ہوم » نیوز » انٹرٹینمنٹ

دلیپ کمار سے متعلق نصیرالدین شاہ نے کہا- مستقبل کے اداکار کے لئے انہوں نے کوئی اہم سبق نہیں چھوڑا

نصیر الدین شاہ (Naseeruddin Shah) نے لکھا کہ دلیپ کمار (Dilip Kumar) نے کبھی بھی اپنے تجربہ کا فائدہ نہیں اٹھایا، کسی کو تیار کرنے کی زحمت نہیں اٹھائی۔

  • Share this:
دلیپ کمار سے متعلق نصیرالدین شاہ نے کہا- مستقبل کے اداکار کے لئے انہوں نے کوئی اہم سبق نہیں چھوڑا
دلیپ کمار سے متعلق نصیرالدین شاہ نے کہا- مستقبل کے اداکار کے لئے انہوں نے کوئی اہم سبق نہیں چھوڑا

ممبئی: بالی ووڈ کے عظیم اداکار دلیپ کمار (Dilip Kumar) اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ 98 سال کی عمر میں انہوں نے 7 جولائی 2021 کو اس دنیا کو الوداع کہہ دیا۔ دلیپ کمار (Dilip Kumar Passes Away) کے جانے سے اب بھی ان کے مداح مایوس ہیں۔ دلیپ کمار کو بالی ووڈ انڈسٹری میں اداکاری کا ادارہ کہا جاتا تھا۔ اداکاری کی دنیا میں قدم رکھنے والا ہر فنکار ان سے متاثر تھا۔ حال ہی میں نصیرالدین شاہ (Naseeruddin Shah) نے دلیپ کمار کی رخصتی پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ نصیر الدین شاہ کا کہنا ہے کہ وہ بھی آنجہانی اداکار کی طرف ویسے ہی دیکھتے تھے، جیسے کہ کوئی دیگر سنیما مداح۔ ہندوستانی سنیما میں دلیپ کمار کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔


دلیپ کمار کے بارے میں بات کرتے ہوئے نصیرالدین شاہ نے ایک سوال اٹھایا ہے۔ وہ کہتے ہیں- ’کیا ایک اداکار کے طور پر ان کی مثال تقلید کے قابل تھی۔ ہندی سنیما آج پوری طرح اسٹار سینٹریٹی میں ڈوبا ہوا ہے’۔ انڈین ایکسپریس کے لئے لکھے گئے اپنی رائے میں نصیرالدین شاہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ کیسے دلیپ کمار کے ایکسپریشن ’جعلی ڈرامہ‘ کٹر آواز اور مسلسل ہاتھ ہلانے کے اقدار پر عمل نہیں کرتے تھے۔


نصیر الدین شاہ نے لکھا کہ دلیپ کمار نے کبھی بھی اپنے تجربہ کا فائدہ نہیں اٹھایا، کسی کو تیار کرنے کی زحمت نہیں اٹھائی۔
نصیر الدین شاہ نے لکھا کہ دلیپ کمار نے کبھی بھی اپنے تجربہ کا فائدہ نہیں اٹھایا، کسی کو تیار کرنے کی زحمت نہیں اٹھائی۔


وہ لکھتے ہیں- ’ان کا پیارا پرسکون اور بے عیب تسکین نے ہندوستانی فلموں میں اچھی اداکاری کے لئے ایک پیمانہ قائم کیا۔ ان کی چال اور ہاو بھاو ان کے ساتھیوں اور یہاں تک کہ ان کے بعد آنے والے لوگوں کے بھی سمجھ نہیں آیا۔ حالانکہ کئی لوگوں نے ان کے اسٹائل کو کاپی کرنے کی کوشش کی، لیکن سبھی ناکام رہے‘۔

نصیرالدین شاہ مزید لکھتے ہیں، ’وہ جس حالت میں تھے، اس سے واضح ہے کہ انہوں نے صرف اداکاری ہی نہیں، بلکہ سماجی کاموں میں مناسب طریقے سے شامل نہیں ہوسکے، جو دل کے قریب تھے۔ انہوں نے کبھی بھی اپنے تجربہ کا فائدہ نہیں اٹھایا، کسی کو تیار کرنے کی زحمت نہیں اٹھائی اور 1970 کے دہائی سے پہلے کی اپنی پرفارمنس کے علاوہ مستقبل کے فنکاروں کے لئے کوئی اہم سبق نہیں چھوڑا‘۔

 
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 13, 2021 09:21 AM IST