ہوم » نیوز » انٹرٹینمنٹ

کشمیر پر پھر بولیں 'دنگل گرل' زائرہ وسیم، کہا- امن امان کی پیش کی جارہی ہے جھوٹی تصویر

عامر خان  (Aamir Khan) کی فلم 'دنگل' (Dangal) سے زائرہ وسیم (Zaira Wasim) نے بالی ووڈ میں ڈیبیو کیا تھا۔ حالانکہ اب انہوں نے اداکارہ چھوڑ دی ہے۔ وہ کشمیر کی رہنے والی ہیں۔

  • Share this:
کشمیر پر پھر بولیں 'دنگل گرل' زائرہ وسیم، کہا- امن امان کی پیش کی جارہی ہے جھوٹی تصویر
کشمیر پر پھر بولیں 'دنگل گرل' زائرہ وسیم

ممبئی: عامر خان کی فلم 'دنگل' سے بالی ووڈ ڈیبیو کرنے والی اداکارہ زائرہ وسیم نے فلمی دنیا چھوڑ دی ہے۔ جموں وکشمیر کی رہنے والی زائرہ وسیم وقت وقت پر کشمیر کے حالات پر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتی رہتی ہیں۔ زائرہ وسیم نے منگل کو کہا کہ کشمیر میں امن امان کی غلط اور جھوٹی تصویر پیش کی جارہی ہے۔


نیشنل ایوارڈ سے سرفراز اداکارہ نے لوگوں سے میڈیا کے ذریعہ کئے جارہے غلط حقائق پر اعتماد نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وادی میں بے حد مایوس کن حالات ہیں۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے گزشتہ سال 5 اگست کو جموں وکشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کے بیشتر التزام ہٹانے  اور ریاست کی تقسیم کرکے مرکز کے زیرانتظام جموں وکشمیر اور لداخ میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔


زائرہ وسیم نے عامر خان کی فلم 'دنگل' سے بالی ووڈ میں ڈیبیو کیا تھا۔ تصویر: یو ٹیوب


زائرہ وسیم نے انسٹا گرام پر ایک پوسٹ میں لکھا، 'کشمیر امید اور مایوسی کے درمیان کہیں جھول رہا ہے۔ بڑھتی مایوسی اور افسوس کے بجائے امن وامان کی غلط اور جھوٹی تصویر پیش کی جارہی ہے۔ کشمیر ایک ایسے دور میں مسلسل استحصال کا شکار ہے، جہاں ہماری آزادی پر پابندی عائد کرنا بے حد آسان ہے۔

 



 




View this post on Instagram




 

Kashmir continues to suffer and see- saw between hope and frustration। There’s a false and uneasy semblance of calmness in place of escalating despair and sorrow। Kashmiris continue to exist and suffer in a world where it is so easy to place restrictions on our liberty. Why do we have to live in a world where our lives and wills are controlled, dictated and bent? Why is it so easy to have our voices silenced? Why is it so easy to curtail our freedom of expression? Why aren’t we ever allowed to voice our opinions, let alone our disprovals, to decisions that are made contrary to our wishes? Why is it that instead of trying to see the cause of our view, our view is just condemned ruthfully? What is so easy to curb our voices so severely? Why can we not live simple lives without always having to wrestle and remind the world of our existence. Why is that life of a Kashmiri is just about experiencing a lifetime of crisis, blockade and disturbance so abundantly that it has taken away the recognition of normalcy and harmony from the hearts and minds? Hundreds of questions like these-unanswered; leaving us bewildered and frustrated, but our frustrations find no outlet. The authority doesn’t make the slightest effort to put a stop to our doubts and speculations but stubbornly tend to go their own way to confine our existence mired in a confused, conflicted and a paralysed world. But I ask the world, what has altered your acceptance of the misery and oppression we’re being subjected to? Do not believe the unfair representation of the facts and details or the rosy hue that the media has cast on the reality of the situation. Ask questions, re-examine the biased assumptions. Ask questions. For our voices have been silenced- and for how long....none of us really know!


A post shared by Zaira Wasim (@zairawasim_) on






زائرہ وسیم نے انسٹا گرام پر مزید لکھا 'ہم ایسی دنیا میں کیوں جی رہی ہے، جہاں کسی کی آزادی پر پابندی لگانا کافی آسان ہے۔ ہمیں ایسی دنیا میں کیوں رہنا پڑ رہا ہے، جہاں پر ہماری زندگی اور خواہش کو کنٹرول کیا جارہا ہے۔ ہماری زندگی کو لے کر تانا شاہی ہورہی ہے۔ ہماری آواز کو خاموش کرنا اتنا آسان کیوں ہے'۔؟
First published: Feb 04, 2020 11:59 PM IST