ہوم » نیوز » انٹرٹینمنٹ

عرفان خان کو یاد کر کے اہلیہ ستاپا پھر ہوئیں جذباتی، بتایا۔ 'بیوہ ہونے کا درد'

بالی ووڈ اداکار عرفان خان کو انتقال ہوئے 5 مہینے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے، لیکن دن جیسے جیسے گزر رہے ہیں، ویسے ویسے ان کی اہلیہ ستاپا سکدر کے لئے دن اکیلے گزارنا مشکل ہو رہا ہے۔ ستاپا کئی بار عرفان کو یاد کر جذباتی ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کئی جذباتی پوسٹ کئے جس نے ہر کسی کی آنکھوں کو نم کر دیا۔

  • Share this:
عرفان خان کو یاد کر کے اہلیہ ستاپا پھر ہوئیں جذباتی، بتایا۔ 'بیوہ ہونے کا درد'
عرفان خان کو یاد کر کے اہلیہ ستاپا پھر ہوئیں جذباتی، بتایا۔ 'بیوہ کا درد'

 ممبئی۔ بالی ووڈ اداکار عرفان خان (Irrfan Khan) کو انتقال ہوئے 5 مہینے سے زیادہ کا وقت گزر چکا ہے، لیکن دن جیسے جیسے گزر رہے ہیں، ویسے ویسے ان کی اہلیہ ستاپا سکدر (Sutapa Sikdar) کے لئے دن اکیلے گزارنا مشکل ہو رہا ہے۔ ستاپا کئی بار عرفان کو یاد کر جذباتی ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کئی جذباتی پوسٹ کئے جس نے ہر کسی کی آنکھوں کو نم کر دیا۔ حال ہی میں انہوں نے عرفان کی لال گلاب سے سجی قبر کا فوٹو شئیر کرتے ہوئے نہ صرف انہیں یاد کر جذباتی ہوئیں بلکہ ایک بیوہ کے درد کو بیان کر بتایا کہ بیوہ ہو کر اکیلے زندگی گزارنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔


ستاپا سکدر نے عرفان خان کو یاد کرتے ہوئے انسٹاگرام پر بیحد جذباتی پوسٹ شئیر کی ہے۔ انہوں نے نوبل انعام یافتہ مصنف لوئس گلکس کی ایک شاعری شئیر کی ہے جس میں ایک بیوہ کے درد اور اس کے دل کی حالت کا ذکر کیا گیا ہے۔


میں آپ کو کچھ بتاوں گی: ہر روز


لوگ مر رہے ہیں اور یہ صرف شروعات ہے

ہر دن، شمشانوں میں، نئی بیواوں کا جنم ہوتا ہے

 

نئے یتیم، وہ ہاتھ جوڑ کر بیٹھے ہوئے ہیں

اس نئی زندگی کے بارے میں فیصلہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں



 




View this post on Instagram




 

I'll tell you something: every day people are dying. And that's just the beginning. Every day, in funeral homes, new widows are born, new orphans. They sit with their hands folded, trying to decide about this new life. Then they're in the cemetery, some of them for the first time. They're frightened of crying, sometimes of not crying. Someone leans over, tells them what to do next, which might mean saying a few words, sometimes throwing dirt in the open grave. And after that, everyone goes back to the house, which is suddenly full of visitors. The widow sits on the couch, very stately, so people line up to approach her, sometimes take her hand, sometimes embrace her. She finds something to say to everbody, thanks them, thanks them for coming. In her heart, she wants them to go away. She wants to be back in the cemetery, back in the sickroom, the hospital. She knows it isn't possible. But it's her only hope, the wish to move backward. And just a little, not so far as the marriage, the first kiss. by #Louise Gluck#Nobelprize#celebratinglifeand death


A post shared by Sutapa Sikdar (@sikdarsutapa) on





پھر وہ قبرستان میں ہوتے ہیں ان میں سے کچھ پہلی بار

وہ رونے سے ڈرتے ہیں، کبھی رونے کا نہیں

کوئی انہیں سہارا دے کر یہ بتاتا ہے کہ آگے کیا کرنا ہے

جس کا مطلب ہو سکتا ہے کچھ لفظ کہنا

پھر کھلی قبر میں مٹی پھینکنا

 

اور اس کے بعد، سبھی گھر واپس چلے جاتے ہیں

جو اچانک تعزیت کے لئے آنے والوں سے بھرا ہوتا ہے

بیوہ صوفے پر بیٹھتی ہے، لوگ لائن میں لگے ہیں

کبھی اس کا ہاتھ تھامتے ہیں، کبھی گلے لگاتے ہیں

وہ ہر ایک سے کہنے کے لئے کچھ کھوجتی ہے

ان کا شکریہ ادا کرتی ہے، ان کے آنے کے لئے شکریہ ادا کرتی ہے

 

اس کے دل میں کچھ ہے، وہ چاہتی ہے کہ وہ چلے جائیں

وہ قبرستان میں واپس آنا چاہتی ہے

واپس اس کی بیماری والے کمرے میں، اسپتال میں

وہ جانتی ہے یہ ممکن نہیں ہے

لیکن یہ اس کی واحد امید ہے، پیچھے جانے کی خواہش ہے

اور بس تھوڑا سا نہیں، نہ شادی تک بلکہ پہلے کس تک
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 09, 2020 09:27 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading