ہوم » نیوز » انٹرٹینمنٹ

اداکارہ کنگنا رناوت نے بمبئی ہائی کورٹ سے کہا : بنگلہ میں نہیں کرائی تھی غیر قانونی تعمیر

بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اس انہدام کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور عدالت بی ایم سی کو ہدایت جاری کرے کہ انھیں 2 کروڑ روپے کی رقم ادا بطور ہرجانہ دی جائے ۔

  • UNI
  • Last Updated: Sep 21, 2020 11:36 PM IST
  • Share this:
اداکارہ کنگنا رناوت نے بمبئی ہائی کورٹ سے کہا : بنگلہ میں نہیں کرائی تھی غیر قانونی تعمیر
اداکارہ کنگنا رناوت نے بامبے ہائی کورٹ سے کہا : بنگلہ میں نہیں کرائی تھی غیر قانونی تعمیر

بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت نے آج بمبئی ہائی کورٹ کو بتایا کہ انہوں نے بنگلہ کےکسی بھی حصے میں کوئی غیر قانونی اضافہ اور ردوبدل نہیں کیا تھا ، جسے ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے 9 ستمبر کو غیر قانونی طور پر مسمار کیا تھا ۔ عدالت کے روبرو اپنے ایک حلف نامہ میں رناوت نے ممبئی شہری ادارہ کے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ انہوں نے اپنے پالی ہل میں واقع بنگلے میں غیر قانونی طور پر ردوبدل کیا ہے ۔ نیز عدالت سے انہوں نے یہ استدعا کی ہے کہ اس انہدام کو غیر قانونی قرار دیا جائے اور عدالت بی ایم سی کو ہدایت جاری کرے کے انھیں 2 کروڑ روپئے کی رقم ادا بطور ھرجاںہ دی جائے ۔ ادکارہ نے اپنی عرضداشت کو قانون کے عمل کی غلط استعمال کرنے سے بھی انکارکیا ۔


خیال رہے کہ گزشتہ ہفتہ بی ایم سی نے بمبئی ہائی کورٹ کے سامنے ایک حلف نامہ داخل کیا تھا ، جس میں رناوت کی اس درخواست کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اداکارہ نے شہری ادارہ کی اجازت کے بغیر عمارت میں بڑی ساختی تبدیلیاں کی ہیں ۔ نیز عدالت رناوت کی درخواست مسترد کرکے اس پر غیر ضروری عرضداشت کرکے عدالت کا وقت برباد کرنے پر جرمانہ عائد کرے ۔


عدالت کے روبرو اپنے ایک حلف نامہ میں رناوت نے ممبئی شہری ادارہ کے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ انہوں نے اپنے پالی ہل میں واقع بنگلے میں غیر قانونی طور پر ردوبدل کیا ہے ۔
عدالت کے روبرو اپنے ایک حلف نامہ میں رناوت نے ممبئی شہری ادارہ کے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ انہوں نے اپنے پالی ہل میں واقع بنگلے میں غیر قانونی طور پر ردوبدل کیا ہے ۔


اداکارہ نے اس سے قبل یہ الزام لگایا تھا کہ بی ایم سی نے اس کے بنگلے کو اس لٰئے انہدام کیا تھا کیونکہ اس کے کچھ تبصرے مہاراشٹرا کی شیوسینا کی قیادت والی حکومت کے خلاف تھے۔  9 ستمبر کو ، جسٹس کتھاوالا کی سربراہی والی بنچ نے اس انہدام پر روک لگائی تھی اور ریمارکس دیئے تھے کہ شہری ادارہ کا عمل بدنیتی پر مبنی لگتا ہے ۔ ہائی کورٹ اس پر حتمی سماعت کل متوقع ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 21, 2020 11:35 PM IST