உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دیپکا پڈوکون نے پہنا ایسا 'کوٹ' تو سوشل میڈیا پر لوگوں نے پکڑلیا اپنا سر، کہہ ڈالی ایسی بات

    دیپکا پڈوکون نے پہنا ایسا 'کوٹ' تو سوشل میڈیا پر لوگوں نے پکڑلیا اپنا سر، کہہ ڈالی ایسی بات ۔ (Viral Bhayani)

    اداکارہ دیپیکا پڈوکون (Deepika Padukone) منگل کو ممبئی کے پرائیویٹ ایئرپورٹ کے باہر دیکھی گئیں ۔ اداکارہ زارا برانڈ کے ساٹن ٹراوزرس اور اوور سائزڈ کوٹ میں نظر آئیں ۔ پھر کیا تھا ، دیپیکا کے اس لک پر لوگوں نے چٹکیاں لینی شروع کردی ۔  

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      ممبئی : دیپیکا پڈوکون بالی ووڈ کی سب سے اسٹائلش اور خوبصورت اداکاراوں میں شمار کی جاتی ہیں ۔ خواہ سلیک ہیئر ڈو ہو یا پھر باڈی کان ڈریسیز ، دیپیکا کا فیشن ہمیشہ سے ٹاپ پر رہتا ہے ۔ لیکن رنویر سنگھ سے شادی کے بعد سے ہی دیپیکا پڈوکون کئی مواقع پر اپنی عجیب و غریب ڈریس کی وجہ سے ٹرولرس کے نشانے پر آجاتی ہیں ۔ منگل کو بھی کچھ ایسا ہی ہوا ، جب دیپیکا کی ڈریس کو دیکھ کر لوگ سکتے میں آگئے ۔ کئی لوگوں نے تو ان کی اس ڈریس کے پیچھے شوہر رنویر سنگھ کو ہی ذمہ دار ٹھہرا دیا ۔

      منگل کو دیپیکا ممبئی کے پرائیویٹ ایئرپورٹ کے باہر دیکھی گئیں ۔ یہان دیپیکا گرین آور آل ڈریس کے ساتھ لمبا ونٹر کوٹ پہنے ہوئی نظر آئیں ۔ اس کوٹ پر گرین بڑے چیک بنے ہوئے تھے ۔ دیپیکا کو اس اوتار میں دیکھ کر کئی لوگوں نے حیرانگی کا اظہار کیا ۔

      تصویر : Viral Bhayani
      تصویر : Viral Bhayani


      دیپیکا پڈوکون زارا برانڈ کی اس ڈریس میں یہاں نظر آئیں ۔ انہوں نے زارا کا ساٹن ٹراوزرس پہن رکھا تھا ، جس کی قیمت تقریبا تین ہزار روپے ہے ۔ اس کے ساتھ ہی اداکارہ نے اوور سائزڈ پلیڈ کوٹ لیمیٹڈ ایڈیشن پہنا ہوا تھا ، جس کی قیمت تقریبا ڈھائی ہزار روپے ہے ۔

      تصویر : Viral Bhayani
      تصویر : Viral Bhayani


      ایک یوزر نے دیپیکا کے اس لک پر لکھا : ممبئی میں سردی آگئی ہے کیا ؟ تو وہیں ایک دوسرے یوزر نے لکھا : ممبئی میں ونٹر کوٹ ۔۔۔۔ سچ میں ؟ ارے یہاں تو سردی میں بھی کوئی ونٹر کوٹ نہیں پہنتا ہے ۔ ایک دوسرے یوزر نے لکھا : لگتا ہے کہ رنویر سے متاثر ہیں ، لیکن وہ پھر بھی شاندار لگ رہی ہیں ۔ ایک اور یوزر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ لگتا ہے کہ دیپیکا آپریشن تھئیٹر سے نکلنے کے بعد اپنی ڈریس تبدیل کرنا بھول گئی ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: