உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Karnataka Hijab Row : اب اداکارہ کنگنا رناوت نے دیا بیان ، کہا : 'اگر ہمت دکھانی ہے تو.....'

    Kangana Ranaut On Hijab Row:  کنگنا رناوت  (Kangana Ranaut) بالی ووڈ کی ایک ایسی اداکارہ ہیں ، جو ملک میں چل رہے ہر بڑے معاملہ پر اپنی رائے رکھنے کیلئے جانی جاتی ہیں ۔

    Kangana Ranaut On Hijab Row: کنگنا رناوت (Kangana Ranaut) بالی ووڈ کی ایک ایسی اداکارہ ہیں ، جو ملک میں چل رہے ہر بڑے معاملہ پر اپنی رائے رکھنے کیلئے جانی جاتی ہیں ۔

    Kangana Ranaut On Hijab Row: کنگنا رناوت (Kangana Ranaut) بالی ووڈ کی ایک ایسی اداکارہ ہیں ، جو ملک میں چل رہے ہر بڑے معاملہ پر اپنی رائے رکھنے کیلئے جانی جاتی ہیں ۔

    • Share this:
      Kangana Ranaut On Hijab Row:  کنگنا رناوت  (Kangana Ranaut) بالی ووڈ کی ایک ایسی اداکارہ ہیں ، جو ملک میں چل رہے ہر بڑے معاملہ پر اپنی رائے رکھنے کیلئے جانی جاتی ہیں ۔ اس وقت ملک میں حجاب تنازع طول پکڑے ہوا ہے ۔ کرناٹک کے اڈوپی سے شروع ہوئے تنازع پر اس وقت پورے ملک میں بحث چل رہی ہے ۔ اس معاملہ پر بالی ووڈ ستارے بھی اپنے اپنے خیالات سوشل میڈیا پر شیئر کررہے ہیں ۔ اسی سلسلہ میں اب کنگنا رناوت نے اس معاملہ پر ایک انسٹا پوسٹ کی ہے ۔

      دراصل کنگنا رناوت نے اپنی انسٹا اسٹوری میں رائٹر آنند رنگناتھن کی پوسٹ کا پرنٹ شاٹ شیئر کیا ہے ، جس میں ایران کی جھلک دو تصویروں میں دکھائی گئی ہے ۔ اس میں ایک تصویر سال 1973 کی ہے اور دوسری ابھی کی ہے ۔ آنند رنگناتھن کی اس پوسٹ میں دکھایا گیا ہے کہ 1973 میں وہاں کی خواتین بکنی پہنی ہوئی ہیں اور ابھی کی تصویر میں برقع ، اسی پوسٹ کے پرنٹ شاٹ کو کنگنا نے اپنی انسٹا اسٹوری میں شیئر کیا ہے ۔



      آنند رنگناتھن کی اس پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے کنگنا نے لکھا : اگر ہمت دکھانی ہے تو افغانستان میں برقع نہ پہن کر کر دکھاو .... خود کو پنجرے سے آزاد کرنا سیکھیں ۔ کنگنا کی یہ پوسٹ اب سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے ۔ بتادیں کہ اس تنازع کی شروعات اس وقت شروع ہوئی جب اڈوپی کے گورنمنٹ پی یو کالج فار وومین میں چھ طالبات کو حجاب پہن کر آنے سے روک دیا گیا ۔

      اس کے بعد طالبات نے کالج انتظامیہ کے اس فیصلہ کی مخالفت کرتے ہوئے اس کو ماننے سے انکار کردیا ۔ معاملہ نے طول پکڑا تو کالج انتظامیہ نے طالبات کے والدین اور افسران کے ساتھ میٹنگ کی جو بے نتیجہ رہی ۔ حالات اتنے بگڑ گئے ہیں کہ اس معاملہ کو لے کر کئی جگہ احتجاج کے بعد کشیدگی بڑھ گئی ہے ۔ کچھ جگہوں سے پتھراو کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں ۔ حالات کو قابو میں کرنے کیلئے پولیس انتطامیہ کو دخل دینا پڑا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: