உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آرین خان معاملے میں این سی بی کے گواہ کرن گوساوی کو پونے پولیس نے حراست میں لیا

    Aryan Khan Case: گوساوی کے خلاف مختلف تھانوں میں تین مقدمات درج ہیں۔ پونے پولیس کے کمشنر نے ان کی حراست کی تصدیق کی ہے۔

    Aryan Khan Case: گوساوی کے خلاف مختلف تھانوں میں تین مقدمات درج ہیں۔ پونے پولیس کے کمشنر نے ان کی حراست کی تصدیق کی ہے۔

    Aryan Khan Case: گوساوی کے خلاف مختلف تھانوں میں تین مقدمات درج ہیں۔ پونے پولیس کے کمشنر نے ان کی حراست کی تصدیق کی ہے۔

    • Share this:
      ممبئی: این سی بی NCB کے گواہ کرن گوساوی (Kiran Gosavi)  کو پونے پولیس کی کرائم برانچ نے اداکار شاہ رخ خان (Shahrukh Khan) کے بیٹے آرین خان (Aryan Khan) سے متعلق منشیات کیس میں حراست میں لے لیا ہے۔ گوساوی گزشتہ کئی دنوں سے فرار تھے۔ گوساوی کے خلاف مختلف تھانوں میں تین مقدمات درج ہیں۔ پونے پولیس کے کمشنر نے ان کی حراست کی تصدیق کی ہے۔ پونے پولیس کمشنر امیتابھ گپتا نے کہا کہ این سی بی کے گواہ کرن گوساوی کو ڈرگ آن کروز کیس میں حراست میں لیا گیا ہے۔ پونے پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ گوساوی نے خودسپردگی نہیں کی لیکن آپریشن کے دوران اسے حراست میں لے لیا گیا۔ اب اس کی گرفتاری کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گوساوی کی تلاش تقریباً 3 سال سے جاری تھی۔ تین دن پہلے گوساوی نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اتر پردیش کے لکھنؤ کے مدیانو پولیس اسٹیشن میں خودسپردگی کرنے جا رہے ہیں۔

      وہیں حراست میں لینے سے پہلے گوساوی نے اپنے ساتھی پربھاکر سائل کے دعوؤں کو جھوٹا قرار دیا۔ اے این آئی ANI  کے مطابق گوساوی نے کہا- 'پربھاکر سائل جھوٹ بول رہا ہے۔ میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ان کی سی ڈی آر رپورٹ جاری کی جائے۔ میری سی ڈی آر رپورٹ یا چیٹ جاری کی جا سکتی ہے۔ پربھاکر سائل اور اس کے بھائی کی سی ڈی آر رپورٹ کے ساتھ ساتھ چیٹس بھی سامنے آئیں تو سب کچھ واضح ہو جائے گا۔

      کم از کم کوئی لیڈر میری حمایت میں آئے: گوساوی
      گوساوی نے کہا، 'مہاراشٹر کے کم از کم ایک وزیر یا اپوزیشن کے کسی لیڈر کو میری حمایت میں کھڑا ہونا چاہئے، میں جو مطالبہ کر رہا ہوں انہیں (اپوزیشن لیڈر) کو بھی پولیس سے درخواست کرنی چاہئے کہ ایک بار سائل اور ان کے بھائی کی سی ڈی آر رپورٹ سامنے آنے کے بعد معاملہ پوری طرح واضح ہو جائے گا۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: