உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گوا کے بیچ پر نیوڈ ہوکر دوڑتے نظر آئے ملند سومن تو بولے شیکھر سمن، عمر 55  کی اور حرکتیں۔۔۔

    ملند سومن کی نیوڈ تصویر شیکھر سمن کا رد عمل

    ملند سومن کی نیوڈ تصویر شیکھر سمن کا رد عمل

    ملند سومن کی نیوڈ تصویر کے چلتے حال ہی میں ان پر گوا میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔ اس تصویر میں ملند سومن نیوڈ ہوکر بیچ پر دوڑتے نظر آئے تھے جس کے سبب اب ان کی یہ تصویر تنازعہ میں گھری ہوئی ہے جس پر اب بالی ووڈ اداکار شیکھر سمن (Shekhar Suman) نے بھی رد عمل ظاہر کیا ہے۔

    • Share this:
      ممبئی: حال ہی میں بالی ووڈ اداکار اور ماڈل ملند سومن  (Milind Soman) نے اپنے 55  ویں یوم پیدائش کے موقع پر اپنی ایک تصیر شیئر کی تھی جس میں اداکار گوا (Milind Soman Nude Photo) میں ایک بیچ پر دوڑت ہوئے نظر آئے تھے۔ ملند سومن کی اس تصویر کے چلتے حال ہی میں ان پر گوا میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔ دراصل اس تصویر میں ملند سومن نیوڈ ہوکر بیچ پر دوڑتے نظر آئے تھے جس کے سبب اب ان کی یہ تصویر تنازعہ سے گھری ہوئی ہے جس پر اب بالی ووڈ اداکار شیکھر سمن  (Shekhar Suman)  نے بھی رد عمل ظاہر کیا ہے۔

      ادکار شیکھر سمن نے ملند سومن کی اس تصویر پر کمینٹ کرتے ہوئے بیحد ہی مزیدار ٹویٹ کیا ہے اوع اس پورے تنازعہ پر چٹکی لی ہے۔ شیکھر سمن نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے، ملند سمن، عمر پچپن کی اور حرکتیں بچپن کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک اسمائلی بھی پوسٹ کی ہے۔ شیکھر سمن کے اس پوسٹ پر اب فینس بھی مزیدار رد عمل دے رہے ہیں۔


      ایک یوزر نے شیکھر سمن کی تصویر پر کمینٹ کرتے ہوئے لکھا، عمر صڑف نمبر ہے سر، دل جوان ہونا چاہئے۔ وہیں ایک نے لکھا ملند بچپن کے وقت جیسے تھے، ویسے ہی دکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایک اور یوزر نے ملند سومن کی گرفتارئ نہ ہونے پر بھی سوال کھڑے کئے ہیں۔ یوزر نے کمینٹ میں لکھا۔ انہیں ابھی تک گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔



       




      View this post on Instagram




       

      Happy birthday to me ! . . . #55 📷 @ankita_earthy


      A post shared by Milind Usha Soman (@milindrunning) on






      دراصل ملند سومن کی اس تصویر پر کافی تنازعہ ہوا جس کے بعد گوا میں ملند سومن کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ان کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 294  اور آئی ٹی ٹکنالوجی کے دیگر سیکشن کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔
      Published by:sana Naeem
      First published: