உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bobby Deol Love Story:تانیا کو ریسٹورنٹ میں پہلی نظر میں دل دے بیٹھے تھے بابی دیول، فلمی ہے ان کی لو اسٹوری

    بوبی دیول اپنی بیوی تانیا دیول کے ساتھ۔

    بوبی دیول اپنی بیوی تانیا دیول کے ساتھ۔

    Bobby Deol Love Story: تانیا ایک کاروباری خاتون ہیں اور ان کا 'دی گڈ ارتھ' کے نام سے فرنیچر اور ہوم ڈیکوریٹرز کا کاروبار ہے۔ بتادیں کہ تانیا کا تعلق ایک بزنس فیملی سے ہے لیکن وہ لو پروفائل رہنا پسند کرتی ہیں۔

    • Share this:
      Bobby Deol Love Story:آج بات کرتے ہیں اداکار بوبی دیول کی، جو جلد ہی آنے والی ویب سیریز آشرم کے تیسرے حصے میں نظر آئیں گے۔ یہ ویب سیریز 3 جون کو ریلیز ہونے والی ہے۔ آپ کو بتادیں کہ اس ویب سیریز کو شائقین کی جانب سے زبردست ردعمل ملا ہے۔ تاہم ماضی میں ویب سیریز آشرم کا نام بھی ایک تنازعہ کی وجہ سے سرخیوں میں آیا تھا۔ تاہم، آج ہم آپ کو اداکار بوبی دیول کی محبت کی زندگی کے بارے میں بتانے جارہے ہیں، جو اس ویب سیریز میں مرکزی کردار میں نظر آ رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بوبی دیول کی تانیا آہوجا سے پہلی ملاقات ایک ریسٹورنٹ میں ہوئی تھی۔

      دراصل اداکار یہاں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ تانیا کو یہاں پہلی نظر میں دیکھ کر بوبی ان پر فدا ہو گئے۔ تاہم اس وقت اداکار کے پاس تانیا کا نمبر نہیں تھا لیکن کسی طرح بوبی نے تانیا کا نمبر حاصل کیا اور ان سے بات کرنی چاہی لیکن کہا جاتا ہے کہ تانیا نے ان میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی تھی۔

      بہت کوشش کے بعد تانیا راضی ہو گئی جس کے بعد جلد ہی ملاقاتوں کا سلسلہ محبت میں بدل گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پروپوز کرنے کے لیے اداکار تانیا کو اسی کیفے میں لے گئے جہاں انہوں نے انہیں پہلی بار دیکھا تھا۔ تانیا نے بھی فوری شادی کے لیے ہاں کہہ دی تھی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Jacqueline Fernandezکو منی لانڈرنگ معاملے کے درمیان بیرون ملک جانے کی ملی اجازت

      یہ بھی پڑھیں:

      ایم پیNusrat Jahanپر چڑھا بولڈنیس کا خمار، شارٹ اسکرٹ اور ٹیوب ٹاپ میں ڈھایا قہر


      بتادیں کہ تانیا ایک کاروباری خاتون ہیں اور ان کا 'دی گڈ ارتھ' کے نام سے فرنیچر اور ہوم ڈیکوریٹرز کا کاروبار ہے۔ بتادیں کہ تانیا کا تعلق ایک بزنس فیملی سے ہے لیکن وہ لو پروفائل رہنا پسند کرتی ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: