உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیمرے کے سامنے ہی کپڑے پہننے لگی یہ مشہور اداکارہ ، اس ویڈیو نے انٹرنیٹ پر مچایا تہلکہ

    کیمرے کے سامنے ہی کپڑے پہننے لگی یہ مشہور اداکارہ ، اس ویڈیو نے انٹرنیٹ پر مچایا تہلکہ ۔ تصویر : instagram@urfi7i

    کیمرے کے سامنے ہی کپڑے پہننے لگی یہ مشہور اداکارہ ، اس ویڈیو نے انٹرنیٹ پر مچایا تہلکہ ۔ تصویر : instagram@urfi7i

    عرفی جاوید (Urfi Javed) کے اس لک کو کئی یوزرس نے پسند کیا ہے تو کئی لوگوں نے انہیں ٹرول بھی کیا ہے ۔ ویڈیو میں جس حساب سے عرفی اپنی ڈریس کو ٹھیک کررہی ہیں ، اس کو لے کر کئی یوزرس نے فحش اور گندے کمنٹس بھی کئے ہیں ۔

    • Share this:
      ممبئی : اداکارہ عرفی جاوید نے اپنے آفیشیل انسٹاگرام پر ایک ویڈیو پوسٹ کیا ہے ، جس میں وہ تیار ہوتی نظر آرہی ہیں ۔ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کپشن میں لکھا : پورا لک دیکھنے کیلئے ویڈیو آخر تک دیکھیں ۔ یہ لک مجھے ناگن جیسا احساس دے رہا ہے ۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے آوٹ لک ڈیزائنر ، میک اپ مین اور ویڈیو شوٹ کرنے والے کو کریڈٹ بھی دیا ہے ۔ عرفی نے یہ ویڈیو ممبئی کے ایک ہوٹل کے اندر بنایا ہے ۔ جیسے ہی انہوں ںے اپنا یہ ویڈیو وپسٹ کیا تو کمنٹس اور لائیک کی برسات ہونے لگی ۔

      عرفی جاوید کے اس لک کو کئی یوزرس نے پسند کیا ہے تو کئی لوگوں نے انہیں ٹرول بھی کیا ہے ۔ ویڈیو میں جس حساب سے عرفی اپنی ڈریس کو ٹھیک کررہی ہیں ، اس کو لے کر کئی یوزرس نے فحش اور گندے کمنٹس بھی کئے ہیں ۔ ایک شخص نے لکھا : کیمرہ کے ساتھ ہی ڈریس صحیح کرنا سستی شہرت پانے کا طریقہ ہے ۔ ویسے یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے جب عرفی کو سوشل میڈیا یوزرس نے اپنے نشانے پر لیا ہو ، اکثر عرفی کو ان کی ڈریس کو لے کر ٹرول کیا جاتا ہے ۔ کچھ دن پہلے انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ لوگ میرے بارے میں کیا سوچتی ہیں ، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ۔



       




      View this post on Instagram





       

      A post shared by Urfi (@urf7i)





      عرفی جاوید نے بگ باس او ٹی ٹی میں حصہ لیا تھا ۔ مگر وہ بہت جلد ہی گھر سے باہر ہوگئی تھیں ۔ مگر کم وقت میں ہی سوشل میڈیا پر انہوں نے اچھی فین فالوئنگ بنا لی ہے ۔ عرفی کے انسٹاگرام پر اس وقت ساڑھے دس لاکھ سے زیادہ فالوورس ہیں ۔ اپنے فینس کو انگیج رکھنے کیلئے عرفی انسٹاگرام پر لگاتار گلیمرس تصاویر اور ویڈیوز اپ لوڈ کرتی رہتی ہیں ۔

       
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: