உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ای ڈی کے دفتر پنچیں مشہور ڈانسر نوفتیحی، منی لانڈرنگ کیس میں ہوگی پوچھ۔گچھ

    Youtube Video

    معلومات کے مطابق ، نورا فتیحی کو دہلی کی تہاڑ جیل میں بند مہا نٹور لال سکیش چندر شیکھر نے 200 کروڑ روپے کے دھوکہ دہی کے معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (Enforcement Directorate) نے طلب کیا تھا۔

    • Share this:
      بالی ووڈ اداکارہ نورا فتیحی  (Nora Fatehi) انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے دفتر پہنچ گئی ہیں۔ ای ڈی نے اداکارہ  نورا  کو آج (14 اکتوبر) دہلی میں اپنے دفتر میں 200 کروڑ روپے کے فراڈ کیس میں پوچھ گچھ کے لیے بلایا تھا۔ اس معاملے میں جیکلین فرنانڈیز  (Jacqueline Fernandez)   کو بھی ای ڈی (ED)  نے دوبارہ طلب کیا ہے۔

      معلومات کے مطابق ، نورا فتیحی کو دہلی کی تہاڑ جیل میں بند مہا نٹور لال سکیش چندر شیکھر نے 200 کروڑ روپے کے دھوکہ دہی کے معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (Enforcement Directorate) نے طلب کیا تھا۔



      اسی دوران ، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے ، جیکلین فرنانڈیز  (Jacqueline Fernandez)  کو 15 اکتوبر کو پوچھ گچھ کے لیے ای ڈی آفس بلایا گیا ہے۔

      Nora Fatehi, Nora Fatehi Summoned By ED , Enforcement Directorate, money laundering case, Sukesh Chandrasekhar Case, Jacqueline Fernandez, नोरा फतेही, नोरा फतेही को ईडी का नोटिस
      ای ڈی کا نوٹس۔۔


      کئی لوگوں کو بنایا شکار
      دراصل یہ کہا جا رہا ہے کہ جس طرح سکیش نے دوسرے لوگوں کو اپنے جال میں پھنسایا تھا ، اسی طرح اس نے نورا کو اپنے جال میں پھنسانے کی سازش کی تھی۔

      کون ہے سکیش چندر شیکھر
      بنگلور، کرناٹک سے آنے والے سکیش چندرشیکھر کو عیاش زندگی گزارنے کے شوق سے ایک شاطر  ٹھگ بنا دیا جب سکیش کو بنگلور پولیس نے پہلی بار گرفتار کیا تھا ، تب اس کی عمر صرف 17 سال تھی۔ اس نے کرناٹک کے سابق سی ایم ایچ ڈی کمار سوامی کے بیٹے کے دوست بن کر 1.14 کروڑ روپے کا دھوکہ دیا تھا۔ اسی وقت جب بنگلور میں اس کی پول  کھلنے لگی تو وہ بھاگ کر چنئی چلا گیا۔ 2007 کے بعد سے سکیش نے مسلسل اپنے ٹھکانے بدلے۔ اسے خوبصورت گھروں اور لگژری کاروں کا شوق ہے۔ ان میں سے کچھ کو ای ڈی نے ضبط کر لیا ہے۔ سکیش نے ملک کے بڑے شہروں میں مشہور شخصیات کو اپنا شکار بنایا ہے۔ اس کا دوسرا نام 'بالاجی' بھی ہے۔ چندرشیکھر  کے خلاف ملک بھر میں 20 سے زائد مقدمات درج ہیں۔

       
      Published by:Sana Naeem
      First published: