔ آئیے بتاتے ہیں کہ والد- بیٹی تنازعہ کی کہانی۔


      معصومیت سے لبریز، بلا کی خوبصورت امیشا پٹیل کو اپنی ڈیبیو فلم ’کہو نہ پیار ہے‘ اپنے والد امت پٹیل کی وجہ سے ملی تھی۔ اس فلم کی کامیابی اور ’گدر‘ کی کامیابی نے امیشا پٹیل کو بالی ووڈ کی ہٹ اداکارہ کی قطار میں کھڑا کردیا تھا۔ ’ہمراز‘ بھی امیشا پٹیل کی سپرہٹ فلم رہی۔ اس کے بعد تو یہ مانا جانے لگا کہ اداکارہ لمبی ریس کا گھوڑا ہیں، لیکن وقت کے ساتھ امیشا پٹیل کا نام فلموں کے بجائے تنازعات کی وجہ سے زیادہ سرخیوں میں رہنے لگا۔




      unmarried bollywood actress, Kanika Kapoor, Sushmita Sen, Ekta Kapoor, Sakshi Tanwar, Tabu, Tanisha Mukherjee, Ameesha Patel, Nagma, Asha Parekh, अनमैरिड बॉलीवुड एक्ट्रेस, कनिका कपूर, सुष्मिता सेन, एकता कपूर, साक्षी तंवर, तब्बू, तनीषा मुखर्जी, अमीषा पटेल, नगमा, आशा पारेख
      ’کہو نہ پیار ہے‘ سے بالی ووڈ میں ڈیبیو کرنے کے بعد امیشا پٹیل نے لاکھوں لوگوں کو اپنا دیوانہ بنالیا تھا‘۔ (تصویر کریڈٹ: Facebook @emisha.official)

      امیشا پٹیل نہیں لکھ پائی کامیابی کی کہانی


      40 سے زیادہ فلموں میں کام کرنے والی اداکارہ کے کیریئر کا گراف اوپر کی بجائے نیچے کی طرف جانےلگااور وہ ایک کو اداکارہ بن کر رہ گئیں۔ اکنامکس میں گولڈ میڈلسٹ اداکارہ زندگی اوررشتوں کی معیشت سمجھنے میں پیچھے رہ گئیں۔ عام طور پراداکارہ کے نام کئی لوگوں سے جڑتے ہیں، ٹوٹتے ہیں اس پر بحث ہونا عام بات ہے، لیکن امیشا پٹیل نے جب اپنے ہی پاپا پر الزام لگایا تو لوگ حیران رہ گئے۔ اتنا ہی نہیں اداکارہ نے اپنے والد کو لیگل نوٹس تک بھیج دیا تھا۔




      Ameesha Patel news, Ameesha Patel in Khandwa, Ameesha Patel Khandwa Controversy, bollywood news, Ameesha Patel khandwa fraud case, entertainment news Ameesha Patel live performance, Ameesha Patel cheat case, Ameesha Patel in madhya pradesh, Ameesha Patel latest news, Ameesha Patel latest movie, Ameesha Patel twitter, khandwa news, mp news, अमीषा पटेल, अमीषा पटेल खंडवा विवाद, अमीषा पटेल धोखाधड़ी केस, अमीषा पटेल स्टेज शो खंडवा, खंडवा जिले की खबर, मध्य प्रदेश न्यूज
      امیشاپٹیل 46 واں یوم پیدائش منا رہی ہیں۔

      امیشا پٹیل نے اپنے ہی والد پر لگایا تھا ہیرا پھیری کا الزام


      امیشا پٹیل نے اپنے والد کے خلاف تقریباً 12 کروڑ روپئے ہڑپنے اور اپنے اکاونٹس کے غلط استعمال کا الزام لگایا تھا۔ والد پر ہی ہیرا پھیری کے الزامات کی وجہ سے امیشا پٹیل خوب سرخیوں میں رہیں۔ حالانکہ بعد میں والدین سے اداکارہ کے صلح کی خبر بھی آئی تھی۔ امیشا کے بھائی اشمت پٹیل ہیں، جو ماڈلنگ اور اداکاری کرتے ہیں۔


      واضح رہے کہ امیشا پٹیل نے ابھی تک شادی نہیں کی ہے۔ وہ سنگل ہے۔ اداکارہ ٹی وی کے مشہور شو ’بگ باس‘ کا بھی حصہ رہ چکی ہیں۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: